پنجاب پولیس نے اتوار کو شیخوپورہ میں جماعت احمدیہ کی ایک اور عبادت گاہ کی مبینہ طور پر بے حرمتی کی ہے۔ حالیہ دنوں میں احمدیوں کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی کے واقعات کی تعداد تین ہوگئی ہے۔
احمدیہ کمیونٹی کے ایک نمائندے نے متاثرہ عبادت گاہ کی تصاویر شیئر کیں اور کہا کہ بتایا کہ پولیس اہلکار ضلع شیخوپورہ میں مریدکے کے قریب بیداد پور ورکاں میں واقع احمدیوں کی عبادت گاہ پر پہنچے، اور عمارت پر بنائے گئے میناروں اور محرابوں کو گرانے کے لیے کارروائی کی۔
نمائندے نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران علاقے میں چار عبادت گاہوں کی بے حرمتی کی گئی۔
مقامی احمدیہ کمیونٹی کے مطابق مذکورہ عبادت گاہ 1984 سے پہلے تعمیر کی گئی تھی۔لاہور ہائیکورٹ نے ایک حالیہ فیصلے میں واضح طور پر کہا ہے کہ 1984 کےتوہین مذہب کے قانون سے پہلے کی تعمیر کردہ احمدیہ عبادت گاہیں قانونی ہیں اس لیے انہیں نہ تو گرایا جا سکتا ہے اور نہ ہی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ 1984 سے پہلے تعمیر کی گئی عمارتیں قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتیں۔
احمدیہ برادری کا کہنا تھا کہ حکام نے حکم دکھانے کے باوجود عمارت کے خلاف کارروائی کی۔
احمدیہ کمیونٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ پولیس عبادت گاہوں کے میناروں کو گرا رہی ہے۔ تحریک لبیک نے 28 اگست کو ڈی پی او آفس شیخوپورہ کے باہر 1000 افراد پر مشتمل ایک بہت بڑا احتجاج کیا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 11 ربیع الاول تک پورے ضلع میں احمدیوں کی عبادت گاہوں کے تمام مینار منہدم کر دیے جائیں ورنہ وہ خود تباہ کر دیں گے۔
پنجاب پولیس کے اہلکاروں نے ٹی ایل پی کے مظاہرین کے دباؤ کے سامنے جھکنے کے بعد ضلع شیخوپورہ میں احمدیوں کی عبادت گاہوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے اور ابھی تک صرف اسی ضلع میں گزشتہ ایک ہفتے میں 4 احمدیوں کی عبادت گاہوں کی غیر قانونی طور پر بے حرمتی کی ہے۔
حالیہ دنوں میں، شیخوپورہ میں پولیس نے شیخوپورہ کے علاقے کرتو اور نانو ڈوگر میں واقع عبادت گاہوں کے میناروں کو گرا دیا۔
کرتو میں واقع عبادت گاہ کےتحفظ کے لیے تقریباً 50 کثیر المذاہب باشندوں کے دستخطوں پر مشتمل ایک حلف نامہ جمع کرایا تھا تاہم کو اس حلف نامے کے باوجود عمارت کو نقصان پہنچایا گیا ۔ حلف نامے میں کہا گیا تھا کہ رہائشیوں کو عبادت گاہ کے فن تعمیر کی تفصیلات سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تاہم، اس حلف نامے کو نظر انداز کر دیا گیا۔
انہوں نے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ سے درخواست کی کہ وہ تمام اقلیتوں کے تحفظ کے لیے اپنے موقف کے مطابق کارروائی کریں۔ احمدیہ کمیونٹی اب بھی وزیر اعظم کے اقدام کا انتظار کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ جڑانوالہ کے المناک واقعے کے بعد وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ ہر مذہبی طبقے کے ساتھ کھڑے ہیں اور اگر کسی نے ان کی سلامتی کو خطرہ بنایا تو اسے ریاست کو جواب دینا ہو گا۔
ایچ آر سی پی نے احمدیوں کی عبادت گاہوں پر مسلسل حملوں پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ :
احمدیہ کمیونٹی کی جانب سے جنوری سے اب تک کم از کم 34 واقعات کی رپورٹس جن میں بشمول پولیس کی ملی بھگت سے ان کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی کی گئی ہے- حکومت اور تمام ترقی پسند سوچ رکھنے والے لوگوں کو خطرے کی گھنٹی بجانی چاہیے۔ کسی اور کمیونٹی کو اس سطح کی عدم برداشت اور تعصب کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس کے باوجود، حکومت کی طرف سے کسی دوسری کمیونٹی کو اتنی کم توجہ نہیں دی گئی ہے، جو ہر شہری کے مذہب یا عقیدے کی آزادی کے حق کا تحفظ کرنے کا پابند ہو۔ حکومت کو اپنا موقف اختیار کرنا چاہیے اور کسی فرد یا گروہ کو ایسی کارروائیوں یا بے حرمتی پر اکسانے یا کرنے کی اجازت دینے سے انکار کرنا چاہیے۔ اسے 2014 کے جیلانی فیصلے کے مطابق ان مقامات کی حفاظت کے لیے فوری طور پر خصوصی پولیس یونٹوں کو تفویض کرنا چاہیے۔