منظور پشتین کی خدمت میں
منظور پشتین نے بلاشبہ ایک اچھا اجتماع کیا ، پشتونوں نے اسکی آواز پر لبیک کہا ، لاکھوں لوگ جمع ہوئے اور ریاست کے سامنے
منظور پشتین نے بلاشبہ ایک اچھا اجتماع کیا ، پشتونوں نے اسکی آواز پر لبیک کہا ، لاکھوں لوگ جمع ہوئے اور ریاست کے سامنے
پشتون جرگے کی مختصر کہانی مکمل ہے، مگر سندھ سے پہنچنے والی تین تصویروں نے توجہ کھینچ لی ہے۔ یہ تصاویر تین دن بعد پشاور
چھبیسویں آئینی ترمیم کی ’اُونٹنی‘، آئندہ چار چھ دِنوں میں کسی نہ کسی کروٹ بیٹھ جائیگی۔ دو ہی ممکنات ہیں۔ ایک یہ کہ ترمیم کسی
ایک دن وہ چپ چاپ، بغیر کچھ کہے، ہمیشہ کے لیے میری زندگی سے رخصت ہو گیا۔ جیسے ہوا کے ایک جھونکے کی طرح، جو
“اقتدار کی خواہش” فریڈرک نطشے کے essays اور مضامین کی کتاب ہے جو اس کے فلسفیانہ خیالات پر روشنی ڈالتی ہے، خاص طور پر طاقت،
ذیادہ تر پختونوں کو جو بات نہیں پتہ وہ یہ کہ پختون اور افغان میں فرق ہے ۔ افغان افغانستان کے شہری کو کہتے ہیں
چلاس سٹی میں پھر سے قدم رکھتے ہوئے ایسا لگا جیسے تقدیر نے ایک بار پھر وہیں پہنچا دیا ہو جہاں سے کبھی نکلنے کی
شہرت ایک دو دھاری تلوار ہے، ایک طرف تو یہ عطیہ خداوندی ہے جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے دوسری طرف یہ ایسا
ڈاکٹر ذاکر نائیک اور 26ویں آئینی ترمیم کا آپس میں کوئی تعلق نہیں لیکن یہ دونوں آگے پیچھے پاکستان میں وارد ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب
جناب ذاکر نائک صاحب! آپ سے ہمارے معاشرے کی ایک روشن خیال لڑکی پلوشہ نے ایک سادہ مگر انتہائی اہم سوال پو چھا تھا کہ
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے