کرسمس کی مبارک بادینا

کرسمس کے حوالے سے ایک بارپھر یہ بات زیربحث آرہی ہے کہ غیر مسلموں کے تہوار میں مسلمانوں کی شرکت کی حیثیت کیا ہے اور کیا ہو سکتی ہے ۔یہ مسئلہ کئی جہتوں پرمشتمل ہے اس لئے کسی ایک جہت کو پیش نظر رکھ کر دیا جانے والا جواب درست نہیں ہوسکتا ۔کسی بھی اسلامی ریاست میں اور اگر کسی کو یہ لفظ تسلیم کرنے میں دقت ہے تو مسلم معاشرے میں غیر مسلموں کے وجود کی ایک الگ حیثیت ہے ۔وہ یقینا کسی معاہدے کے تحت ہمارے شہری ہیں تو اس معاہدے کی پاسداری ہم پر لازم ہے ۔اس پاس داری کا مفہوم محض قانونی نہیں اخلاقی اور سماجی بھی ہے ۔اس کے تحت جہاں ہم انہیں جان اور مال عزت اور آبرو کا تحفظ دیتے ہیں اور اس حوالے سے ضمانت فراہم کرتے ہیں، وہیں اس میں یہ بات بھی شامل ہوتی ہے کہ ہم ان میں احساس تحفظ پیدا کرنا اور برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ان میں خاص طور پر کسی خوشی یا غم کے موقع پر احساس اجنبیت، احساس بے گانگی یا احساس نامانوسیت پیدا نہ ہونے پائے۔ اس نوعیت کے احساسات کسی معمولی بات سے ہی پیدا ہوتے ہیں، پھر دیگر عوامل انہیں اچک لیتے ہیں اور حالات رفتہ رفتہ گرفت سے باہر ہو جاتے ہیں ۔اس لیے محض مذہبی حوالے سے نہیں سماجی اعتبار سے بھی اور سیاسی نقطہ نظر سے بھی ایسے حالات برقرار رکھنا ضروری ہوتاہے کہ ان میں اس نوعیت کا کوئی بھی احساس کسی حوالے سے بھی پیدا نہ ہوسکے،جو بعد میں حکومت وریاست اور مسلم معاشرے کے لیے چیلیج بن سکے۔ اس مقصد کے لیے اس سماجی میل جول بنیادی معاشرتی ضرورت ہے، اور اس نوعیت کے میل جول کے اہم ترین مواقع خوشی اور غم کی صورت میں ہی میسر آتے ہیں۔اس لئے کسی بھی اقلیت کے مذہبی تہوار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔

لیکن اس ضمن میں ایک پہلو مزید بھی ہمارے پیش نظر رہنا چاہیے ۔اس نوعیت کے بہت سے مذہبی تہوارکسی ایسی مذہبی بنیاد پر قائم ہیں جو براہ راست اسلامی تعلیمات سے متصادم ہیں،جس کا ایک پہلو یہ ہے کہ ان تقریبات میں براہ راست شرک یا شائبہ شرک ضرور پایا جاتا ہے۔ایسی صورت میں درمیانی راستہ یہی ہو سکتا ہے کہ ان کی تقریبات میں براہ راست شرکت کی بہ جائے ایسی تقاریب کا اہتمام کیا جائے جن میں ان طبقات کی شرکت کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی شریک ہو سکیں اور اس تقریب کی مذہبی سے زیادہ محض سماجی حیثیت متعارف ہو ۔ تاکہ جانب جہاں مذہبی اور شرکیہ رسوم سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا جا سکے وہیں غیر مسلم طبقات میں شرکت کا احساس بھی پیدا کیا جا سکے۔

یاد رکھنے کی بات ہے کہ قرآن کریم نے جہاں ایک جانب غیر مسلموں کے ساتھ رشتہ مودت سے منع کیا ہے،وہیں دوسری جانب سماجی تعلقات کو بلا استثنا سب کے لئے لازم قرار دیاہے۔یہ بات بجائے خود ہمارے لئے ایک درس کی حیثیت رکھتی ہے کہ ہمیں افراط وتفریط کے درمیان اپنی راہ متعین کرنی ہے ۔اور کسی بھی نوعیت کی سخت بات یا سخت فیصلہ کرتے ہوئے امکانی طور پر اس کے مضمرات کو بھی سامنے رکھنا ہے، جو بعد میں چل کر خود ہمارے لئے اور ہمارے معاشرے کے لیے چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں۔

اب رہا یہ سوال کہ میری کرسمس کہنا کس حد تک درست ہے۔اس حوالے سے بھی دو باتیں پیش نظر رہنی چاہییں۔ ایک تو محض کرسمس کی مبارکباد دینا،بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اگر یہ محض ایک تہوار کی مبارکباد ہے تواس میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے ،لیکن بعض حضرات کا خیال یہ ہے کہ میری کرسمس کا مفہوم یہ ہے کہ خدا نے آج کے دن ایک بیٹا جنا جو انسان کی صورت دنیا میں آیا ۔اگر واقعی یہ مفہوم ہے تو ان الفاظ کا استعمال درست قرار نہیں دیا جاسکتا ،اس لئے کہ یہ براہ راست اسلامی تعلیمات کے مقابل ہے۔ لیکن عزیزم حافظ محمد شارق فرماتے ہیں کہ” لاطینی زبان کی جتنی الف بے پڑھی اس میں Christ کے معنی مسیح اور mass کے معنی ہیں بھیجے گئے۔ (جبکہ اس کے ایک زبان میں معنی جشن بھی ہے) یعنی میری کرسمس کے معنی ہوئے ’’مسیحِ کی بعثت مبارک ہو‘‘ ۔ ہم بحیثیت مسلمان تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو ’’بھیجا ہوا‘‘ پیغمبر مانتے ہیں اور یہی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ سیدنا مسیح کا یومِ پیدائش 25 دسمبر ہو یا کچھ اور ۔۔۔ ہماری جانب سے عالم اسلام کو ہمیشہ میری کرسمس ۔۔ کوئی مسیحی بھائی آپ کو میری کرسمس کہتا ہے تو کہہ دیجیے عیسیٰ علیہ السلام کا مبعوث کیا جانا مبارک۔ اس سے خود ہی ان کے غلط نظریے کی تردید ہوجاتی ہے۔”(حافظ محمد شارق)

اور اگر بالفرض یہی مفہوم ہے تب بھی عرف میں اب اس کا زیادہ استعمال ایک دوسرے کے ساتھ مبارکباد کے تبادلے کے لیے ہے۔چناچہ جب کوئی مسلمان یہ کہتاہے کہ کرسمس مبارک ہو تو کوئی مسیحی یہ سوچ کر خوش نہیں ہوتا کہ اس نے ہمارا تصورِ مسیح تسلیم کر لیا ہے.

لیکن ایک بار پھر یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ یہ عیسائی کمیونٹی کا مذہبی تہوار ہے ۔اور وہ اپنے عقیدے کے مطابق اس تاریخ کو حضرت عیسی کی پیدائش کا دن تصور کرتے ہیں ۔اہل علم کی اس حوالے سے توجہ مطلوب ہے، یہ سطور صرف اہل علم کی توجہ کے لئے تحریر کی گئی ہیں۔ ان کی حیثیت محض استفسار کی ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے