پاکستان میں طالبان کی پراسرار واپسی، فوج پر خود کش حملے ، اغوا ، یرغمال بنانے کا عمل پھر سے شروع

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے تصدیق کی ہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں فوجی قافلے پر خودکش دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں چار فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔اس دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے 22 برس کے لانس نائیک شاہ زیب، ضلع غذر سے تعلق رکھنے والے 26 برس کے لانس نائیک سجاد، کوہاٹ کے 25 برس کے سپاہی عمیر اور نارروال سے تعلق رکھنے والے 30 برس کے سپاہی خرم شامل ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خودکش حملہ آور اور اس کے ہینڈلرز اور سہولت کاروں کے حوالے سے تفصیلات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ذرائع کے مطابق مٹہ سوات اور بالائی علاقوں میں طالبان دوبارہ آنا شروع ہو گئے ہیں اور آتے ہی کارروائیاں بھی شروع کر دی ہیں . میڈیا کے مطابق طالبان اورمقامی جرگہ کے مابین مزاکرات کامیاب ہوگئےہیں جس کے بعد یرغمال ڈی ایس پی پیرسیدسمیت تمام مغوی اہلکاروں کو رہا کردیا گیا ۔ مٹہ کے بالائی علاقے میں کل جھڑپ کے دوران طالبان نے پولیس کویرغمال بنایا تھا۔

مغوی ڈی ایس پی پیر سید

ذرائع کے مطابق طالبان نے گذشتہ روز مٹہ میں ڈی ایس پی پیرسیدسمیت پولیس اور 37 اے کے کچھ اہلکاروں جن میں احسن ، اسرار اور اسکندر بھی شامل تھے ، انہیں یرغمال بنا لیا تھا.مٹہ کے مقام پر پہاڑ سکوں سر طالبان نے اپنے قبضے میں لیکرملک عبدالنعیم ، شریف خان اور جمال عبدالناصر کو مذاکرات کے لیے بلایا . اطلاعات کے مطابق ڈی آئی جی ملاکنڈ ذیشان اصغر ، ڈی پی او سوات زاہد نواز مروت ، ایس پی صاحب تھانہ شھیدان وینی چپریال میں پہنچ گئے .

تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ حکومت پاکستان کے گذشتہ چار ماہ سے مزاکرات چل رہے تھے . ان مذاکرات میں پاک فوج ، قبائلی رہنما ، مذہبی اور سیاسی شخصیات نے بھی حصہ لیا .سوات سے عینی شاہدین کے مطابق لوگ کافی خوفزدہ ہیں اور موجودہ صورتحال ان کے لیے کافی گھمبیر اور تشویشناک ہے .

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے