32 سالہ ابرار اُن 296 کرونا کے مریضوں میں سے ہے، جن کا تعلق ضلع ملاکنڈ سے ہے۔ ابرار سوات کے ایک نجی بینک میں ملازم ہیں اور دوست (جو سوات کے دوسرے نجی بینک میں ملازم ہے)کے ساتھ گاڑی میں سوات گیا تھا ۔ ابرار کے مطابق دو دن بعد جسم درد کرنے لگا اور بخار بھی تھا، انجکشن لگوایا لیکن ٹھیک نہیں ہورہا تھا۔ شام کو پتہ چلا کے اس دوست کو کرونا ہوگیا ہے، جس کے ساتھ سوات گیا تھا، دو دن پہلےصبح ڈی ایچ کیو بٹ خیلہ ایمرجنسی گیا تو ڈاکٹروں کے ناروا سلوک نے سخت پریشان کیا۔ ڈاکٹروں سے پوچھا کہ میں کوئی خودکش تو نہیں کہ آپ لوگ مجھ سےاس طرح کا سلوک کررہے ہیں ، حالانکہ ڈاکٹروں نے حفاظتی کیٹس بھی پہنے ہوئے تھے۔
وہاں سے نکلا اور اس دوست کو فون کیا، جو ڈی ایچ کیو میں ملازم ہے، اُس کو تمام صورت حال سے آگاہ کیا تو اس نے نئی بلڈنگ میں آنے کو کہا جہاں ٹیسٹ کیلئے سیمپل لیا گیا۔ دو دن بعد رزلٹ آیا جو پازٹیوں تھا لیکن بیوی اور چھ سالہ بچے کے پازٹیو ٹیسٹ نے زہنی مریض بنا دیا۔
آئسولیشن سنٹر کیوں نہیں گئے؟
اس سوال کے جواب پر ان کا کہنا تھا کہ میرا دوست وہاں موجود تھا، اس نے بتایا کہ یہاں ایک ہی کمرےمیں بہت زیادہ مریض ہیں اور سب کیلئے ایک ہی واش روم ہے، اس لئےمیں نے گھر میں رہنے کو ہی ترجیح دی، لیکن اس فیصلے تک میرے بیوی اور بچے کا رزلٹ نہیں آیا تھا۔ دو دفعہ ضلع انتظامیاں کی طرف سے کچھ دالیں، شربت وغیرہ آیا تھا۔ ڈاکٹر لیاقت جو خود کرونا وائرس سے متاثر تھا اور پشاور میں آئسولیٹ تھا، اس نے دن میں دو دو دفعہ فون کیا اور حوصلہ دیتا تھا ۔ یونین کونسل کی سطح پر ڈاکٹر ادریس بھی ملنے آتا تھا۔
حیات آباد میڈیکل کمپلکس میں میڈیکل افیسر ، 27 سالہ ڈاکٹر لیاقت جس کا تعلق ضلع ملاکنڈ سے ہے، جو کرونا سے متاثرہ ڈاکٹرز میں سے تھے۔ ڈاکٹر لیاقت کے مطابق حیات آباد میڈیکل کمپلکس آئسولیشن وارڈ میں سات دن ڈیوٹی کی تو اسی دن ڈاکٹر جاوید شہید ہوگیا، اس کا جنازہ بھی پڑھا۔ ڈیوٹی کے بعد 14 دن کیلئے ویسے قرنطینہ ہونا تھا اور پانچوں دن تکلیف شروع ہوگئی۔ چونکہ میں نے آئسولیشن وارڈ میں ڈیوٹی کی تھی ، اس لئے مجھے ہر سٹیج کا علم ہوتا تھا۔ میں ٹیسٹ کیلئے گیا اور تو سیمپل لینے والے ڈاکٹروں نےاس طرح ڈیل کیا جیسے میں گٹر میں گرنے کے بعد ان پاس آیا ہوں۔ ڈی ایچ کیوں بٹ خیلہ میں ٹیکنیشن ٹیسٹ کیلئے سیمپل لیتا ہے لیکن ایچ ایم سی میں ڈاکٹرز سیمپل لیتے ہیں اور اس طرح کا رویہ آپ ڈاکٹرز سے نہیں کرسکتے، اس لئے میں سخت پریشان ہوا۔ پھر ایم ڈی “ایچ ایم سی” ڈاکٹر شہزاد سے رابطہ کیا تو وہ خود آیا اور میرا ٹیسٹ ہوگیا۔ ڈاکٹر شہزاد نے حوصلہ دیا اور آخری دن تک اپنے بچوں کی طرح خیال رکھا۔ ڈاکٹر لیاقت کا کہنا تھا کہ میں باقائدگی کے ساتھ سوشل میڈیا کا استعمال کرتا تھا۔
