پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں ساڑھے چھ لاکھ خواتین حاملہ، محفوظ زچگی کیلئے سہولیات درکار. اقوام متحدہ

پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلابوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ملکی خواتین اور لڑکیوں کو قرار دیا جارہا ہے۔ اگر کوئی خاتون حاملہ ہو تو یہ مشکلات کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے بہبود آبادی کے فنڈ (یو این ایف پی اے) کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تقریبا ساڑھے چھ لاکھ حاملہ خواتین کو محفوظ زچگی اور بچوں کی بحفاظت پیدائش کے لیے طبی سہولیات درکار ہیں۔

یو این ایف پی اے کے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ایسی 73 ہزار پاکستانی حاملہ خواتین کے ہاں ستمبر میں بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔ اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے نے زور دے کر کہا ہے کہ ان خواتین کی زچگی کے دوران مدد کے لیے ہنر مند طبی عملے کی ضرورت ہو گی، جو نومولود بچوں کی دیکھ بھال بھی کر سکے۔

یو این ایف پی اے کے مطابق اس کے علاوہ بہت سی خواتین اور لڑکیوں کے خلاف صنفی بنیادوں پر تشدد کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے کیونکہ تقریباﹰ ایک ملین مکانات کو نقصان بھی پہنچا ہے۔

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ذمے دار سرکاری ادارے (این ڈی ایم اے) کے مطابق حالیہ سیلابوں کے دوران تاحال ساڑھے چار سو سے زائد بچوں سمیت کم ازکم تیرہ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں حالیہ سیلابوں اور ان کے اثرات سے یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ کس طرح خواتین خاص طور پر ماحولیاتی اور قدرتی آفات کا شکار ہو کر بھی بہت بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے