کاش میرا بھی ایک اخبار ہوتا!
بلوچستان کا ‘کاغذی’ میڈیا: 52 کروڑ کی ردی، مگرمچھوں کے آنسو اور صحافیوں کی خالی جیبیں (خصوصی رپورٹ: مرتضیٰ زیب زہری) کوئٹہ میں میرا ایک
بلوچستان کا ‘کاغذی’ میڈیا: 52 کروڑ کی ردی، مگرمچھوں کے آنسو اور صحافیوں کی خالی جیبیں (خصوصی رپورٹ: مرتضیٰ زیب زہری) کوئٹہ میں میرا ایک
قیامِ پاکستان کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ یہاں اسلام کا عادلانہ اور منصفانہ نظام قائم کیا جائے۔ تحریکِ پاکستان کے دوران مسلمانانِ برصغیر نے
آج آپ کو بڑی تکلیف ہوتی ہے کہ ایک سرکاری افسر کیسے ایسی پریس کانفرنس کر سکتا ہے، اس وقت تو و تعز من تشاء
ہمارا معاشرہ آج بھی اُس ذہنی پسماندگی کا شکار ہے جہاں بیٹی کی پیدائش پر گھر کا ماحول بوجھل ہو جاتا ہے۔ کئی گھروں میں
یہ 2025 ہے۔ ہم جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور بیداری کے دور میں جی رہے ہیں، مگر المیہ یہ ہے کہ آج بھی لوگ پراسرار
ایبٹ آباد کی پرسکون گلیوں میں رہنے والی ڈاکٹر وردہ دو معصوم بچوں کی ماں تھیں۔ ایک ماہر ڈاکٹر، ایک محنتی خاتون، اور سب سے
مصر کو اُمُّ الدنیا کہا جاتا ہے، یعنی دنیا کی ماں۔ یہ بات سمجھنے کے لیے مصر دیکھنا تو پڑتا ہے، ورنہ کیسے سمجھ آئے
بظاہر بھرے ڈیم اور پھر بھی پانی کی کمی ، یہی تضاد پاکستان کے حقیقی آبی بحران کو بے نقاب کرتا ہے کئی برس کی
(ریڈیو پاکستان……. خصوصی نشریہ) یہ ریڈیو پاکستان ہے… اور میں ہوں امیرجان حقانی، آج کے پروگرام میں ہم گفتگو کر رہے ہیں ایک ایسے موضوع
مہر سعید سے دبئی میں کئی ملاقاتیں ہوئی تھیں، دوسروں کی بالنسبت یہ بندہ کچھ اچھا نظر آیا تھا، پہلے البراحہ جیسے بدنام ایریا میں
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے