آج 05 فروری 2020 کو پاکستان میں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا دن سرکاری طور پر منایا جا رہا ہے. وزیراعظم پاکستان عمران خان آزادکشمیر اسمبلی کے جوائنٹ سیشن میں شریک ہوئے۔
پہلے آزادکشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے تقریر کی ۔ فاروق حیدر کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر بہت سی غیر متعلق باتیں کرنے لگتے ہیں۔ آج کی تقریر میں بھی وہ فوکسڈ نہیں تھے ۔ کبھی کشمیر کے مسئلے پر بات کرنے لگتے تو کبھی پاکستان میں احتساب کی مہم کی جانب متوجہ ہو جاتے اور اپنی اسمبلی میں حال ہی میں پاس کیے گئے ایک بل کے حوالے دینے لگتے۔ روایتی باتوں کی تکرار بھی انہوں نے کی ۔ اگر وہ وہی بات اسمبلی میں دہرا دیتے جو گزشتہ رات انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں کی تھی کہ ”کشمیریوں کو مسئلے کا بنیادی اسٹیک ہولڈر تسلیم کیے بغیر آپ سات سو سال بھی لگے رہیں دنیا آپ کی بات نہیں سنے گی” ، تو کافی فرق پڑتا ۔ کم از کم یہ بات ریکارڈ کا حصہ بن جاتی۔
فاروق حیدر پاکستان کے وزیراعظم کو قومی مفاہمت اور یکجہتی کے مشورے بھی دیتے رہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ وہ دیگر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ لے کر چلنے کا مشورہ دے رہے تھے. فاروق حیدر کو باقی کشمیری سیاست دانوں میں جو چیز ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ کبھی کبھار وہ مصلحت کوشی کو بھلا کر بولڈ بات کہہ دیتے ہیں جسے اُن کے لوگ اپنے دل کی آواز سمجھ کر پسند کرتے ہیں ، لیکن ان کا مسئلہ یہ ہے کہ اگلے ہی لمحے یہ کہہ کر وہ بات کا اثر زائل کر دیتے ہیں کہ ”لوگ میری باتوں کا غلط مطلب نکال لیتے ہیں، کیا کروں۔”.
یہاں مناسب فورم تھا ۔ پاکستانی پارلیمان کی کشمیر کمیٹی کا چیئرمین ، وفاقی وزیر امور کشمیر اور وزیراعظم پاکستان سامنے بیٹھے تھے ، فاروق حیدر آزاد حکومت کے محدود تر اختیارات کا رونا روتے رہتے ہیں ، وہ یہاں بھی رو لیتے تو کسی بامعنی پیش رفت کی توقع کی جا سکتی تھی۔ اور کچھ نہیں تو کم از کم ایک معتبر مجلس میں بات ریکارڈ پر آ جاتی.
وزیراعظم پاکستان عمران خان نے پہلے فاروق حیدر کے قومی مفاہمت کے مفت مشورے کا جواب دینا ضروری سمجھا اور کہا کہ جن لوگوں نے اس ملک کو لُوٹا ہے اور محکموں کو تباہ کیا ہے ، میں ان کے ساتھ مفاہمت نہیں کر سکتا۔ پلیز مجھے ایسی مفاہمت کا نہ کہیں . عمران خان نے کشمیر اور بھارت کو لے کرکوئی نئی بات نہیں کی ۔ وہی روایتی کہانیاں دہرائیں جو 5 اگست 2019 کے بعد سے سرکاری طور پر دہرائی جا رہی ہیں۔عمران خان نے مُودی کو برا بھلا کہا اور کشمیریوں کو نہ گھبرانے کا مشورہ دیا ۔ عمران خان نے کہا کہ وہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی کوششوں کو اگلے لیول تک لے جانا چاہتے ہیں۔
وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر نے امریکا کی تنازع کشمیر میں ثالثی کی پیش کش کو خطرے کی گھنٹی قرار دیا اور عمران خان کو اس سے دُور رہنے کی تلقین کی لیکن عمران خان نے اس پہلو کو اظہار خیال کے لیے زیادہ اہم نہیں سمجھا ۔ فاروق حیدر نے آخر میں فیض احمد فیض کی ایک نظم کے کچھ اشعار پڑے ۔ سوائے ایک شعر کے سمجھ نہیں آیا کہ ان اشعار کی اس موقع سے کیا مناسبت ہے ۔ جواب میں عمران خان نے بھی شرماتے ہوئے اس وضاحت کے ساتھ کہ ”میں ویسے تو شعر نہیں پڑتا ”عدیم ہاشمی کا ایک شعر سنایا کہ:
مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے
"I urge you to do National reconciliation in Pakistan"
PaJk PM Frooq Haider @farooq_pm's suggestion.
"People who have looted money from this country and invested it abroad, please! Don't ask me to compromise with these corrupt people."
PM Pakistan @ImranKhanPTI's replied. pic.twitter.com/r5Fk2494AK— Farhan Ahmad Khan (@TheFarhanAKhan) February 5, 2020
ایک بات البتہ کسی قدر نئی ہے ۔ عمران خان نے ایک کمیٹی نما چیز بنانے کا اشارہ دیا ہے جس میں آزاد کشمیر کی قیادت اور حریت کے نمائندوں کی مشاورت سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے پر کام شروع کیا جائے گا۔ یہ کافی مبہم تصور ہے لیکن آج کی اس پوری کارروائی میں مجھے خبر نام کی کوئی چیز نہیں ملی ۔ یہی چھوٹی سی ایک اطلاع سی ہے ، فی الحال اسی پر گزارہ کرنا ہوگا۔’ ہاں پاکستانی سیاسی تناظر میں ”مفاہمت کا مشورہ اور عمران خان کا انکار” میڈیائی مسالے کا کام دے سکتا ہے.
یہ سرکاری یکجہتی کی رسمی تقریب تھی جو مکمل ہوئی ۔ کوئی ولولہ ہے اور نہ کوئی جوش ہے ۔ مسئلہ لوگوں کا نہیں ہے مسئلہ ان قیادتوں کا ہے جو ابھی تک گو مگو کا شکار ہیں ۔ کشمیری قیادت اپنے لوگوں کو کنفیوژ کر رہی ہے اور پاکستانی قیادت معمول کی کارروائی میں مصروف ہے ۔
فوجیوں نے ایک نغمہ جاری کر کے یکجہتی منائی ہے جس میں ریاست جموں کشمیر پر پاکستان کی ملکیت کے دعوے کی تکرار کشمیریوں کی آزادی کے مطالبے کی حمایت سے زیادہ نمایاں ہے۔ اس کے تھیم میں پروپیگنڈا غالب ہے۔ گویا کچھ نہیں بدلا۔
میں سوچتا ہوں یہ کیا تماشا ہے؟ یوں بھی کوئی کرتا ہے بھلا؟