مستونگ؛ میلاد النبیؐ کے جلوس سے قبل دھماکا، ڈی ایس پی سمیت 25 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

مستونگ میں جشن میلاد النبیؐ کے جلوس سے قبل مسجد کے قریب دھماکے میں 25 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق بازار میں ہونےو الے دھماکے میں ابتدائی طور پر متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی۔ اسسٹنٹ کمشنر مستونگ کے مطابق دھماکا مدینہ مسجد کے قریب ہوا، جہاں لوگ عیدمیلاد النبیؐ کے جلوس میں شرکت کرنے کے لیے جمع ہورہے تھے۔

دھماکے میں 25 افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق جاں بحق افراد میں ڈی ایس پی محمد نواز گشکوری بھی شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ مدینہ مسجد سے جمع ہونے کے بعد لوگوں نے جلوس میں شرکت کرنا تھا۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچیں جہاں سے زخمیوں کو نواب غوث بخش اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق مستونگ کے اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے، جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دھماکے کے بعد مستونگ کے علاوہ کوئٹہ کے سول اسپتال میں بھی ا یمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق تمام ڈاکٹرز ، فارماسسٹ ، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف ایمرجنسی ڈیوٹی پر طلب کرلیے گئے ہیں۔

ڈی ایچ او مستونگ ڈاکٹر رشید کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔

پولیس کے مطابق سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں اور دھماکے سے متعلق تعین کیا جا رہا ہے کہ دھماکا ریموٹ کنٹرول تھا یا خودکش۔

نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان نے مستونگ میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تخریب کار عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ ہمیں اپنی صفوں میں دہشت گردی کے خلاف مکمل اتحاد پیدا کرنا ہوگا ۔

نگران وزیر داخلہ بلوچستان نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کے بارے میں تحقیقات ہورہی ہیں، ابتدائی شواہد اور تحقیقات کے مطابق یہ خود کش حملہ تھا۔

نگراں صوبائی وزیر اطلاعات جان اچکزئی کے مطابق حکومت بلوچستان کی ہدایت پر ریسکیو ٹیموں کو مستونگ روانہ کردیا گیا ہے ۔ شدید زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کیا جارہا ہے اور اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مستونگ میں دھماکا ناقابل برداشت ہے۔ غیر ملکی آشیرباد سے دشمن بلوچستان میں مذہبی رواداری اور امن کو تباہ کرنا چاہتا ہے ۔

بلوچستان میں تین روزہ سوگ منانے کا اعلان

صوبائی حکومت نے بلوچستان میں سانحہ مستونگ پر تین روزہ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ نگراں وزیر اطلاعات کے مطابق سوگ منانے کا مقصد شہدا کے خاندانوں سے اظہار یکجہتی ہے۔ تین روزہ سوگ کے دوران سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے