نواب شاہ؛ ہزارہ ایکسپریس ٹرین کو حادثہ، 35 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی

فوٹو : اسکرین گریب

نواب شاہ میں سرہاری ریلوے اسٹیشن کے قریب کراچی سے پنڈی جانے والی ہزارہ ایکسپریس ٹرین کی 8 بوگیاں پٹڑی سے اتر کر الٹ گئیں جس کے باعث 35 افراد جاں بحق جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔

حادثے کی اطلاع پر ایمبولینس و پولیس جائے حادثہ روانہ ہوگئی جبکہ حادثے کے بعد اَپ ٹریک دیگر ٹرینوں کے لیے معطل ہوگیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔

حادثہ پیش آنے والی ہزارہ ایکسپریس میں 1000 سے زیادہ مسافر سوار تھے، حادثہ سرہاری اسٹیشن کے ایڈوانس سگنل کے قریب پیش آیا۔ ریلیف ٹرین کوٹری اور روہڑی سے حادثے کی طرف نکل چکی ہیں۔

ترجمان پاکستان ریلویز کراچی کے مطابق بریک دیر سے لگنے کی وجہ سے حادثے نے شدت اختیار کی، متاثرہ ٹرین کی 8 بوگیاں پٹری سے اتریں۔ حادثے کے نتیجے میں کراچی سے روانہ ہونے والی ٹرینوں میں تاخیر کا امکان ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ نقصان کا اندازہ ابھی نہیں لگایا جاسکتا، چند گھنٹوں میں مشینوں کی مدد سے متاثرہ بوگیوں کو اٹھالیا جائے گا۔

حادثے کے بعد وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ امدادی کاموں کی نگرانی کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے خود جائے حادثہ پہنچ گئے۔

اطلاعات ہیں کہ جن زخمیوں کو طبی امداد کی ضرورت تھی اور جو ٹرین سے باہر تھے انہیں ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔ جو لوگ الٹی بوگیوں کے نیچے پھنسے ہوئے ہیں انہیں ریسکیو کیا جا رہا ہے۔

ریسکیو ٹرینز روہڑی اور کراچی سے بھی روانہ ہو چکی ہیں، اس موقع پر پاک فوج اور رینجرز کے دستے ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں۔

آئی جی ریلویز پولیس راؤ سردار علی خان نے ریلوے پولیس افسران کو جائے وقوع پر زیادہ سے زیادہ ریلویز پولیس کی نفری کو ریسکیو کے لیے روانہ کرنے کا حکم جاری کردیا۔

آئی جی ریلویز پولیس نے کہا ہے کہ ڈی آئی جی ساؤتھ کو فوری طور پر جائے وقوع پر روانہ کردیا گیا ہے، ایس ایس پی ریلویز کراچی کو بھی جائے وقوع کی طرف روانہ کردیا گیا ہے، ایس پی سکھر اور کراچی کو ہزارہ ایکسپریس حادثے میں امدادی سرگرمیوں میں حصّہ لینے کی ہدایت جاری کردی ہے، متعلقہ افسران کو زخمی مسافروں کو ہر طرح کی سہولت فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

حادثے کے حوالے سے سماجی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن نے بتایا ہے کہ حادثے میں ہلاکتیں 35 ہوچکی ہیں۔ ایدھی انفارمیشن سروس کے مطابق 35 افراد کی لاشیں اور ساٹھ زخمیوں کو جائے حادثہ سے پی ایم سی اسپتال نواب شاہ منتقل کیا گیا ہے۔

ملکی تاریخ ٹرین حادثات سے عبارت، ہزاروں افراد لقمہ اجل بنے

پاکستان بننے کے بعدجو ریلوے ٹریک ملا تھا، اس میں کوئی جدت نہیں لائی گئی۔ فوٹو: فائل

لاہور: پاکستان کی تاریخ ٹرین حادثات سے عبارت ہے، سیکڑوں حادثات میں ہزاروں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

ملکی تاریخ کا پہلا بڑا حادثہ 1953ء میں جھمپیر کے قریب ہوا جس میں 200 افراد جاں بحق ہوئے ،رواں برس27 اپریل کو کراچی ایکسپریس کی بوگی میں خوفنا ک آتشزدگی کی وجہ سے خاتون سمیت 7افراد جاں بحق ہوئے۔

2018 سے مارچ 2021 تک متعدد ٹرین حادثات میں 230 افراد جاں بحق اور 285 زخمی ہوئے۔ 7مارچ2021 کو سکھر ٹرین پٹری سے اتر نے سے ایک شخص ہلاک، اور 40 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

پاکستان ریلوے کف سالانہ حادثات کی رپورٹ مطابق2020ء میں مختلف گا ڑیوں کے 137حادثات ہوئے جس میں 56 جاں بحق اور 58ز خمی ہوئے ، پنوں عاقل کے قریب سانگی میں ٹرین حادثے میں 307 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان بننے کے بعد جو ریلوے ٹریک پاکستان کو ملا تھا اس میں کسی قسم کی جدت نہیں لائی گئی متعدد ریلوے پلوں کی مدت معیاد پوری ہوچکی ہے مگر حکومت ان کی اوور ہا لنگ پر توجہ نہیں دے رہی۔ ملک بھر میں ہزاروں پوائنٹس ایسے ہیں یہاں پھاٹک اور پھاٹک والا نہ ہو نے کی وجہ سے حادثات رونما ہوتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے