آئی اے رحمٰن: سائبان نہ رہا
دردمندوں کے خانہ ہائے دل میں گہرے ملال کی ویرانی اتر آئی ہے۔ دکھ کی سسکی کو ضبط کی تلقین کا یارا نہیں رہا۔ آتی جاتی سانس کی دھونکنی میں رہ رہ کر اٹھتے احساس زیاں کی کٹار چلی آئی ہے کہ اب جانب کہسار سے اترتے ابر سیاہ کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں کس […]