ممتاز محقق و ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی انتقال کر گئے

ملک کے ممتاز محقق، خاکہ نگار، ماہر تعلیم اور فارسی کے پروفیسر ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی 85 سال کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے۔

پروفیسر ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی 9 اکتوبر 1935 کو شیرانی آباد ضلع ناگور ریاست جودھ پور میں پیدا ہوئے وہ اردو کے معروف محقق پروفیسر حافظ محمود خان شیرانی کے پوتے اور نامور رومانوی شاعر اختر شیرانی کے صاحبزادے تھے۔

پروفیسر ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی لاہور سے ایم اے تاریخ اور ایم اے فارسی کی ڈگریاں حاصل کر کے شعبہ تعلیم سے منسلک ہوئے اور انہوں نے فارسی کے استاد کے طور پر شہرت پائی۔

ڈاکٹر مظہر محمود نےحافظ محمود خان شیرانی کی علمی و ادبی خدمات پر مقالہ لکھا اور اردو میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

انہوں نے رٹائرمنٹ کے بعد خاکہ نگاری کی طرف بھی توجہ دی اور 4 مجموعے بعنوان ‘کہاں گئے وہ لوگ’، ‘کہاں سے لاؤں انہیں’، ‘جانے کہاں بکھر گئے’ اور ‘بے نشانوں کا نشاں’ کے نام سے لکھے۔

علاوہ ازیں ان کے تحقیقی مقالات کی تعداد 50 سے زائد ہے۔

[pullquote]پروفیسر مظہر محمود شیرانی[/pullquote]

تحریر: عبدالغفار شیرانی

معروف خاگہ نگار، مشہور محقق، ممتاز مدرس اور مشہور فارسی داں پروفیسر مظہر محمود شیرانی ۹ اکتوبر ۱۹۳۵ء کو ہندوستان میں راجپوتانہ کی ریاست جودھپور کے گاؤں شیرانی آباد میں پیدا ہوئے. وہ ممتاز شاعر اختر شیرانی کے فرزند اور معروف محقق حافظ محمود شیرانی کے پوتے ہیں.

ابتدائ تعلیم دربار ہائی سکول ٹونک سے حاصل کی. دادا کی وفات کے کچھ عرصہ بعد ۱۹٤٨ء کے وسط میں اپنے بعض رشتہ داروں کے ہمراہ کھوکھرا پار کے راستے لاڑکانہ پہنچے. چند ماہ میونسپل ہائی سکول لاڑکانہ میں بھی زیر تعلیم رہے. اسی دوران ان کو لاہور میں موجود اپنے والد کی علالت کا پتہ چلا، چنانچہ ستمبر ۱۹٤٨ء میں اپنے چھوٹے بھائی تاثیر محمود، والدہ اور دادی جان کے ہمراہ لاہور کے لئے رخت سفر باندھا، لیکن ان کے لاہور پہنچنے سے قبل ہی ان کے والد اختر شیرانی رحلت کرچکے تھے.

مظہر محمود شیرانی نے شیخوپورہ سے میٹرک اور لاھور سے ایف اے، بی اے اور اس کے بعد تاریخ میں ایم اے کیا. ہسٹری میں ماسٹر کے بعد فارسی سے قلبی تعلق کے باعث آپ اورینٹل کالج پہنچے، جہاں سید وزیرالحسن عابدی ان کے استاد ٹہرے. یوں دوبارہ فارسی میں ایم اے کا امتحان پاس کیا.

تعلیم سے فراغت کے بعد پہلے گورنمنٹ کالج لاہور اور بعد ازاں گورنمنٹ کالج شیخوپورہ میں تدریسی خدمات سرانجام دیں. آپ نے ۱۹٦٣ء سے شیخوپورہ میں رہائش اختیار کی ہے اور تاحال وہیں مقیم ہیں. ۱۹۹۵ء میں گورنمنٹ کالج شیخوپورہ سے ریٹائرڈ ہوئے لیکن ۲۰۰۳ء میں اکیاون جلدوں پر مشتمل فارسی لغت کو مرتب کرنے کا کام شروع کیا جو انہیں ایک بار پھر گورنمنٹ کالج لاہور لے آیا.

مختلف موضوعات پر ان کے علمی و تحقیقی مضامین وقتا فوقتا ملک کے ممتاز ادبی و صحافتی جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں. اسی کی دہائی میں انہوں نے اپنے دادا پر پی ایچ ڈی مکمل کی. "حافظ محمود شیرانی اور ان کی علمی و ادبی خدمات” کے عنوان سے مذکورہ مقالہ نومبر ۱۹۸٤ء میں پایہ تکمیل کو پہنچا اور جون ۱۹۹۳ء میں پہلی دفعہ چھپ کر مارکیٹ میں آگیا. ساڑھے پانچ سو سے زائد صفحات پر مشتمل مذکورہ کتاب میں انہوں نے تحقیق کا حق ادا کیا ہے.

پروفیسر مظہر محمود شیرانی کو خاکہ نگاری میں کمال حاصل ہے. ۲۰۰٦ء میں "بے نشانوں کا نشاں” کے عنوان سے ان کے لکھے ہوئے خاکوں کی پہلی کتاب منظر عام پر آئی. مذکورہ کتاب معاشرے کے چند عام افراد کے خاکوں پر مشتمل ہے، جنہیں پروفیسر صاحب نے اپنے قلم کے جادو سے امر کردیا ہے.

دسمبر ۲۰۱۱ء میں "کہاں سے لاؤں انہیں؟” کے نام سے ان کے تحریر کردہ خاکوں کی دوسری کتاب شائع ہوئی، جس میں برصغیر کے بارہ ممتاز علمی و ادبی شخصیات کے خاکے شامل ہیں. اس کتاب کا پہلا خاکہ ان کے اپنے والد اختر شیرانی کا ہے. اختر شیرانی پر ان سے قبل معروف ادیب سعادت حسن منٹو بھی خاکہ لکھ چکے ہیں، لیکن منٹو صاحب کے تحریر کردہ خاکے کا بیشتر حصہ شراب و شباب کے تذکرے پر مشتمل ہے. پروفیسر مظہر محمود نے مذکورہ خاکے میں اپنے والد کی زندگی کے مختلف گوشوں کی جھلکیاں پیش کرکے ان کا ایک مختلف روپ دکھایا ہے. پروفیسر صاحب کی مذکورہ کتاب کو ملک بھر کے علمی و ادبی حلقوں میں کافی پذیرائی ملی ہے.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے