کچھ دن پہلے ایک جنازے میں شرکت کی، وہاں کی گئی ایک بات نے مجھے ابھی تک پریشان کیا ہوا ہے، یہ اس گھر کی کہانی ہے ، جہاں سے کچھ دیر پہلے ان کی والده رخصت ہوئیں۔ ان کے دو بچے ہیں، بیٹی جو نویں جماعت کی بورڈ کے پیپرز دے رہی ہے اور بیٹا جو کہ وسائل کی کمی اور باپ کی بیماری کی وجہ سے سے تعلیم سے محروم رہا، باپ کی ایک دکان تھی ،جو بیمار ہونے پر بند رہتی ، یہ دکان ان کا ذریعہ معاش تھی، بیٹے کی پیدائش سے پہلے ہی ٹی بی کے باعث پچھلے سال21 اپریل کو باپ کا انتقال ہو چکا تھا، جب ان کا بیٹا دس سال کا ہوا،تب اس نے دکان پر جانا شروع کر دیا۔
غربت اور بیماری دونوں کا ساتھ بہت مضبوط ہوتا ہے، غربت انسان سے اپنے پرائے سب چھین دیتی ہے اور آپ کے قریبی اس وقت آپ کے پاس آتے ہیں، جب آپ آخری سفر کے لئے تیار ہو رہے ہوتے ہیں، ایسے میں جب محلے میں میت کے لئے بڑی بڑی گاڑیاں آتی ہیں توان جیسے رشتے داروں کا پرده چاک کر دیتی ہیں ،جو مشکل وقت میں ہر قسم کے حالات سے بخبر ہونے کے باوجود دم دبا کر بھاگ جاتے ہیں، جب محلے دار ان گاڑیوں کو جنازے پر دیکھ کر یہ کہنے پر حق بجانب ہیں کہ! اتنے امیر لوگ ان کے رشتہ دار ہیں تو ساری زندگی کہاں تھے ،کیا اب کفن اور اچھا کھانا دے کر ان کا حق ادا ہوجائے گا؟؟؟؟
اب جبکہ نہ اس گھر کا مالی رہا اور نہ سائبان تو ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ رشتوں میں اتنی لاپرواہی کرتے ہیں ، خاندان میں کسی غریب رشتے دار کی شوگر یا کسی اور جان لیوا بیماری سے اگر موت ہوگئی ہو تو پھر کہتے ہیں کہ انھوں نے پرہیز نہیں کی ، نہ مرض کی تشخیص کروائی اور نہ علاج !!!!!! مرنا تو تھا ہی نا!!!!
جب ان کو اس میں دلچسپی نہیں تھی کہ
مجھے ان کی موجودگی اپنے گھر میں پسند نہیں تھی…..
ان کے گھر مجھے جاناپسند نہیں تھا ……
مجھے اس میں دلچسپی نہیں تھی کہ انکا گزربسر کیسے ہوتا تھا….
تو…….
مجھے اس میں بھی دلچسپی نہیں ہونی چاہیے کہ انہوں نے غربت کا علاج کیوں نہیں کیا………
بہتر تو یہ تھا کہ اگر آج بھی وہ نه جاتے تو انکا بھرم رہ جاتا کہ انکے رشتہ دار ان جیسے نہیں بلکہ امیر کبیر ہیں……..
ہم موت کا انتظار کیوں کرتے ہیں کہ کوئی مرے گا تو ہی ہم جائیں گے، زندہ لوگوں کہ مدد نہیں کریں گے ، زندگی تو غربت سے آگاہی اور مدد کرنے کا نام ہے ، تماشہ کرنے کا نام نہیں ہے، ….
غربت پیٹ سے آگے کچھ سوچنے ہی نہیں دیتی….