سندھ ہائی کورٹ ایچ ای سی ترمیمی آرڈیننس 2021 سے متعلق فیصلہ آج دے گی

سندھ ہائیکورٹ ایچ ای سی (ترمیمی) آرڈیننس 2021 کی قانونی حیثیت اور ڈاکٹر طارق بنوری کو ایچ ای سی کے چیئرپرسن کے عہدے سے برخاست کرنے کے اہم معاملہ میں آج (پیر ، 17 مئی 2021) سماعت پر فیصلہ کرے گا۔ڈاکٹربنوری نے 25 مارچ 2021 کو حکومت کی جانب سے ایچ ای سی (ترمیمی) آرڈیننس 2021 نافذ کرنے کے بعد عدالت سے رجوع کیا ، جس کے ذریعے چیئرپرسن کی میعاد 4 سے کم کرکے 2 سال کردی گئی اور ایچ ای سی کو وفاقی وزارت تعلیم کے تحت رکھا گیا۔

حکومتی اقدام پر بڑھتی عوامی تنقید کے پیشِ نظر 3000 سے زائد ممتاز ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے وزیر اعظم کو ایک کھلا خط بھی لکھا ہے جس میں آرڈیننس کو واپس لینے اور آزاد قومی ریگولیٹری باڈی کی حیثیت سے ایچ ای سی کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
خط پر دستخط کرنے والوں میں ماہرین تعلیم ، وائس چانسلرز ، صحافی ، سابق سفیر ، جرنیل اور دیگر سرکاری عہدیدار، پارلیمنٹیرین اور انسانی حقوق کے علمبردار جن میں لمز کے بانی سید بابر علی، انسانی حقوق کی رہنما محترمہ حنا جیلانی ،حارث خالق، کرامت علی، ڈاکٹر قبلہ ایاز ،پروفیسر قاسم جان، پروفیسر عادل نجم، محترمہ خاور ممتاز، نامور صحافی ایم ضیاالدین، حسین نقی، ماہرین تعلیم شمش قاسم لکھا، محترمہ شہناز وزیر علی، ڈاکٹر عائشہ رزاق، فاروق ثمر، سابق سینیٹرز جاوید جبار اور فرحت اللہ بابر شامل ہیں۔
دستخط کنندگان نے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہےکہ وفاقی حکومت نے لاکھوں طلبا کی زندگی کو متاثر کرنے والے اہم فیصلے کو پارلیمنٹ ، مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) ، یا اعلی تعلیم کے کمیشن سے مشورہ کیے بغیر عجلت میں لیا۔ یہ تمام آئینی ادارے ہیں جو اس معاملہ سے بالواسطہ منسلک ہیں۔
نامور ماہرِ تعلیم اور ممبر ایچ ای سی شہناز وزیر علی نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت نے اس گھناؤنے اقدام سے پہلے کوئی کسی قسم کی مشاورت نہیں کی اور نہ ہی کوئی ٹھوس وجہ فراہم کی۔
اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں سینیٹر شیری رحمٰن اور مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری پروفیسر احسن اقبال نے حکومتی اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ترمیمی آرڈیننس کو سینیٹ میں رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ڈاکٹر طارق بنوری نے اعلیٰ تعلیم کے لئے اپنے وژن کا خاکہ پیش کیا جس میں معیاری تعلیم کی فراہمی سے یونیورسٹی ڈگریوں کے تقدس کا بحال کرنے پر توجہ دی گئی۔ انہوں نے ماضی میں معیارِ تعلیم کو یقینی بنائے بغیر فارغ التحصیل گریجویٹس کی تعداد بڑھانے پربھی تنقید کی۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ایچ ای سی کی بطور آزاد خودمختار قومی ادارہ منسوخی اور وفاقی حکومت کےماتحت ادارہ کے طور پر منتقلی سے بین الصوبائی تعلقات کے ساتھ ساتھ اعلی تعلیمی اداروں کی خودمختاری پر بھی مضمر اثرات ہوں گے۔
انہوں نے چیئرپرسن کی میعاد کو دو سال کم کرنے کے پیچھے کی منطق پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ مختصر مدت سے اعلیٰ تعلیم کے معیار میں بہتری آئے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چیئر پرسن کی مدت تعیناتی کو دیئے گئے قانونی تحفظ کو ختم کرنے سے حکومت کے اسی طرح کے وعدے بیکار ہوجائیں گے اور اس سے انتظامی مسائل پیدا ہوں گے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر طارق بنوری ہارورڈ کے تربیت یافتہ ماہر معاشیات ہیں جن کو ایک آزاد سلیکشن بورڈ کی سفارش پر مقرر کیا گیا تھا ، جو مکمل طور پر پیشہ ور افراد پر مشتمل تھا ، اور اس میں حکمران سیاسی جماعت کی شمولیت نہ تھی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے