کورونا کے موسم میں جینے کے انداز
کسی کالج میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ لارنس کالج (جو صحیح معنوں میں ایک سکول ہے کالج نہیں) کے بعد کچھ عرصہ بیکار رہے
کسی کالج میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ لارنس کالج (جو صحیح معنوں میں ایک سکول ہے کالج نہیں) کے بعد کچھ عرصہ بیکار رہے
میں اس حافظے کا کیا کروں، کاغذ قلم لے کر بیٹھا تھا کہ کالم کیلئے ایک بہت دلچسپ موضوع ذہن میں آیا مگر اچانک وہ
مصائب اور تھے پر جی کا جانا، عجب ایک حادثہ سا ہو گیا ہے۔ کورونا کی وبا دنیا بھر میں پھیل گئی ہے ۔ چین
ایک نازک مرحلے پر حکومت، علما اور اسلامی نظریاتی کونسل عوام کی راہنمائی کرنے میں ناکام رہے۔ سب کا موقف ابہام کے دھند میں لپٹا
وبا یا آسمانی آفت تو کیا ہر انسان کو ہر وقت معمولی سی معمولی آزمائش سے بھی ﷲ کی پناہ مانگنی چاہئے۔ یقیناً کورونا وائرس
بھلے چودھویں صدی عیسوی کے پسماندہ یورپ میں پھیلنے والا طاعون ہو جو یورپ کی ایک تہائی آبادی چٹ کر گیا یا پھر بیسویں صدی
اگر اگلی بار چائنا امریکہ پہ بائیولوجیکل وار کرے گا تو کیا پھر ہم اپنی کم ہمتی کو اللہ پہ ڈال دیں گے جیسا ابھی
مصیبتوں،آفات و بلیات کو دور کرنے کا سب سے بہترین طریقہ صدقہِ و خیرات ہے۔اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے سے حقداروں کا حق ان تک
وہ پوچھ رہے ہیں کہ علمائے کرام کیوں سماجی تبدیلی کو بہت مشکل سے قبول کرتے ہیں اور پھر آخر میں مان ہی جاتے ہیں
صدر پاکستان جناب عارف علوی کا کرونا وائرس کی وبا کے دوران عبادات کے حوالے سے جامعۃ الازہر سے رہنمائی کا طالب ہونا یہ بتا
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے