جنریشن زی، شکوے ، رویے اور فاصلے
پاکستان میں آج ایک ایسی نسل جوان ہو رہی ہے جسے ہم سہولت کے لیے جنریشن زی کہتے ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جو انٹرنیٹ،
پاکستان میں آج ایک ایسی نسل جوان ہو رہی ہے جسے ہم سہولت کے لیے جنریشن زی کہتے ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جو انٹرنیٹ،
مجھے ہمیشہ نئی جگہ پہ پہلے دن نے گھر کی بہت یاد دلائی ہے مجھے ہوم سیکنس ہے چاہے وہ بیچلر کے دن ہو یا
یہ کالم دو دن قبل لکھ چکا ہوتا، لیکن اس موضوع پر قلم اٹھانے سے پہلے بارہا سوچنا پڑا کہ کہیں کوئی لفظ یا جملہ
یہ منظر کوئی نیا نہیں یہ تقریباً ہر محلے ہر گھر اور ہر اس کمرے میں دہرایا جاتا ہے جہاں چند لڑکے بیٹھے ہوں، ہاتھوں
کنواں پیاسے کی تلاش میں یہ فقرہ اب محاورہ نہیں رہا، بلکہ ہمارے قومی مزاج کی مکمل تشریح بن چکا ہے۔ کبھی کہا جاتا تھا
2026 کا آغاز شہر اقتدار میں تواتر سے ہونے والی ادبی تقاریب کے ساتھ ہوا۔ اس سلسلے کی سب سے پہلی تقریب 2 جنوری کو
انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان ہمیشہ رکاوٹوں سے نبرد آزما رہا ہے۔ کبھی فطرت کی سختی کبھی معاشی
ریگا کی پکار: قومی لباس میں صدارتی ملاقات اور علمی سفر سفرِ یورپ کی گزشتہ کڑی وارسا کے گرد گھومتی رہی، جہاں دوسری جنگِ عظیم
یونیورسٹیوں میں ہونے والی خودکشیاں اکثر ایک “ذاتی المیہ” یا “ذہنی کمزوری” کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔کہیں طلبہ اساتذہ کو الزام دے رہے
یہ 7 جنوری 2026 کی رات 1:30 بجے کا وقت تھا۔ میں ایک انٹرویو دیکھ رہا تھا جس میں میزبان نے ایک خاتون سےسوال کیا:
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے