گلگت سے فہیم اختر کا نام سن کر وسعت اللہ خان رک گئے اور تاثرات بتارہے تھے کہ انہیں دلچسپی پیدا ہوگئی ہے، کیونکہ وسعت اللہ خان گلگت بلتستان کے حوالے سے متعدد کالم لکھ چکے ہیں بلکہ جی بی اسمبلی کے گزشتہ انتخابات کے دوران ’سیریز آف کالمز‘ لکھ اور چھاپ چکے ہیں۔
ہم کراچی پریس کلب کے صحن میں پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کے جنرل سیکریٹری منصور مانی و دیگردوستوں کے اانتظار میں تھے، کراچی پریس کلب کے مرکزی دروازے سے داہنے سائیڈ پر ایک صحن نما جگہ ہے جہاں پر بیٹھک کا انتظام بھی ہے، کراچی پریس کلب کے انتخابات کی تیاری زوروں پر ہونے کی وجہ سے ممبران اپنی ’لابنگ‘ میں مصروف نظر تھے، جبکہ کراچی پریس کلب کے باہر متعدد اقسام کے احتجاجی مظاہرے بھی جاری تھے۔ بی بی سی میں اپنے منفرد طرز تحریر اور بے باکیت کی وجہ سے صحافتی حلقوں میں مقبولیت پانے والے وسعت اللہ خان صاحب بھی اسی بیٹھک میں موجود تھے،جبکہ ان پر نظر پڑتے ہی ہمارا صحافتی اشتیاق بڑھ گیا، یوں لگا جیسے بڑے عرصے سے واقفیت ہے اور بڑے عرصے بعد مل رہے ہیں۔جب وہاں سے نکلنے لگے تو ہم نے انہیں گھیر لیا۔
صحافتی تعارف پوچھنے پر اس بات کا اضافہ کرلیا کہ کبھی کبھی کالموں کی ویب سائٹ پر آپ کی تصویر کے اوپر نیچے ہمارا تصویر بھی نظر آتا ہے جس پر ان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ ملاقات میں کالم نگار دوست تجمل ہاشمی بھی ساتھ تھے جبکہ پی ایف سی سی کے متحرک رکن مزمل فیروزی ہمارے منتظم کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ تجمل ہاشمی صاحب نے دل کی بات زبان پر لانے میں پہل کردی اور خان صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے کالم بڑے شوق سے پڑتے ہیں اور آپ جیسے سینئر صحافیوں سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔اس جملے میں لفظ سینئر میری نظر میں حساس تھا اور خان صاحب نے فوراً تمہید میں مداخلت کرتے ہوئے پوچھا
[pullquote]یہ سینئر صحافی کیا ہوتا ہے؟[/pullquote]
ہاشمی صاحب بھی نزاکت کو جان گئے اور کہا کہ سینئر سے مراد علمی سطح اور مرتبہ ہے۔
خان صاحب فرمانے لگے کہ ہمارے دور میں دو ہی چیزیں ہوتی تھیں یا تو بندہ صحافی ہوتا تھا یا نہیں ہوتا تھا،لیکن اب طرح طرح کے متنوع اقسام کے صحافی مل رہے ہیں،اب ایک جدید اصطلاح عامل صحافی کی اوربھی نکالی گئی ہے اس لئے اب میں اگر کسی کا تعارف کراتا ہوں تو یوں کہتا ہوں کہ یہ پاکستان کے سب سے تیز، باخبر، متحرک اور جونیئر ترین صحافی ہیں۔
درحقیقت میڈیا انڈسٹری کے بڑھتے ہوئے رجحان نے صحافیوں میں بھی سینئر ہونے کا رجحان پیدا کردیا ہے، یہی وجہ ہے کہ چند روز کسی اخبار میں گزارنے والے بھی خود کو سینئر سمجھتے ہیں اور اپنی زندگی کا ایک تہائی حصہ میڈیا میں گزارنے والے بھی خود کو سینئر ہی سمجھتے ہیں،تو اس صورتحال میں وسعت اللہ خان کا خود بھی جونیئر صحافی ہونا کوئی معیوب سی بات نہیں ہے، خان صاحب نے اسی تناظر میں یہ ’جھگڑا‘ ڈال دیا کہ صحافت میں ’سنیارٹی‘ نام کی کوئی شے نہیں ہوتی ہے، جو جب تک اس میدان میں خود کو باخبر اور متحرک رکھ سکتا ہے وہی صحافی ہے۔اب تو سوشل میڈیا کا دور ہے جہاں ہر بے خبر بھی صحافی بنا ہے بلکہ سینئر صحافی بنا ہوا ہے، ایک تحقیق کے مطابق 60فیصد افراد سوشل میڈیا میں ایسے ہیں جو کسی بھی خبر یا تحریر کی ہیڈلائن دیکھ کر ہی ’شیئر‘ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے سوشل میڈیا جعلی معلومات، افواہوں،من گھڑت اور جھوٹے خبروں سے بھرا پڑا ہے۔ اس ساری کارستانی میں ہم ’سینئر صحافیوں‘ کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔دوسری جانب ایسے خبر رساں اداروں کی بھی بھرما ر ہے جو محض اپنا ’پریس کارڈ‘ بیچنے کے لئے ایسے گمراہ کن شوشے چھوڑتے ہیں کہ پڑھے لکھے افراد بھی اس سے دھوکہ کھاکر اس جال میں پھنس جاتے ہیں۔ چند برس قبل گلگت میں ہی ایک ایسے ادارے نے درجنوں افراد کو لوٹ لیا تھا، اور ان کا منشور تھا کہ چیف رپورٹر بن کر ماہانہ 30سے 50ہزار روپے تک کمائیں جس کی فیس صرف 8 ہزار روپے ہوگی جس میں آپ کو موٹرسائیکل پر لگانے کے لئے پریس سٹیکر، پریس کارڈ سمیت ’لوگو‘بھی مل جائیگا، ایسے اداروں کو اور ان کے ساتھ کام کرنے والے سینئر صحافیوں کو جونیئر صحافیوں کی جانب سے سلام کہنا تو بنتا ہے۔
خان صاحب پھر گلگت کی جانب متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ کیا صورتحال ہے آج کل، سنا ہے درجہ حرارت بہت کم ہے؟ اس روز کراچی میں 20درجہ حرارت جبکہ بلتستان ریجن سے منفی 25 تک کم سے کم درجہ حرارت کی خبر تھی جسے میں نے ان کے سامنے رکھی۔ خان صاحب نے اس سوال پر لاجواب ہی کردیا کہ جگلوٹ اور بونجی کے اطراف میں برفباری ہوتی ہے؟ زہن پر دو ہتھوڑے مارے اور کہا کہ ان مقامات میں زیادہ تر خشک پہاڑ ہیں اس لئے زیادہ برفباری نہیں ہوتی ہے البتہ نانگاپربت اور اطراف، نالوں میں اکثر برفباری ہوتی رہتی ہے۔
خان صاحب نے بتایا کہ 2015 کے انتخابات سے قبل گلگت بلتستان کا دورہ کرکے ایک ساتھ تقریباً درجن کالم لکھے تھے جن میں ایک کالم سکردو کے گول پر لکھا تھا۔خان صاحب کی جی بی پر گہری دلچسپی عیاں تھی، انہوں نے پدرانہ انداز میں چند منٹ ساتھ گزارے اور رابطہ نمبر کا بھی تبادلہ کردیا۔