سندھ اسمبلی 11 اگست کو تحلیل کی جائے گی، ایڈوائس تیار
کراچی: مشیر قانون مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی گیارہ اگست کو تحلیل کردی جائے گی، جس کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے۔
مشیر قانون مرتضیٰ ویاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ محکمہ قانون نے سندھ اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری کا ڈرافٹ تیار کرلیا، جو وزیراعلیٰ کو آئینی طریقہ کار کے تحت ارسال کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ اسمبلی کی آئینی مدت 13 اگست کو مکمل ہوگی جبکہ اسمبلی کو دو روز قبل یعنی گیارہ اگست کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مشیر قانون نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ کل گورنر سندھ کو اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس ارسال کریں گے۔
دوسری جانب جی ڈی اے اور ایم کیو ایم نے سندھ سے پیپلزپارٹی کی حکومت کے خاتمے پر کل یوم نجات منانے کا اعلان کیا ہے۔
اسمبلی اجلاس میں جی ڈی اے اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں نگران وزیراعلی پیپلزپارٹی کا نامزدہ کردہ نہیں ہوگا،سندھ حکومت خاتمے پر یوم نجات منائیں گے، ظالم اور نوکریاں فروخت کرنے والی حکومت کا خاتمہ ہوا۔
دونوں پارٹیوں کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ جی ڈی اے اور ایم کیوایم پاکستان میں نگر ان وزیراعلی کے نام پراتفاق ہوگیا۔ اراکین اسمبلی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے مزے ختم، سندھ میں پندرہ سالہ سیاہ دور کا خاتمہ ہونے کو ہے، عوام آج یوم نجات منائیں، سندھ میں آئندہ حکومت جی ڈی اے، ایم کیوایم پاکستان اپنے دیگر اتحادیوں کے ساتھ ملکر بنائیں گے۔
خیبرپختونخوا کی نگراں کابینہ تحلیل کرنے کا فیصلہ، اراکین سے استعفے طلب
پشاور: وزیراعلیٰ محمود خان نے خیبرپختونخوا کی نگراں کابینہ کو ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وزرا سے استعفے طلب کرلیے۔
نگراں وزیراطلاعات نے بتایا کہ کابینہ کے 19ارکان نے اپنے استعفے وزیراعلیٰ کے پاس جمع کرادیئے، حکومتی ٹیم کے دیگر ارکان اپنے استعفے جلد جمع کرائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلی نے تمام وزرا، مشیروں اور معاونین خصوصی کو چائے پر مدعو کیا اور ان سے استعفے طلب کیے، جس پر کچھ اراکین نے شام تک کا وقت مانگا جبکہ کچھ شہر سے باہر ہیں جو واپس آکر استعفے جمع کروادیں گے۔

بیرسٹر فیرز جمال نے بتایا کہ 7 اراکین کے استعفے موصول ہونے کے بعد وزیراعلی کابینہ ارکان کے استعفوں سمیت سمری کل جمعہ کے روز گورنر خیبرپختونخوا کو ارسال کریں گے۔
استعفیٰ دینے والے اراکین میں مسعود شاہ، عبد الحلیم قصوریہ، ارشاد قیصر، محمد علی شاہ، ہدایت اللہ، سلمی بیگم، ریاض انور، پیر ہارون شاہ، شیراز اکرم، ملک مہر الہیٰ، حامد شاہ، بخت نواز، حاجی غفران، فضل الہیٰ، تاج محمد ، حمایت اللہ، ظفر محمود اور رحمت سلام خٹک شامل ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے ارکان نے مہلت مانگ لی۔
الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ کو بعض کابینہ ارکان کے سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر وزارتوں سے ہٹانے کا خط لکھا تھا۔ اس سے قبل نگراں وزرا شاہد خٹک اور عدنان جلیل کو پہلے ہی کابینہ سے فارغ کیا جاچکا ہے۔
ذرائع کے مطابق نگراں کابینہ تحلیل ہونے کے بعد وزیراعلیٰ اعظم خان نئی ٹیم تشکیل دیں گے۔