آوارہ بیل
ابھی کل ہی ہم نے شفیق الرحمن کی تازہ کتاب ’’دجلہ‘‘ ختم کی ہے جس کی ایک کہانی میں انہوں نے جعفر زٹلی کی ایک
ابھی کل ہی ہم نے شفیق الرحمن کی تازہ کتاب ’’دجلہ‘‘ ختم کی ہے جس کی ایک کہانی میں انہوں نے جعفر زٹلی کی ایک
لانگ مارچ کبھی جلوس کہلاتا تھا پھر یہ احتجاج، ریلی اور لانگ مارچ کے نئے اور جدید نام اختیار کرتا گیا۔ لانگ مارچ ہو تو
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ٹالسٹائی کا یہ جملہ کہ تمام سکھی گھرانے ایک جیسے ہوتے ہیں جبکہ ہر دکھی گھرانے کا دکھ جدا
میں سماجی علوم کا طالب علم ہوں، بنیادی طور پر معاشیات میرا موضوع نہیں لیکن علم سیاسیات، علم صحافت اور قرآن و حدیث کیساتھ علم
ریاست محض نقشے پر کھینچی ہوئی سرحدوں، دارالحکومتوں اور انتظامی اکائیوں کا مجموعہ نہیں؛ ریاست دراصل شہری اور اقتدار کے درمیان قائم اس عہد کا
کبھی کبھی قومیں اپنے قیمتی ہیرے خود اپنے ہاتھوں سے کھو دیتی ہیں۔زمانہ طالب علمی میں جب میں دیکھتی تھی کہ ہمارے ملک کے بہت
پاکستان ایک ايسا ملک ہے، جہاں مختلف قومیتیں، زبانیں، ثقافتیں اور روایات مل کر اس ملک کی شناخت بناتی ہیں۔ ایسے معاشرے میں ٹی وی
وقت کا ظلم آواز دیے بغیر ہمارے برسوں، ہمارے موسموں اور ہماری محبتوں کو لمحوں اور گھنٹوں کے سموں تلے کچلتا اس کج کلاہی سے
ہم لوگوں کو’ناشکری‘کی سزا تو ملنا ہی تھی ، بھلے وقتوں میں چور ہوا کرتے تھے ہم نے انکی قدر نہیں کی ۔ چنانچہ وہ
ہونی ہونے سے نہیں رکتی کوّا لاکھ کائیں کائیں کر کے خطرے کی اطلاع دے کوئی سنتا تھوڑا ہے۔ تمام قرائن بتا رہے ہیں کہ