جس کی وجہ سے مجھے لوگوں کے بارے میں پتہ چلتا تھا کہ کون کون اس وائرس سے متاثر ہوا ہے۔ گاؤں کے ابرار سمیت تین جونیئرر ڈاکٹر (جو کرونا سے متاثر تھے )کے ساتھ رابطے میں تھے اور جو میڈسن موجود تھیں ، وہ اور حوصلہ دیتا تھا۔ ایک دن مجھے سانس کا مسئلہ شروع ہوگیا اور مجھے لگا میرا آخری وقت قریب آ چکا ہے۔ اسی دوران ابرار نے فون کیا اور کہا کہ میں پشاور آرہا ہوں ، میرے حالات ٹھیک نہیں ہیں ۔ میں نے اس کو حوصلہ دیا لیکن اس کو یہ احساس تک نہیں ہونے دیا کہ میں خود کس اذیت سے گزر رہا ہوں ۔ حالانکہ میں بات بھی مشکل سے کر رہا تھا۔ مشکل وقت تھا گزر گیا۔اب کچھ دنوں میں پلازمہ ڈونیٹ کروں گا۔ جس سے کسی انسان کی زندگی بچ جائے گی۔
یہ تھی کرونا سے متاثرہ دو جوانوں کی کہانی جو کرونا وائرس سے لڑ کر اپنی زندگی میں واپس آگئے تھے۔
ڈی ایچ او ملاکنڈ ڈاکٹر وحید گل بھی کرونا وائرس سے متاثر ہونے والوں میں ایک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کرونا اب ڈینگی،ایڈز اور ملیریا کی طرح اس دنیا میں رہے گا، لیکن اس کی ویکسین بننے تک اس سے بچ کے رہنا ہوگا۔
[pullquote]ضلع ملاکنڈ میں ٹیسٹ کم کیوں ہوتے ہیں؟[/pullquote]
اس کے جواب میں ڈاکٹر وحید گل کا کہنا تھا کہ ہم نے 2000 ٹیسٹ کٹس مانگی تھیں لیکن ہمیں صرف 200 کٹس ہی مل سکیں ، صوبے کے پاس خود کمی کا سامنا ہے، اس وجہ سے ہم ٹیسٹ بھی کم ہی کرتے ہیں۔
ڈاکٹر وحید گل سے سوال کیا گیا کہ ریکارڈ کے مطابق 29 فیصد ٹیسٹ پازٹیو آرہے ہیں اگر روزانہ 1000 کیے جائیں تو 29 فیصد ٹیسٹ پازٹیو آئیں گے؟
ڈاکٹر وحید گل نے بتایا کہ کرونا وائرس نے پورے معاشرے کو گھیر لیا ہے، لیکن لوگوں میں قوت مدافعت بہتر ہے ، جس کی وجہ سے اس کا پتہ نہیں چل رہا۔ انہوں نے کہا کہ اگر روزانہ ہزار ٹیسٹ کریں تو لوگ ذہنی طور پر ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں ، یہ کہا جا سکتا ہے کہ کرونا پھیل چکا ہے، اس لیے زیادہ ٹیسٹ کیے تو زیادہ کیسسز ہوں گے، یہ ان لوگوں کے ٹیسٹ ہیں جو پازیٹیو ہیں .
[pullquote]مالاکنڈ میں کل کتنے کیس سامنے آئے ہیں ؟[/pullquote]
اس وقت تک ڈی سی ملاکنڈ کے دفتر سے جاری کردہ معلومات کے مطابق ضلع ملاکنڈ میں کل 1137 ٹیسٹ ہوئے، جس میں 308 پازٹیو ،51 کا رزلٹ نہیں آیا ، جبکہ 113 افراد صحتیاب ہوگئے ہیں ، جبکہ آٹھ افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق اوسطاً 28 فیصد ٹیسٹ پازٹیو آرہے ہیں ، جبکہ دس روز پہلےیہ شرح 20 فیصد تھی ۔ جنس کے حساب سے ضلاع ملاکنڈ میں 71 مرد جبکہ 29 فیصد خواتین کرونا وائرس سے متاثر ہے۔