لکی مروت ریسکیو 1122 کی ٹیم نے ماں اور بچی کی جان بچا لی

لکی مروت تحصیل نورنگ میں ریسکیو 1122 کی ایمر جنسی میڈیکل ٹیکنیشن ٹیم نے بروقت اور پیشہ ورانہ فیصلہ لیا، خاتون کے گھر میں ہی ڈیلیوری کر دی ماں اور بچی دونوں محفوظ۔

میڈیکل ٹیکنینشن کی ٹیم اگر حاملہ خاتون گو زچکی کیلئے ہسپتال لیکر جاتے تو ماں اور بچے کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔ ریسکیو کی تجربہ کار میڈیکل ٹیکنیشنز آمان اور کوثرجبین نے خاتون کی حالت دیکھ کر گھر میں ہی ڈیلیوری مناسب سمجھی۔ماں اور بچی دونوں محفوظ ہیں۔

سرائے نورنگ کے سپرلی خیل گاؤں سے ہفتے کو صبح سویرے ریسکیو 1122 کے کنٹرول روم کو ڈیلیوری کیس کی ایک کال موصول ہوئی۔ میڈیکل ٹیکنیشن کی ٹیم ایمبولینس میں جلد ہی سپرلی خیل گاؤں پہنچ گئی لیکن وہاں خاتون کی حالت ایسی نہیں تھی کہ اُسے ہسپتال لے جایا جا سکے۔ میڈیکل ٹیکنیشن کی ٹیم نے ماں اور بچے کی جان بچانے کی خاطر بروقت فیصلہ لیا اور گھر والوں کی اجازت سے اسی گھر میں ہی بچے کی پیدائش کو ممکن بنایا۔

سپرلی خیل گاؤں سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ عابد اللہ جو ایک ٹریکٹر ڈرائیور ہے نے آئی بی سی اردو کو بتایا کی ہفتےکی صبح جب وہ مزدوری کیلئے نکل رہا تھا تو اسکی بیوی کی طبیت اچانک خراب ہوئی۔ عابد اللہ نے کہا کہ وہ غریب ہیں پرائیوٹ علاج نہیں کرسکتے، جب بیوی کی حالت خراب ہوئی تو ہم نے 1122 سے رابطہ کیا اور ان کی ٹیم جلد ہی پہنچ گئی۔ عابد اللہ نے میڈیکل ٹیکنیشن ٹیم کے اہلکاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اب انکی بیوی اور بچی دونوں صحت مند ہیں۔

تجربہ کار میڈیکل ٹیکنیشنز آمان اور کوثرجبیں نوزائیدہ بچے کے ساتھ

میڈیکل ٹیکنیشن صاحبہ امان نے آئی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے خاتون کی حالت دیکھ لی تو انہوں نے گھر میں ہی ڈیلیوری کو مناسب سمجھا، صاحبہ امان نے بتایا کہ اگر ہم خاتوں کو ہسپتال لے جانے کا رسک لیتے تو راستے میں بچے اور ماں دونوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔صاحبہ امان نے مزید بتایا کہ پچھلے تین مہینوں میں انہوں نے 15 سے زیادہ ایسے کیسز ہسپتال منتقل کیے ہیں۔

لکی مروت ریسکیو 1122 ڈیپارٹمنٹ کی معلومات کے مطابق ڈیپارٹمنٹ نے اپریل 2020 سے اگست 2021 تک 300 ڈیلوری کیسز بحفاظت ہسپتال منتقل کیے ہیں۔

صاحبہ امان نے آئی بی سی اردو کو بتایا کہ لکی مروت ایک پسماندہ علاقہ ہے اور یہاں اب بھی زیادہ تر لوگ دائی سے بچوں کی پیدائش کرواتے ہیں، کئی بار ہمارے پاس مس ہینڈل کیسز آچکے ہیں جس میں بچے اور ماں دونوں کی جان کو خطرہ ہوتا ہے۔ ہم جب گھروں میں جاتے ہیں تو خواتین کو سمجھاتے ہیں کہ وہ گھر میں بچے کی پیدائش کرانے کے بجائے اسپتال جایا کریں یا ہماری ٹیم کو بلایا کریں۔

یاد رہے ہیں کہ لکی مروت کا شمار خیبر پختونخوا کے ان ضلعوں میں ہوتا ہے جہاں صحت کے سہولیات کا فقدان ہے، لکی مروت دنیا کا وہ واحد ضلع ہے جہاں پولیو کے سب سے زیادہ کیسیز ریکارڈ ہوئے ہیں۔ضلع لکی مروت میں 2 کیٹیگری سی ہسپتال، 2 کیٹیگری ڈی اسپتال، 4 رورل ہیلتھ سنٹرز اور 27 بنیادی صحت کے مراکز ہیں جن میں خواتین ڈاکٹرز کی تعداد نا ہونے کے برابر ہیں۔

لکی مروت ریسکیو ڈیپارٹمنٹ کے میڈیا کوارڈینیٹر عبدللہ نے آئی بی سی اردو کو بتایا ریسکیو ڈیپارٹمنٹ میں 147 سٹاف ممبرز اسوقت اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں جن میں صرف تین 4 خواتین ہیں، ایک کمپیوٹر اپریٹر اور تین میڈیکل ٹیکنیشن ہیں۔ عبدللہ نے بتایا کہ لکی مروت میں اب بھی بعض علاقوں میں لوگ ڈیلیوری کیسز کیلئے ہم سے رابطہ کرنے کیلئے عار محسوس کرتے ہیں جسکی بنیادی وجہ ضلع کی پسماندگی ہے۔ عبدللہ نے مزید بتایا کہ پہلے تو لوگوں کو پتہ نہیں تھا اب آہستہ آہستہ لوگ ہماری سروس سے اشنا ہو رہے ہیں۔

لکی مروت میں ریسکیو کی ٹیم ہر دم ہر قسم کی ایمرجنسی کیلئے تیار تو ہے لیکن لکی مروت میں صحت کی سہولیات اور ناخواندگی کے با عث اب بھی کئی گھروں میں دائی کی مدد سے خواتین کی زچکی ہوتی ہے جس کے باعث کئی خواتین گھروں میں ہی مر جاتی ہیں جو میڈیا رپورٹ کرتا ہے اور نا ہی لوگ اس بارے میں بات کرنا پسند کرتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے