زخم خوردہ انا کی آخری ہچکی

عمران خان کا آفتاب جہاں تاب افق مغرب سے آن لگا ہے۔ انہونی کا نقّارہ بج رہا ہے اور میرے دوست، اظہار الحق کے بقول غلام دوڑتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر محل پہ ٹوٹنے والا ہو آسماں جیسے یہ آسمان کیوں ٹوٹا؟ خان صاحب کو فرصت ملے تو تین سو کنال پر پھیلے اپنے […]