جکاری یا سرکاری ملکیت!!

آج کا دور نج کاری کا ہے۔ بزنس کی سرکاری ملکیت کے تصور کو اب فرسودہ تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی قومیائے گئے اداروں کی تیزی سے نجکاری کی جا رہی ہے، دنیا بھر میں اس فیشن کے برعکس برطانیہ میں نئی برسراقتدار لیبر پارٹی نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ پرائیوٹائزکی […]

جادونگری!!

میرے تضادستان کے رنگ نرالے ہیں ۔یہ ایک جادو نگری بھی ہے جس میں جادو گر اپنے کرتب دکھا کر اور منتر پڑھ کر سب سے آگے نکل جاتے ہیں اور جادو نہ جاننے والے پچھلی صفوں میں کھڑے رہ جاتے ہیں۔جادو میں بھی یہ طاقت ہے کہ منٹوں میں حالات بدل جاتے ہیں دیکھتے […]

ذاکر نائیک یا علامہ اقبال؟

میری تربیت میں علمائے کرام اور مشائخ عظام کی کفش برداری شامل ہے، علمائے کرام ہمارے سروں کے تاج اور ہماری آخرت کاسہارا ہیں ہمیں جو تھوڑی بہت دین کی سمجھ ہے وہ انہی علما ومشائخ کے وجود مسعود سے ممکن ہوئی ہے۔ پوری مسلم دنیا میں علماء کا یہ احترام ہر طرف موجود ہے۔ […]

میرا ہیرو: گنڈا پور !!

نونی، پپلیے اور عسکری ناراض ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں میں بآواز بلند اعلان کر رہا ہوں کہ میرا ہیرو گنڈا پور ہے، میرے ہیرو نے پورے ملک کو آگے لگایا ہوا ہے۔ بہادری ایسی کہ اپنے لیڈر عمران خان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، نہ رکاوٹیں اسے روک سکیں، نہ آنسو گیس کام آئی، […]

عالمی جنگ، ہماری سرحد پر!!

مشرقِ وسطیٰ کی عالمی جنگ ہماری سرحد یعنی ایران تک پہنچ گئی ہے اور آنے والے دنوں میں اس آگ کی تپش ہمیں بھی محسوس ہوگی۔ ایران کے ساتھ ہماری لمبی سرحد ہے،تاریخی اور مذہبی رشتے ہیں گو ایران اور پاکستان کی عالمی پالیسیوں میں کبھی یکجائی نہیں رہی لیکن اس کے باوجود ایران کو […]

لمبی چپ یا مسلسل آتش بیانی؟

مقدس بائبل میں کہا گیا ہے ’’کب بولنا اور کب چپ رہنا ہے اس کا ایک وقت ہوتا ہے‘‘۔ تضادستان کی سیاست میں لوگ ایک طرف کی لمبی چپ اور دوسری طرف کی مسلسل آتش بیانی سے حیران و پریشان ہیں۔ 3دفعہ وزیر اعظم کا عہدہ پانے والے اور سب سے زیادہ سیاسی تجربہ رکھنے […]

’’سیاہ پوش کہانی‘‘

فلسفی ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر نے ڈنمارک کے بارے میں کہا تھا SOMETHING IS ROTTEN IN THE STATE OF DENMARK تضادستان کی آج کی صورتحال بالکل وہی ہے تضادستان کے سیاہ پوشوں کو ملک و ملت کے آخری فیصلوں کا اختیار حاصل ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ گلی کے بچوں کی […]

سیاسی تخت کی وراثت؟

گزشتہ چار دہائیوں سے سیاسی منظر پر چھائی شخصیات اپنی اپنی اننگز کھیل چکیں، ان میں سے اکثر 70 کے پیٹے میں ہیںلیکن ابھی تک کم از کم دو بڑی جماعتوں میں یہ طے نہیں ہوا کہ اُن کا اگلاسیاسی وارث کون ہوگا؟مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف دونوں کو ابھی طے کرنا ہے کہ […]

دلِ خوش فہم کو امیدیں!

احمد فراز جیسے بڑے لوگ ہوں یا ہم جیسے حقیر، سب ہی امید پر زندہ رہتے ہیں، سیاسی اور معاشی منظر پر بحران در بحران اور ہر محاذ پر کشیدگی سے گھٹا ٹوپ اندھیرے چھائے ہوئے ہیں مگر رجائیت پسندوں کو بہت دور ٹمٹماتی ہوئی شمع بھی نظر آئے تو وہ اُنہیں مینارہ نور نظر […]

عدالتی بینگن اور عسکری آلو!!

تضادستان کے سبزی خوروں میں آلو اور بینگن کا سالن بہت مقبول رہا ہے۔ 1954ء سے ہی عسکری آلو اور عدالتی بینگن مل کر بھنڈی توری حکومتیں باری باری رخصت کرتے رہے ۔اگر کوئی کریلا سیاست دان آیا تو اسے بھی ٹھکانے لگانے کیلئے آلو نے بینگن کو آگے لگایا اور کریلے کو حکومت سے […]