سچ بیان نہ کرنے کا ٹھوس جواز

کتابوں کے کبھی ’’قلمی نسخے‘‘ ہی ہوا کرتے تھے۔کئی مہینوں کی مشقت سے تیار ہوئے ’’مخطوطے‘‘ بادشاہوں،نوابوں اور رئیسوںہی کومیسر ہوتے۔خلق خدا تک ان کی رسائی ممکن نہیں تھی۔غریب گھرانوں کے طالب علم بہت تگ ودو کے بعد ان تک رسائی حاصل کرتے تو کتابوں میں لکھی باتوں کو محض یاد رکھنا ہوتا تھا۔استادوں کی […]