اسلام آباد میں مساجد گرانے کا معاملہ ؛ قانون، ماحولیات اور مذہبی جذبات کی کشمکش
اسلام آباد، جسے پاکستان کا چہرہ اور شہرِ اقتدار کہا جاتا ہے، حالیہ دنوں ایک نہایت حساس اور متنازع معاملے کی زد میں ہے.دارالحکومت کی
اسلام آباد، جسے پاکستان کا چہرہ اور شہرِ اقتدار کہا جاتا ہے، حالیہ دنوں ایک نہایت حساس اور متنازع معاملے کی زد میں ہے.دارالحکومت کی
انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں جب پڑھائی کا آغاز ہوا تو پہلے ہی روز مجھے اپنے استاد سر ظفر اقبال صاحب (حال وائس چانسلر گومل یونیورسٹی)
یہ ایک دلچسپ بحث تھی۔ ایک معروف برطانوی یونیورسٹی کے دو پروفیسر صاحبان میں یہ بحث ہو رہی تھی کہ کیا قیام پاکستان واقعی ایک
سر سید احمد خان نے مقامی دانش کی وجہ سے اسے پنجاب کا خطّہ یونان قرار دیا، میرے پرکھوں کے دیس، گجرات میں دریائے چناب
پاکستان کے خطہ پوٹھوہار کی سنگلاخ پہاڑیوں کے دامن میں، شہر اقتدار سے کراچی جانے والی ہائی وے کے کنارے واقع نمل ڈیم صرف ایک
8 اگست 2025 کو مختلف قومی اخبارات اور نیوز ویب سائٹس، مثلاً ڈان اور جیو نیوز کے مطابق، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین
براتس لاوا ٹرین اسٹیشن پر ٹکٹ لینے پہنچے تو کاؤنٹر پر موجود خاتون اپنی زندگی سے بیزار نظر آئی، سوائے ٹکٹ کی قیمت کے ہم
جماعت اسلامی آز اول تا آخر دعوت دین اور اقامت دین کی ایک ہمہ گیر تحریک ہے۔ انفرادی طور پر جماعت کا کام افکار کی
ان دنوں ممبئی کے جاوید اختر پاکستان میں بہت ’’اِن‘‘ ہیں، انہوں نے گزشتہ دنوں پاکستان کے بارے میں کافی زہر اُگلا اور اسکا جواب
کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کے اندر آپ اپنے پلاٹ کے گرد چار دیواری بنا کر ایک گائے یا بھینس، جس کا دودھ آپ اپنے گھر میں
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے