مردان شہر سے 8 کلو میٹر دور حمزہ خان گاؤں کے دریاکنارے حشرات کی شاہین ” بھنبھری” ایک چھوٹی سی بوٹی پر بہت دیر سے بیٹھی ہوئی ہے۔ تھوڑی سی تیز ہوا چلے یا کوئی اس کو پکڑنے کی کوشش کرے تو یہ فوراَ اڑ جاتی ہے لیکن ایک چکر لگا کر واپس اُسی بوٹی پر ہی بیٹھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حمزہ خان گاؤں کے بچے اس کو آسانی سے پکڑ تے ہیں۔ بچوں کیلئے بھنبھری کا شکار ایک کھیل سے بڑھ کر کچھ نہیں، وہ نہیں جانتے کہ یہ نازک چار پروں والی حشرات کی شاہین جو اپنی ایک پرواز سے سمندر پار کرسکتی ہے انہی بچوں کے ماحول کی محافظ ہے۔ وہ بچے یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ بڑی بڑی آنکھوں والی شاہین ہزاروں سال سے ہمارے ماحولیاتی نظام کی حفاظت پر مامور ایک سپاہی کی مانند ماحول سے زہریلے حشرات کا خاتمہ کرتی چلی آرہی ہے۔ حمزہ خان گاؤں سمیت ضلع مردان کے ہر گاؤں میں بھنبھریوں سے کھیلنے والے تمام بچے شائد اس بات سے بھی لا علم ہیں کہ مردان میں ملیریا اور ڈینگی پھیلانے والے ماحول دشمن مچھروں کا صفایا کرنے والی یہ رنگ برنگی بھنبھری خاموشی سے ہمارے ماحولیاتی نظام سے معدوم ہونے جا رہی ہے۔

حمزہ خان گاؤں سے گزرنے والے چھوٹے دریا جسے مقامی زبان پشتو میں "گودر” کہتے ہیں کے کنارے پرآباد 50 سالہ کسان نورمحمد خان نے بھنبھری کی موجودگی کے حوالے سے کہا کہ آج سے تقریبا 20 سال پہلے مختلف رنگوں والی بھنبھریاں دریا کنارے اور آس پاس کھیتوں میں آبپاشی کے نالوں پر ہر وقت منڈلاتی نظر آتی تھیں، لیکن اب نا صرف ان کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے بلکہ انکی مختلف اقسام بھی اب نظر نہیں آتیں۔
[pullquote]ماحول دوست حشرات کی معدومی اورانسانوں میں پھیلتی بیماریاں؟[/pullquote]
دنیا کی بیشتر سائنس سٹڈیز سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ انسانوں میں حشرات و حیوانات سے مختلف بیماریاں منتقل ہو رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی ماحول کیلئے مختص یو این انوائرمنٹ پروگرام کی 2020 میں جاری کردہ معلومات کے مطابق 75 فیصد بیماریاں حشرات اور حیوانات سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہیں۔ دوسری طرف حیاتیاتی نظام پر نظر رکھنے والی عالمی آزاد بین الحکومتی ادارے انٹرگورمینٹل سائنس پالیسی پلیٹ فارم آن بائیو ڈائیورسٹی اینڈ ایکو سسٹم سروسز( آئی بی پی ایی ایس) نے پچھلے سال آگاہ کیا تھا کہ دنیا سے 10 لاکھ انواع کے معدوم ہونے کا خطرہ ہے جسکا براہ راست اثر انسانی زندگی پر ہوگا۔
ڈینگی اور ملیریا عالمی بیماریاں ہیں مگر پاکستان جیسے ملکوں کیلئےیہ اب بھی ایک بہت بڑا خطرہ مانا جاتا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ ملیریا اور ڈینگی بخار کی بنیادی وجہ ایک خاص قسم کا مچھر ہے جس کے کاٹنے سے یہ بیماریاں تیزی سے پھیلتی ہیں۔ حشرات کی شاہین بھنبھری کی خوراک وہی مچھر ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایک بھنبھری دن میں 40 سے لیکر 100 تک مچھروں کا شکار کرتی ہے۔
حمزہ خان گاؤں کے نور محمد خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پہلے ان کے گاؤں میں ملیریا کی بیماری اتنی زیادہ نہیں تھی جتنی آج ہے، نور محمد خان کے بچے بھی ملیریا سے متاثر ہوچکے ہیں۔ ضلع مردان کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق 2019 سے مارچ 2021 تک 13448 ملیریا کے مثبت کیسز سامنے آئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوں ایچ او) کے مطابق پاکستان میں ہر سال 5 لاکھ لوگ ملیریا سے متاثر ہو رہے ہیں جن میں 50 ہزارلوگ مر جاتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق سال 2019 میں 8 جولائی سے 12 نومبرتک ڈینگی بخار کی وجہ سے پاکستان میں 47120 لوگ متاثر ہوئے ہیں جن میں 75 لوگ مر چکے ہیں۔
[pullquote]بھنبھری صحت مند ماحول کی نشانی کیوں ہے؟[/pullquote]
خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں اس نوع کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے جن میں (ڈم ، ڈمڈکئی، بھیمبیرکئی، ستنکئی اورپرپرکئی) شامل ہیں۔ ماحول دوست نوع ڈریگن فلائی کا شمار دنیا کی قدیم ترین حشرات میں سے ہو تا ہے۔ عبدالولی خان یونیورسٹی میں ذوالوجی ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد قیاش خان نے اس حوالے سے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ڈریگن فلائی حشرات کی "اوڈونیٹا” نامی خاندان تقریبا 300 ملین سال پرانی ہے، اور اس نوع کا شمار اُن اولین سپیسز میں ہوتا ہے جنکو قدرت نے سب سے پہلے پر عطا کیے تھے۔

قیاش خان نے ڈریگن فلائی کی نیچر کے حوالے سے بتایا کہ یہ بہتے ہوئے صاف پانی کے ساتھ رہتی ہے جہاں ریڈز پلانٹ یعنی سرکنڈا کے پودے زیادہ ہو وہاں یہ بسیرا کرتی اور پانی میں افزائش نسل بڑھاتی ہیں۔ دنیا بھر میں بھنبھری کی 5000 سے زیادہ اقسام پائی جاتی ہیں۔ پروفیسر نے بتایا کہ یہ نوع اپنی بڑی آنکھوں سے چاروں طرف دیکھ سکتی ہے اور یہ 35 میل فی گھنٹہ رفتار سے سفر کرتی ہے، اور اسکی رفتار ہی اسکی منفرد خاصیت ہے۔
پروفیسر نے مزید بتایا کہ سائنسدان اس نوع کو ماحول کیلئے ایک بائیولوجیکل انڈیکیٹر سمجھتے ہیں یعنی ” بھنبھری کا معدوم ہونا حیاتیاتی نظام کیلئے خطرے کی نشانی ہے”۔

یہ نوع پیدا ہوکر تین مرحلوں سے گزرتی ہیں پہلے اور دوسرے مرحلے میں یہ پانی کے بہت قریب رہتی ہے، ان ابتدائی مرحلوں میں یہ پانی کو صاف رکھتی ہے۔ اسکی خوراک زہریلے حشرات کا لاروا اور دوسرے چھوٹے زہریلے حشرات ہوتے ہیں۔ تیسرے مرحلے میں یہ پانی سے نکل کر دور دور پرواز کرتا ہے وہ بڑے مچھروں اور مکیوں کا شکار کرتی ہیں۔
ڈاکٹر قیاش نے بتایا کہ بھمبری ہر لحاظ سے ما حول دوست ہے اسکا بنیادی رول ہی ماحولیاتی نظام کی حفاظت کرنا ہے۔
[pullquote]ماحول دوست بھنبھری کیوں معدوم ہو رہی ہے؟ [/pullquote]
عالمی ادارے "انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر” کی جانب سے معدوم ہونے والی سپیسز کی ریڈ لسٹ میں فلائی ڈریگن شامل ہے۔ ادارے کے مطابق بھنبھری کی کچھ اقسام مکمل طور پر ختم ہوچکی ہیں جبکہ باقی معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ پروفیسر قیاش خان نے اس نوع کی موجودگی کے حوالے سے کہا کہ پچھلے 30 سالوں کے ریسرچ سے یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ فلائی ڈریگن میں 60 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔
ضلع مردان اور خیبر پختونخوا سے بھنبھری کی معدومی کے حوالے سے قیاش خان نے کہا کہ اس حوالے سے حکومت یا کسی ادارے کی جانب سے کوئی مستند ریسرچ موجود نہیں ہے البتہ انکی ذاتی رائے کے مطابق یہ نوع خیبر پختوںخوا کے مختلف علاقوں سے معدوم ہونے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھنبھری کی معدوم ہونے کی سب سے بڑی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں، فصلوں کی بہتری کیلئے استمعال ہونے والی زرعی ادویات اور گھروں میں استمعال ہونے کے بعد ضایع شدہ پانی دریا اور نہروں میں گرتا ہے جس سے وہ پانی زہریلہ ہو جاتا جو بھنبھری سمیت پانی سے وابستہ دوسرے ماحول دوست انواع کیلئے بھی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔
[pullquote]پاکستان میں گمنام ماحول دوست حشرات[/pullquote]
ماحولیاتی نظام کو برقرار رہنے کیلئے ماحول دوست انواع کی موجودگی ناگزیر ہے، جوخوراک انسان تک پہنچتی ہے وہ کئی انواع بشمول حشرات کی وجہ سے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ سے منسلک ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ ہمارے ماحولیاتی نظام میں 98 فیصد ماحول دوست حشرات موجود ہیں جن کی بدولت ہماری زرعی اجناس کی تکمیل ہوتی ہے لیکن بد قسمتی سے انکے تحفظ کے حوالے سے موجودہ قوانین اور پالیساں خاموش ہیں۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ ویسے تو بھنبھری سمیت دوسرے ماحول دوست حشرات اینٹامالوجی "علم حشرات الارض” ایگریکلچر ایکسٹینشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت ہے لیکن خیبر پختونخوا ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ ان ماحول دوست حشرات کو تحفظ نہیں دے سکتی۔ ڈاکٹر نے کہ ماحول کے تحفظ کیلئے (خیبر پختونخوا وائلڈ لائف اینڈ بائیو ڈاورسٹی پروٹیکشن پریزرویشن کنزرویشن اینڈ منیجمنٹ ایکٹ 2015 ) موجود تو ہے لیکن اس میں بھی ماحول دوست حشرات کا مخصوص ذکرنہیں ہے۔ ڈاکٹر نے انکشاف کیا کہ ماحول دوست حشرات کو ایک بڑا خطرہ بعض زرعی ادویات سے بھی ہیں، "ایگریکلچر پیسٹی سایڈ ایکٹ” کے تحت زرعی ادویات بنانے والی کمپنیوں کو اجازت ملتی ہے۔ بھنبھری کی معدومی کے حوالے سے ڈاکٹر نے کہا کہ مارکیٹ میں ایک سپرے لیمڈا کے نام سے موجود ہے جو تقریبا ہر زمیدار اپنی سبزیوں پر سپرے کرتا ہے یہ بھنبھری اور دوسرے ماحول دوست حشرات کیلئے انتہائی خطرناک ہے، ڈاکٹر نے کہا بعض زرعی ادویات کے استمعال سے ماحول دوست حشرات معدوم ہو رہے ہیں لیکن متعلقہ محکمے اس حوالے سے خاموش ہیں۔ ڈاکٹر نے کہا کہ اس وقت بھنبھری جیسی بہت سی ماحول دوست حشرات معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

پاکستان عالمی معاہدے "کنونشن آن بائیو لوجیکل ڈاورسٹی” ( سی بی ڈی) کا سیگنیٹری بھی ہے، اس معاہدے کی رو سے دنیا کے تمام ممالک نے بائیو ڈاورسٹی کے تحفظ کیلئے اہداف مقررکیے ہیں۔ پاکستان نے بھی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کیلئے 20 اہداف مقرر کیے ہیں۔ ان اہداف اور قوانین کے باوجود پا کستان میں بھنبھری سمیت کئی ایسی ماحول دوست سپیسز ہیں جو خاموشی سے ہمارے ماحولیاتی نظام سے غائب ہو رہی ہیں۔ ضلع مردان کے حمزہ خان گاؤں کے گودر کنارے اب وہ رنگ برنگی بھنبھریاں نظر نہیں آتی۔
[pullquote]آصف مہمند براڈکاسٹ جرنلسٹ ہیں اور ماحول سے متعلق موضوعات پر لکھتے ہیں۔[/pullquote]