’’فائنل کال‘‘ اور ’گوئبلز‘ کی بے چین روح!!
کیا پی ٹی آئی، 24نومبر کی لشکر کشی اور شرم ناک ہزیمت کے بعد، زمینی حقائق سے متصادم جارحانہ غیردانش مندانہ اور طفلانِ خود معاملہ جیسی بے سروپا حکمتِ عملی کی رسوا کن بے ثمری پر غور کرے گی؟ کیا وہ خود کو کسی فریبِ مسلسل میں مبتلا رکھنے اور اپنے پیروکاروں کو دشتِ بے […]
کوئی لاش گرے، کوئی خون بہے، کوئی بات بنے!
تحریک انصاف کے بانی، عمران خان نے 24 نومبر کو ’’یومِ مارو یا مرجائو‘‘ قرار دے دیا ہے۔ دیکھیے اِس بحر کی تہہ سے کیا اُچھلتا اور گنبد نیلوفری کیا رنگ بدلتا ہے۔ اِس سوال کے جواب کیلئے افلاطونی دانش کی ضرورت نہیں کہ تحریکِ انصاف کو کس نے بند گلی کے اندھے موڑ پر […]
دو ’’ڈونلڈ‘‘۔ دو کہانیاں!
ڈونلڈ 1کا نام، مارچ 2022ءمیں اُس وقت فضائوں میں گونجا جب عمران خان کا آفتابِ اقتدار، نصفُ النہار سے لُڑھکتا ، یکایک اُفقِ مغرب سے آن لگا تھا اور اُنکے تختِ طائوس کو اُڑائے لئے پھرنے والی ہوائوں کے کندھے بھاری بوجھ سے شَل ہونے لگے تھے۔ سرکارِ دربار سے خبر اُڑی کہ قرارداد عدم […]
ایک معزز جج کی خودنوشت کا ایک ورق!
جج اور وہ بھی کسی بڑی عدالت کا جج ہوتے ہوئے، فرصت وفراغت کے ایسے لمحے کہاں کہ باقاعدگی سے روزنامچہ لکھا جائے۔ مجھے تو کبھی ایسی یکسوئی میسّر نہ آئی کہ ٹِک کر اپنی یادداشتیں مرتب کرتا اور اپنے اہلِ وطن کو آگاہ کرتا کہ مجھ پر کیسے کیسے کڑے وقت پڑے لیکن میں […]
آئینی ترمیم۔ پارلیمنٹ کی جارحانہ دفاعی جَست
چھبیسویں آئینی ترمیم کی اُونٹنی کم وبیش دوماہ تڑپنے پھڑکنے، پہلو بدلنے، بلبلانے اور دردِزہ جیسے کرب سے گزرنے کے بعد بالآخر، حکومتی اتحاد کے موافق کروٹ بیٹھ گئی ہے۔ بَرحق زمینی حقیقت اب یہ ہے کہ چھبیسویں ترمیم آئین کے حُجلۂِ عروسی میں آ بیٹھی ہے۔ اِس ترمیم کے ذریعے کی گئی تمام تبدیلیاں […]
ایسی ہوتی ہیں سیاسی جماعتیں؟
میں اتوار کے دِن یہ کالم لکھ رہا ہوں جو آپ منگل کو پڑھیں گے۔ عالم یہ ہے کہ گزشتہ چار روز سے اسلام آباد کی سڑکیں، گلیاں، بازار، منڈیاں، تعلیمی ادارے اور دفاتر بند پڑے ہیں۔ مریض اسپتالوں تک نہیں پہنچ پارہے۔ مسافر ہوائی اڈوں تک نہیں جاسکتے۔ تازہ سبزیوں، پھلوں اور روزمرہ استعمال […]
’’اَنہونی کے خوف‘‘ سے جنم لیتا بحران!
12 جولائی 2024ءکا آٹھ رُکنی عدالتی فیصلہ، ’کثیرالاولاد بُحران‘ کی طرح مسلسل بچے جَنتا چلا جا رہا ہے۔ اُس نے ایک ایسے اونٹ کی شکل میں جنم لیا جس کی کوئی کَل سیدھی نہ تھی۔ اب وہ محاورے کی زبان میں ’’چینی آبگینوں کی دکان میں بپھرا ہوا بیل‘‘ (A bull in the China shop) […]
ہمارے آئین کا ’’بنیادی تقاضا‘‘۔ اور برطانوی عدالتیں
سپریم کورٹ کے سب سے سینئر جج، جو اِن شاء اللہ جلد ہی چیف جسٹس کے منصبِ بلند پر فائز ہوں گے، عزت مآب جسٹس منصور علی شاہ نے فرمایا ہے کہ ’’عدالت کے فیصلوں پر عمل درآمد لازمی تقاضا ہے اور انتظامیہ کے پاس اِس کے سوا کوئی’چوائس‘ نہیں۔ اِس طرف چل پڑے تو […]
’’غدّاران ِوطن‘‘ اور ’’جارُوب کَش بیانیہ‘‘
اصولی طور پر یہ بات سو فی صد درست ہے کہ کسی کے چہرے پر ملک دشمنی یا غدّاری کی کالک تھوپنا انتہا درجے کی زیادتی بلکہ ظلم ہے۔ اس دلیل کو بھی جواز نہیں بنایا جاسکتا کہ خود عمران خان کس کس کو گلا پھاڑ پھاڑ کر میرجعفر اور میر صادق قرار دیتے اورکس […]
سنگ خارا کی چٹان اور اہل دانش
گزشتہ ہفتے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ، پاکستان کے چیف جسٹس، مسٹر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے، عمران خان صاحب ( جو وڈیو لنک پر موجود تھے) سے کہا کہ ’’آپ لوگ ڈائیلاگ کیوں نہیں کرتے؟ ڈائیلاگ سے کئی راستے نکلتے ہیں۔ مسئلوں کا حل نکلتا ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ مل بیٹھیں۔ یہ کوئی […]