” میں اس ملک کے ان چند لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور زندگی پھر وہاں کی روایات کے علمبردار بن کر معاشرے کو سنوارنے میں لگے رہے” ان خیالات کا اظہار آزاد کشمیر کے سابق چیف جسٹس منظور حسین گیلانی نے کہوٹہ ضلع راولپنڈی مین قانون کی تعلیم کے لیے قائم کیے گئے پہلے لاء کالج کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا : ” قانون کے شعبے میں اب رواداری اور اخلاقیات کی وہ اہمیت باقی نہیں رہی جو ہماری تہذیب کی قابل قدر روایات کو کبھ حاصل تھی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے جس تہذیب کی ترجمانی کی اور جس کو فروغ دیا وہ اب عنقا ہوتی جا رہی ہے اور نتیجہ کے طور پر نظریہ پاکستان بھی لوگوں کے اذہان سے محو ہوتا جا رہا ہے ۔ کہوٹہ میں لاء کالج کا قیام ایک خوش آئند اقدام ہے ، اس کالج کو انہی اعلیٰ روایات کا علمبردار بننا ہو گا تاکہ ہمارا رشتہ ماضی سے استوار رہ سکے” ۔
کالج کے سرپرست اعلیٰ راجہ محمد ظفر الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہر شعبے کے متخصصین اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اس لیے کہ وہ انسانی تمدن کو کچھ دے رہے ہوتے ہیں ، لیکن ان سب سے برتر وہ لوگ ہوتے ہیں جو لوگوں کو انسان بناتے ہیں یعنی ان کی تربیت اعلیٰ انداز میں کر کے انہیں اس قابل بنا رہے ہوتے ہیں کہ وہ انسان کہلا سکیں۔ اس تعلیمی ادارے کا امتیازی وصف یہ ہو گا اور ہونا بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کو انسان بنا سکے ۔ مراد یہ ہے کہ لوگوں کو گوشت پوست کے پیکر سے بلند کرکے انہیں انسانیت کے لیے قابلِ فخر اور قابلِ تقلید بنا دیا جائے ۔
جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ وخشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا : ” یہ بات قابل ستائش ہے کہ اس کالج کے نہایت اعلیٰ و ارفع اہداف طے کر دیے گئے ہیں۔ سب سے مقدم علم۔ جس کے بغیر آگے بڑھنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن علم ہو اور اخلاقیات کا فقدان ہو تب بھی خسارہ ہے اور علم و اخلاقیات دونوں موجود ہوں لیکن کام کرنے کی مہارت نہ ہو سب کچھ اکارت جاتا ہے ۔ اس تعلیمی ادارے کے اہداف میں یہ تینوں امر لازم کے طور پر طے کیے گئے ہیں۔
کالج کے سرپرست اور علاقہ پوٹھوار کی معروف خانقاہ بگھار شریف کے سجادہ نشین صاحبزادہ ساجدالرحمن نے کہا: ” چند سال قبل میں نے ایک خواب دیکھا تھا کہ خانقاہ کے ماحول سے باہر نکل کر اپنے آبائی شہر کی خدمت کی جائے ۔ اسی خواب کے تحت یہ ” لا کالج تعمیر کیا گیا ہے۔میرے قابل ترین فرزند عمیر ہاشم نے کالج کو میرے خواب سے بھی بڑھ کر تعبیر دیدی ہے۔یہ کالج نہ صرف خطہ پوٹھوار بلکہ آزاد کشمیر تک کی شعبہ قانون سے متعلق تعلیم ضروریات کو پورا کرے گا۔ اس کالج کی تعمیر کے ضمن میں انجمن محبان بگھار شریف (برطانیہ) اور یعقوبیہ ایجوکیشنل سسٹم بگھار شریف کا بنیادی کردار رہا ہے ۔ کالج کے مختلف مراحل میں شامل رہنے والی شخصیات کی حوصلہ افزائی بھی ہمارے لیے ہمیشہ تقویت کا باعث بنی ہے ۔اس موقع پر کالج کے منتظم اعلی صاحبزاد عزیز ہاشم ایڈووکیٹ نے خطبہ استقبالیہ میں کہا: ” میرے عظیم والد اور مرشد صاحبزادہ ساجد الرحمن نے کالج کا خواب دیکھا تھا ۔ مسجد الہاشم (صاحبزادہ ساجدالرحمن کے دادا محترم سے موسوم ) سے کالج کا آغاز ہوا ۔ کالج کو حکومت پنجاب اور پنجاب یونویرسٹی نے تسلیم کیا ہے اور اسے پورے ملک کا ابتدائی سہولتوں کے اعتبار سے ایک قابل تقلید ادارہ قرار دے دیا ہے۔
صاحبزادہ عزیز ہاشم نے مزید کہا : "کالج کے بورڈ آف گورنرز میں راجہ محمد ظفر الحق ، صاحبزادہ ساجدالرحمن، ڈاکٹر قبلہ ایاز ، جسٹس منظور گیلانی ، مولانا راغب نعیمی ، خورشید احمد ندیم اور دیگر اہم شخصیات شامل ہیں ۔ کالج کی لائبریری میں قانون سے متعلق چھ ہزار کتب کے علاوہ کمپیوٹر لیب بھی موجود ہیں۔
تقریب میں قاری بزرگ شاہ الازہری نے تلاوت کلام پاک اور ڈاکٹر قاری محمد یونس نے نعت رسول مقبول ﷺ کی سعادت حاصل کی ۔صاحبزادہ سلطان العارفین کی دعا سے تقریب ختم ہوئی ۔
٭ تقریب میں علاقے کے وکلاء کے نمائندوں ، علماء و مشائخ ، ذرائع ابلاغ کے نمائندگان اور علاقہ کے عمائدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
٭ تقریب کی ابتداء میں قومی ترانہ کے احترام مںں تمام لوگ اپنی نشستوں پر کھڑے رہے ۔
٭ کالج میں طالبہ و طالبات کے لیے تعلیم کے یکساں مواقع رکھے گئے ہیں ۔ تاہم انہیں ضابطہ اخلاق کا پابند رہنا ہو گا۔
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبّیری
خانقاہ بگھار شریف ـــ کہوٹہ ضلع راولپنڈی میں واقع ہے ۔ اس خانقاہ کا آغاز مولانا محمد ہاشم کے باعث ہوا، ان کے بعد ان کے صاحبزادہ مولانا محمد یعقوب سجادہ نشین بنے اور اب ان کے بعد صاحبزادہ ساجدالرحمن اس خانقاہ کے سجادہ نشین ہیں۔ بگھار شریف کے ساتھ یہ عجیب طرفہ تماشہ ہوا کہ 102 سال گزنے کے بعد بھی حکومت وہاں ہائی اسکول نہیں دے سکی تاہم طلبہ و طالبات کی تعلیمی ضروریات صاحبزادہ ساجدالرحمٰن دارالعلوم یعقوبیہ کو ہائی اسکول اور اب کالج کا درجہ دے کر پوری کر رہے ہیں۔ یہاں 500 طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں جن کے 70٪ اخراجات ادارہ ادا کرتا ہے ۔
ایک جست خانقاہی نظام سے جدید تعلیم کی جانب
اسلامی روایت میں خانقاہی نظام کو ہمیشہ اہمیت حاصل رہی ہے ۔ یہ لوگوں کی تربیت کا ایک ادارہ تھا تاہم وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ خانقاہی نظام اپنی افادیت کھوتا چلا گیا۔ ضرورت اس امر کی ہمیشہ رہی ہے کہ خانقاہی نظام کو اپنے وقت کے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے بلکہ علامہ اقبال ؒ تو اس سے بھی آگے چلے گئے اور
نکل کر خانقاہوں سے سے ادا کر رسم شبیری
کا نعرہ مستانہ لگا دیا۔ مطلب خانقاہی نظام کو تلپٹ کرنا نہیں تھا بکہ خانقاہی نظام کو عصری تقاضوں پر لبیک کہنے اور معاصر سوالات کا جواب دینے کے قابل بنانا تھا۔
خانقاہ بگھار شریف کے موجودہ سجادہ نشین صاحبزادہ ساجدالرحمٰن نے بھی خانقاہی نظام میں رہتے ہوئے جدید تعلیم کی جانب ایک جست لگانے کی کوشش کی ہے اور طلبہ و طالبات کے لیے جدید خطوٖط پر استوار ایک کالج قائم کر دیا ۔ بلا شبہ وہ طلبہ و طالبات سے فیسیں وصول کریں گے لیکن ساتھ ہی انہیں اخلاقیات کا درس بھی دیں گے جیسا کہ انہوں نے عہد کیا ہے۔ اور بہت بھاری بھرکم ذمہ داری اپنے سر لے لی ہے ۔