کورونا وائرس: افواہیں اور حقائق

کورونا وائرس(nCOv2019 ) سے جہاں دنیا بھر میں ہلاکتیں ہو رہی ہیں وہاں ہی افواہوں کا بازار بھی خوب گرم ہے ، چاہے سوشل میڈیا ہو یا یوٹیوب کے چینلز سب پر کورونا وائرس کے حوالے سے مذہبی اعتقادات ، علاقائی رسم و رواجوں اور رہن سہن کے طریقوں کے تناظر میں بحث کی جا رہی ہے جو کسی بھی صحت مند معاشرے میں ذہنی حجان کی کیفیت کا سبب بن سکتی ہے-

ہمارے ہاں بھی کئی طرح کی رائے دی جا رہی ہیں

کہا جا رہا ہے کہ سر جیکل ماکس کا پہننا کورونا وائرس کے خلاف ابتدائی طور پر بہترین پروٹیکشن ہے اور سو فیصد نتائج دے سکتا ہے .

مگر ایسا نہیں ، یو ایس کی وینڈربیلٹ یورنیورسٹی کی تحقیق کے مطابق کوئی بھی وائرس اتنا چھوٹا ہوتا ہے جو کسی بھی عام ماکس کے اندر بھی داخل ہو سکتا ہے ، صرف مخصوص n95 respirator ہی وائرس کو روکنے کی اہلیت رکھتا ہے – جبکہ اچھے صابن کے ساتھ ہاتھوں کا دھونا اور چھیکنتے وقت منہ ڈھانپنا بہترین احتیاتی تدابیر ہوں گی –

کہا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس عمر رسیدہ افراد کو زیادہ جلدی متاثر کر رہا ہے …..

مگر ایسا نہیں ، ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس ہر عمر کے افراد کو بلا امتیاز متاثر کر رہا ہے ، مگر یہ ہو سکتا ہے کہ پہلے سے بیمار لوگ جلد اس وائرس سے متاثر ہو جائیں –

کہا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس کے متاثر افراد کی موت یقینی ہے …..

مگر ایسا نہیں ، نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اب تک کورونا وائرس سے متاثر صرف 2.09 فیصد لوگوں کی ہی اموات ہوئی ہیں –

کہا جا رہا ہے کہ اینٹی بائیوٹیکس ادویات کورونا وائرس کے خلاف موثر ہیں ……

مگر ایسا نہیں ، ڈبلیو ایچ او نے کنفرم کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی اینٹی بائیوٹیکس کرونا وائرس کے خلاف موثر ثابت نہیں ہو سکی ، اینٹی بائیوٹیکس صرف بیکٹریا کے خلاف کام کرتی ہیں جبکہ کورونا ایک وائرس ہے اس لیے انہیں بطور احتیاتی تدابیر یا علاج کے لیے استعمال نہ کیا جائے –

کہا جا رہا ہے کورونا زمین پر اس وقت سب سے زیادہ خطرناک وائرس ہے …….

مگر ایسا نہیں ، ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس کے پوری دنیا میں پھیلننے کی خبروں کی وجہ سے ایسا سمجھا جا رہا ہے مگر حقیقت میں کورونا وائرس صرف فلو ہے –

کہا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس فضا میں بھی موجود ہے ……..

مگر ایسا نہیں ، ڈبلیو ایچ او کے مطابق عام طور پر جراثیم ہوا کے ذریعے نہیں پھیلتے ، ماسوائے متاثر فرد کے عام لوگوں میں چھینکنے یا کھانسنے سے –

کہا جا رہا ہے کہ پالتو جانور کورونا وائرس کے پھیلاو کا سبب بن رہے ہیں …….

مگر ایسا نہیں ، ڈبلیو ایچ او کے مطابق ابھی تک کہیں سے بھی ایسے شواہد نہیں ملے جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ پالتو جانور بھی کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ان سے جڑے ہوئے انسان ان سے متاثر ہورہے ہیں ، احتیاتی طور پر یہ بہتر ہے کہ جانوروں کو چھونے کے بعد صابن سے ہاتھ دھو لیے جائیں –

کہا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس کا متاثرہ فرد حواس باختہ ہو کر زومبی جیسی یعنی غیر فطرتی حرکات کرنے لگتا ہے ……

مگر ایسا نہیں ، ملائشیا کی وزارت صحت کے حکام کے مطابق انہوں نے سوشل میڈیا پر کچھ ایسی ویڈیوز دیکھی ہیں جن میں کورونا وائرس کے متاثرین کو غیرفطرتی حرکات کرتے دیکھایا گیا ہے مگر کورونا وائرس کوئی ایسا جراثیم نہیں جو متاثرین کو حواس باختہ یا پاگل کر دینے کا سبب بنے لہٰذا ایسی تمام خبریں بے بنیاد ہیں –

کہا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس باہر سے در آمد کی گئی اشیا سے پھیل سکتا ہے …..

مگر ایسا نہیں ، متحدہ عرب امارت کی وزارت صحت کے مطابق باہر سے آئی چیزوں کی جانچ پڑتال سے ایسے شواہد نہیں ملے جس سے لگتا ہو کہ درآمدات کورونا وائرس کے پھیلاو کا سبب ہوں گی –

خدارا افواہوں اور اپنے اپنے مذہبی روجحانات کے مطابق کورونا وائرس کو ایکسپلین کرنے یا اس سے خوف زدہ ہونے سے گریز کریں اور محکمہ صحت یا متعلقہ لوگوں کی رہنمائی سے مستفید ہوں –

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے