گالم گلوچ کی سیاست
پاکستان کی سیاست میں اخلاقی زوال کوئی اچانک پیدا ہونے والا حادثہ نہیں بلکہ ایک طویل اور سوچے سمجھے گئے عمل کا نتیجہ ہے۔ آج
پاکستان کی سیاست میں اخلاقی زوال کوئی اچانک پیدا ہونے والا حادثہ نہیں بلکہ ایک طویل اور سوچے سمجھے گئے عمل کا نتیجہ ہے۔ آج
شہزاد منظر، جن کا اصل نام ابراہیم عبدالرحمٰن عارف تھا، اردو ادب کے معتبر افسانہ نگار اور نقاد کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ
نوجوان دوستو ! سال 2026 شروع ہو رہا ہے اب دس سال پہلے والی دنیا نہیں ہے بہت کچھ بدل چکا ہے، اے آئی تمام
مورخہ 11 ستمبر 2025 کو لاہور میں ایک مختصر مگر یادگار ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ میرے بھائیوں جیسے دوست، ہم جماعت ہونے کا اعزاز
توجہ برقرار نہ رہے تو درست اقدام بھی کچھ عرصے بعد غیر موثر ہو جاتے ہیں۔ پھر دھیرے دھیرے سب بھول جاتے ہیں۔ لاہور میں
مفتی شمائل کا جاوید اختر کے ساتھ خدا کے وجود پر مناظرےکی ایسے دھوم مچی ہے جیسے کوئی فلم سُپر ہِٹ ہوتی ہے۔ گزشتہ ہفتے
عسقلان فلسطین کا ایک تاریخی اور مقدس شہر ہے(جو مشہور محدث اور فقہ کے شیخ ، امام حجر عسقلانی کی بھی جائے پیدائش ہے )اور
یہ سال میرے لیے آسان نہ تھا۔ خوشیوں کی دستک مدھم رہی اور پریشانیوں کے قدموں کی چاپ زیادہ سنائی دیتی رہی۔ مگر وقت کی
قلم اللہ تعالٰی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے شاید اسی باعث خالق نے قلم اور اس سے نکلنے والے الفاظ کی قسم کھائی
27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں بینظیر بھٹو کا قتل محض ایک سیاسی رہنما کی جان لینے کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ پاکستان میں
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے