ٹیکس یا زکوٰۃ؟

انسان نے اپنی مرضی سے غلامی کے جو طوق پہنے‘ اُن میں سے ایک ٹیکس کا موجودہ نظام بھی ہے۔ جمہوریت کا آغاز ایک نعرے سے ہوا تھا جو ایک عوامی تحریک میں ڈھل گیا۔ یہ نعرہ تھا: No taxation without representation اس کا مفہوم یہ ہے کہ ٹیکس عائد کرنے کا اختیار عوام کے […]

صرف کرکٹ کیوں؟

تمام توانائیاں کرکٹ کی نذر کر دینا، کیا ایک دانش مندانہ فیصلہ تھا؟ میں راولپنڈی میں رہتا ہوں۔ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کے لیے سکیورٹی کے انتظامات، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ بلامبالغہ، ایسی سکیورٹی میں نے اس سے پہلے نہیں دیکھی تھی۔ سٹیڈیم روڈ عوام کے لیے بند تھا۔ اسی سڑک پر […]

تصادم یا بقائے باہمی؟

یہ دنیا بقائے باہمی سے چلتی ہے، تصادم سے نہیں۔ مظاہرِ فطرت کی شہادت یہی ہے اور انسانی تاریخ کی گواہی بھی۔ دوسروں کو حرفِ غلط کی طرح مٹا دینا، کل نتیجہ خیز تھا نہ آج ہوگا۔ عالم کے پروردگار نے اپنی آخری کتاب میں یہ فرمایا کہ وہ چاہتا تو عالمِ انسانیت کو ایک […]

امریکی ناکامی کا اصل سبب کچھ اور ہے

بحیثیت ایک عالمی طاقت‘کیا امریکہ ناکام ہو گیا؟ 1989ء میں سوویت یونین ایک حرفِ غلط کی طرح دنیا کے نقشے سے مٹ گیا۔بیالیس سال سے امریکہ بلاشرکتِ غیرے عالمی قوت ہے۔ اس دوران میں دنیا غیر معمولی تبدیلیوں سے گزری۔بالخصوص مشرقِ وسطیٰ اورجنوبی ایشیا انقلابات کی زد میں رہے۔آخری بڑی تبدیلی‘کابل پر طالبان کا قبضہ […]

مینارِ پاکستان کا حادثہ اور ہمارے تصوراتِ اخلاق

ہر حادثہ ہمارے تصورِ اخلاق کی آزمائش ہے۔ مینارِ پاکستان پر ایک بیٹی کے ساتھ جوہوا، اس پر دو طرح کے ردِ عمل سامنے آئے ہیں۔ ایک میں تمام تر توجہ ہجوم پر ہے۔ مطالبہ ہے کہ ایسے لوگوں کو لگام دی جائے جوگھر سے نکلنے والی ہر لڑکی کو جنسِ بازار سمجھتے اور اس […]

طالبان کی آمد ِ ثانی

حیرت‘اطمینان اور خدشات کے جلومیں ‘طالبان ایک بار پھر کابل میں داخل ہو گئے۔ حیرت اس بات کی کہ طالبان کو کسی قدم پر قابلِ ذکر مزاحمت کا سامنا نہیں کر نا پڑا۔کہنے کو فوج بھی تھی اور پولیس بھی لیکن فوج مزاحم ہوئی نہ پولیس۔ طالبان کی آمد اتنی اچانک نہ تھی کہ حکومت […]

شہباز شریف کا بیانیہ

سیاسی بیانیے کا جب ذکر ہو تا ہے تو اس کا انتساب نواز شریف صاحب کی طرف کیا جا تا ہے‘درآں حالیکہ وہ بیانیوں میں سے ایک بیانیہ ہے۔جو کچھ شہباز شریف صاحب فرماتے ہیں‘وہ بھی دراصل ایک بیانیہ ہے۔اگر نواز شریف صاحب کے بیانیے کو ایک ‘دعویٰ‘(Thesis) مان لیا جائے تو شہباز شریف صاحب […]

کیا مسلم معاشرے جمہوریت کے لیے سازگار نہیں؟

‘عرب بہار‘ کی پہلی لہر، 2010ء کے اواخر میں تیونیسیا سے اٹھی تھی۔ اکیسویں صدی کی سب سے بالغ نظر مسلم سیاسی شخصیت راشد غنوشی کا تعلق بھی اسی ملک سے ہے۔ تیونیسیا میں ان دنوں ایک بار پھر سیاسی اضطراب ہے۔ منتخب پارلیمنٹ معطل ہے اور آمریت کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ […]

سیاست میں کیا رکھا ہے؟

انتخابات میں کیا رکھا ہے؟ بلکہ سچ پوچھیے تو اب سیاست میں کیا رکھا ہے؟ ایک پسماندہ ملک میں، جہاں کروڑوں انسان خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کرتے ہوں، وہاں اربوں روپے ایک لاحاصل مشق پر خرچ کرنے کا کیا جواز ہے؟ عوام کی رائے جاننے کے جب متبادل اور سستے ذرائع میسر ہوں […]

قربانی اور اجتہاد

کورونا کے دنوں میں قربانی کیسے ہوگی؟ آج کا سب سے اہم سوال یہی ہے۔اس کا مخاطب حکومت بھی ہے اور معاشرہ بھی۔خواص بھی اور عوام بھی۔علما اور بھی عامی بھی۔سب کو سوچنا ہے کہ وبا کے دنوں میں سب کو بروئے کار آنا ہے۔تنہا حکومت کچھ نہیں کر سکتی اگر عوام ساتھ نہ دیں […]