حافظ حسین احمد کا ” کاکڑ فارمولہ ” | انوار الحق کی تقرری کیسے ہوئی | نگران وزیراعظم کی زندگی کا مختصر خاکہ

کاکڑ کا نام سابق وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کے لیے بھی سرپرائیز ثابت ہوا، حافظ حسین احمد

ماضی میں ”کاکڑ فارمولے“ کے تحت میاں کا تختہ الٹایا گیا تھا اب ”کاکڑ“ کو تخت پر بٹھانے کے لیے کون سا فارمولہ استعمال ہوا؟

کیا انوار الحق کاکڑ بلوچستان کے معدنیات، ساحل و وسائل اور مسنگ پرسنز کے حوالے سے محرمیوں کو کم کرسکیں گے؟

نگران وزیر اعظم کی تقرری کے بعد کیا انتخابات میں تاخیر کے حوالے سے سیاسی جماعتوں اور عوام کے خدشات ختم ہوسکیں گے؟

آئین کے تحت مقررہ مدت میں انتخابات کرائیں جائیں تاکہ نئی اسمبلیوں سے سینٹ کے انتخابات کرائے جاسکیں

خدشہ ہے کہ ٹرینوں کی طرح جمہوریت کو بھی پٹڑی سے اترانے کی کوشش کی جارہی ہے

جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما حافظ حسین احمد نے نگران وزیر اعظم کی تقرری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا نام سابق وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کے لیے بھی سرپرائیز ثابت ہوا فیصلہ کرنے والی یہ دونوں شخصیات انتہائی مطیع اور فرمابردار ثابت ہوئیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔

 

 

انہوں نے کہا کہ ماضی میں اقتدار سے ہٹانے کے لیے ”کاکڑ فارمولہ“ استعمال ہوا جبکہ اب کاکڑ کو بٹھانے کے لیے وہی انداز اپنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی محرومیوں کو لیپا پوتی کے لیے چھپایا تو جاتا ہے ختم نہیں کیا جاتا دیکھتے ہیں کہ فرزند بلوچستان ثانی برادرم انوار الحق کاکڑ بلوچستان کے سونا چاندی، معدنیات، ساحل و وسائل اور مسنگ پرسنز کے حوالے سے محرمیوں کو کم کرنے کے لیے ترازو کے پلڑوں کو برابر رکھ سکیں گے؟۔ سینئر پارلیمنٹرین نے کہا کہ ماضی میں ”کاکڑ فارمولے“ کے تحت میاں نواز شریف کا تختہ الٹا گیا تھا ایک بار پھر اسی فارمولے کے تحت ”کاکڑ“ کو لایا گیا ہے اس بار دیکھا جائے کس کس کو تخت پر بٹھایا جائے گا۔

 

 

انہوں نے کہا کہ نگران وزیر اعظم کی تقرری تو ہوچکی لیکن تمام جماعتوں کی جانب سے انتخابات میں تاخیر کے خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے خدشہ ہے کہ ٹرینوں کی طرح جمہوریت کو بھی پٹڑی سے اترانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کا اظہار خواجہ آصف اور رانا ثناء اللہ سمیت دیگر رہنما دبے لفظوں میں کررہے ہیں جو جمہوری نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین و قانون کے مطابق مقررہ مدت میں انتخابات کرائیں جائیں تاکہ جمہوری عمل جاری رہے اور نئی اسمبلیوں سے سینٹ کے انتخابات کرائے جاسکیں۔

 

انوارالحق کاکڑ نگران وزیراعظم کیسے بنے اندرونی کہانی 

ذرائع کے مطابق سینٹرانوارالحق کاکڑ کا نام اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض لے کرآئے،
راجہ ریاض نے جمعہ کے روز سینیٹر کاکڑ کی فائل وزیراعظم شہباز شریف کے حوالے کی تھیں، راجہ ریاض نے مشاورت کیلیے سینیٹرانوار سے اس ہفتے دوملاقاتیں کیں۔

شہباز شریف نے کل رات پی ڈی ایم کی اعلی قیادت سے سینیڑ انوار کے نام کی منظوری لی.

آصف زرداری اور نوازشریف نے سینٹرانوار کے نام پر رضامندی کا اظہار کیا، سینیڑ انوارالحق کے نام پر اسٹیبلشمنٹ کو کوئی اعتراض نہ تھا،

ذرائع نے بتایا کہ سنیٹر انوارالحق کا نام نگران وزیراعظم کیلیے کل رات دوبجے فائنل ہوا،
سینیٹرانوار کو اسکی اطلاع اج دن دوپہر ایک بجے دی گئی۔

اعلی اداروں کی جانب سے سینیٹر انوار کیخلاف نیب کیس کو بھی کل تفصیلات سے دیکھا گیا تھا، انکے کیس پر نیب کوئٹہ سے انکے نیب کیس کی تفصیلات طلب کی گئی
نیب انتظامیہ نے بتایا کہ سینیٹر انوار کی انکوائری بند کرنے نیب ہیڈکوارٹر کو جولائی میں لکھا جا چکا ہے۔

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زندگی پر ایک نظر

 

بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر انوار الحق کاکڑ 2018 میں سینیٹر منتخب ہوئے/ فائل فوٹو
بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر انوار الحق کاکڑ 2018 میں سینیٹر منتخب ہوئے/ فائل فوٹو

 

سینیٹر انوارالحق کاکڑ ملک کے آٹھویں نگران وزیراعظم ہوں گے، ان کا تعلق کوئٹہ سے اور وہ 1971 میں بلوچستان کے علاقے مسلم باغ میں پید اہوئے۔

انوارالحق کاکڑ نے ابتدائی تعلیم سن فرانسز ہائی اسکول کوئٹہ سے حاصل کی جس کے بعد انہوں نے کیڈٹ کالج کوہاٹ میں داخلہ لیا لیکن والد کے انتقال پرواپس کوئٹہ آگئے۔

انوار الحق کاکڑ اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن گئے جب کہ انہوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان سےپولیٹیکل سائنس اور سوشیالوجی میں ماسٹرکیا۔

انوارالحق کاکڑ نے کیرئیر کا آغاز اپنے آبائی اسکول میں پڑھانے سے کیا۔

سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے 2008 میں (ق) لیگ کےٹکٹ پرکوئٹہ سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا جس میں انہیں کامیابی نہ مل سکی۔

سینیٹر انوار الحق کاکڑ 2013 میں بلوچستان حکومت کےترجمان رہے جب کہ بلوچستان عوامی پارٹی کی تشکیل میں ان کا کلیدی کردار رہا۔

بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر انوار الحق کاکڑ 2018 میں سینیٹر منتخب ہوئے اور وہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی سمندر پار پاکستانی کے چئیرمین ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے