چیئرمین پی ٹی آئی اٹک جیل منتقل، سہولیات فراہم کردی گئیں

لاہور: توشہ خانہ کیس میں 3 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد پولیس نے چیئرمین تحریک انصاف کو زمان پارک سے گرفتار کرکے اٹک جیل منتقل کردیا۔
ایس ایس پی سی آئی اے ملک لیاقت کی زیر سربراہی پولیس ٹیم نے عمران خان کو گرفتار کیا۔ ان کی عمران خان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھے ہوئے تصویر بھی سامنے آئی۔
طبی معائنہ
پولیس ٹیم انہیں اڈیالہ روڈ سے پمز اسپتال لے کر پہنچی جہاں ڈاکٹرز کی ٹیم نے چیئرمین پی ٹی آئی کا میڈیکل چیک اپ کیا۔ میڈیکل کے بعد چئیرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل منتقل کیے جانا تھا تاہم سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر انہیں اٹک جیل منتقل کر کے ہائی سیکورٹی زون کے لاک اپ میں رکھا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں سہولیات فراہم
چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل منتقل کرنے کے بعد جیل مینوئل کے مطابق سہولیات فراہم کردی گئیں۔
جیل ذرائع کے مطابق عمران خان کو مینوئل کے مطابق کھانا فراہم کیا جائے جبکہ انہیں اپنے ساتھ بیرک میں ضروری سامان جیسے تولیہ، ٹشو پیپر، پینے کا پانی، چشمہ، تسبیح اور گھڑی رکھنے کی اجازت ہوگی۔
انتظامیہ کی جانب سے لاک اپ میں پانی، کرسی، زمین پر سونے کے لیے میٹرس فراہم کردیا گیا ہے جبکہ کولر، ایئرکنڈیشن جیسی سہولیات کو عدالتی حکم سے مشروط کیا گیا ۔
واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کارروائی کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کو 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کو سزا دینے والے جج انگلینڈ روانہ

اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی کو سزا دینے والے ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور جوڈیشل کانفرنس میں شرکت کے لیے انگلینڈ روانہ ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق جج ہمایوں دلاور کی لندن ٹریننگ نامزدگی سے متعلق چار اگست کا خط سامنے آیا جس میں چیف جسٹس نے جج کی جوڈیشل کانفرنس میں شمولیت کے لیے نامزدگی کی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے چار اگست کو خط سیشن جج کو لکھا۔
خط کے متن کے مطابق جج فیضان حیدر کی جگہ ٹریننگ کے لیے جج ہمایوں دلاور کا نام شامل کیا جائے، جج ہمایوں دلاور پانچ اگست سے 13 اگست لندن میں ٹریننگ میں شامل ہوں گے، یوکے کی یونیورسٹی آف ہل میں یہ ٹریننگ سیشن ہونا ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے گزشتہ روز چیئرمین پی ٹی آئی کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔
اسلام آباد سے ججز کی جوڈیشل کانفرنس شمولیت کا عمل دو ماہ سے جاری تھا اور کچھ ججز کو ویزہ نا ملنے پر نام تبدیل کرکے دوسرے ججز کو شامل کیا گیا، پشاور میں بھی کچھ ججز کو ویزہ نا ملنے پر نام تبدیل کیے گئے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری سیاسی نہیں، وزیر اطلاعات کا بی بی سی کو انٹرویو

اسلام آباد: وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے ریاستی تحائف بیچے اس لیے چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری سیاسی نہیں ہے۔
بی بی سی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے اوپر لگنے والے تمام الزامات کا جواب دیا اور عدالتیں موجود ہیں جہاں الزامات کا جواب دینے کا سب کو حق ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی کو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا، 9مئی حملوں میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو رہی ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی اپنے دفاع کے لیے عدالتوں میں پیش نہیں ہوتے تھے لیکن نواز شریف نے نیب کی 150 پیشیاں بھگتیں، قانون کو دھمکیاں دینے سے آپ مقدمات سے نہیں بچ سکتے اور آپ عوام کو ہر دفعہ اندھیرے میں نہیں رکھ سکتے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ زمان پارک میں پی ٹی آئی کارکنوں نے پولیس اہلکاروں پر حملے کیے۔ کیا سرکاری املاک، اسپتالوں اور اسکولز پر حملہ کرنے والوں کو رعایت دی جا سکتی ہے؟ چیئرمین پی ٹی آئی 9مئی کے حملوں کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ چیئرمین پی ٹی آئی سے معیشت کی خرابی کا پوچھا جائے تو وہ کابینہ پر ڈال دیتے ہیں۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ مجھے ریاستی تحائف ملے میں نے توشہ خانہ میں جمع کرا دیے لیکن چیئرمین پی ٹی آئی عدالت میں سوالوں کا جواب دینے سے قاصر رہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالتی حکم پر گرفتار کیا گیا اور کوئی احتجاج سامنے نہیں آیا۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے سیاسی مخالفین کو قید کروایا اور اپنے دور میں میڈیا کارکنوں پر بھی تشدد کرایا، پہلی بار دیکھا کسی سیاسی جماعت نے پیٹرول بمبوں کا استعمال کیا ہو، پرامن احتجاج کسی بھی سیاسی جماعت یا کارکن کا جمہوری حق ہے۔