” غیرمسلم مخصوص نشستوں پرخواتین کی نامزدگی دیوانے کا خواب ہے”

مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی خاتون (سوشل ایکٹیوسٹ)سماجی کارکن اور ماہرتعلیم موبیلہ کہتی ہیں کہ خیبر پختونخوا جیسے قدامت پسند معاشرے میں اتنا آسان کام نہیں ہے کہ خواتین سیاسی ورکرز کی حیثیت سے میدان عمل میں آئیں اور پھر ایسے میں اقلیتی برادری کی خواتین ویسے ہی ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہیں کہ معاشرے میں انہیںملک کا برابر کا شہری تصور ہی نہیں کیا جاتا۔خواتین کو بطور سیا سی ورکرز اپنا نام بنانے کے لیے مردوں کی بہ نسبت کئ گنا زیادہ مْحنت کرنی پڑتی ہے پھر بھی وہ ورکر ہی رہتی ہیں۔ سیا سی جماعتیں انہیں بڑا عہدہ کبھی بھی نہیں دیتیں اور یہ حقیقت تو اقلیتی برادری کی خواتین کی نا صرف صوبہ خیبر پخون خوا میں ہے بلکہ پورے ملک کی سیاست میں بھی ہے اس لیے اقلیتی برادری کی خواتین سیاسی شعور رکھنے کے باوجود سیاست کے عملی میدان میں اترنے سےگریزاں ہیں ۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ مذہیبی اقلیتی برادری کی جوخواتین سیاسی ورکرز کی حیثیت سےشعور و اگاہی رکھتی ہیں ان کوبھی مواقع دستیاب نہیں کہ قانو ن سا ز اداروں میں آ سکیں اوراپنی کمیونیٹی کے مسائل اسمبلی کے فلور پر لائیں ان کے لیے قانون سازی کریں پالیسیاں بنائیں تاکہ انھیں حل کر سکیں۔

آئین پاکستان میں تمام مذہبی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو تحفظ حاصل ہے ۔آرٹیکل 25 کے تحت تمام شہری برابر ہیں لیکن اقلیتی برادری کی بیشترخواتین اس کا شعور نہیں رکھتیں ۔مسیحی خواتین پھر بھی کسی حد تک اپنے لیے جگہ بنا لیتی ہیں جیسے بلدیاتی انتخابات میں انہوں نےحصہ لیا اور جیت بھی گئیں لیکن سکھ اور ہندو برادری کی خواتین نہ سیاسی ورکر، نہ صوبائی و قومی اسمبلی کی رکن، نہ کسی سیاسی جماعت کے کسی ونگ کی ممبراور نہ ہی ووٹرز کی حیثیت سے عملی میدان میں نظرآ تی ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جون 2022 کی ووٹر لسٹ کے مطابق پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کےرجسٹرڈ ووٹرزکی تعداد 39 لاکھ 56 ہزار 336 ہے جن میں مرد رجسٹرڈ ووٹرز 21 لاکھ 52 ہزار 143 ہیں اور 18 لاکھ 41 ہزار 193 خواتین رجسٹرڈ ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں کل اقلیتی ووٹرز کی تعداد 46 ہزار 115 ہے جن میں سے مسیحی ووٹرز کی تعداد 33 ہزار 328 جبکہ ہندو ووٹرز 5 ہزار 25 اور دیگر اقلیتوں کے ووٹ 7 ہزار 762 ہیں۔

الیکشن کمشن آف پاکستان سے آر ٹی آئی کے تحت حاصل کی گئی معلوما ت کے مطابق الیکشن کمشن گزشہ دو سال میں3000 معلوما تی سیشن کرا چکا ہے ان آگاہی سیشن میں پسماندہ اور محروم طبقا ت کو پولنگ اسٹیشنز کے اندر سہو لتوں کی فراہمی کےمتعلق بات کی گئی ان میں خواتین ، خواجہ سرا ، افراد باہم معذوری اور مذہبی اقلیتی افراد شامل ہیں۔ الیکشن کمشنر خیبر پختون خو ا کے کے زیر اہتمام مذہبی اقلیتی افراد یا خواتین کی الگ سے کوئی تربیت نہیں کی گئی جبکہ انہی سیشنز میں تقریبا 1000خواتین کو سیا سی آ گاہی اور شعور دیا گیاا ورانہیں شناختی کارڈز بنوانے سے لےاسمبلیوں میں ان کے لیے مختص نشستوں او ر الیکشن میں حصہ لینے کے طریقہ کار سے متعلق تمام معلومات فراہم کی گئیں ۔الیکش کمیشن کے مطابق ،مذہبی اقلیتی خواتین کا فیڈ بیک اچھا ہے آئیندہ سال کے انتخابات میں قلیتی برادری کی چار سے پانچ خواتین نےانتخا بات میں حصہ لینے کا اظہار بھی کیا ،۔الیکش کمیشن کے مطابق یہ ہمارا کام نہیں کہ ہم انہیں آمادہ کریں ہمارا کام صرف راہیں ہموار کر نا ہے۔
خیبر پختون خوا اسمبلی میں کل نشستوں کی تعداد 145 جبکہ خواتین کی مخصو ص تعداد26اوراقلیتی نشستیں 4 ہیں جبکہ اگر اقلیتی برادری کے اسمبلیوں کا حصہ بننےکے عمل کے مطابق2002کی آئینی ترامیم کے مطابق مخصوص نشستوں پر اقلیتی نمائندوں کے انتخاب کا حق متناسب نمائندگی کی بنیاد پر پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو دیا گیا ہےآئین کے

آرٹیکل 51 کے مطابق قومی اسمبلی میں اقلیتوں کے لیے دس او ر آئین کے آرٹیکل 106 کے تحت صوبوں میں 24 سیٹیں مختص ہیں جن میں سندھ کی 9، پنجاب کی 8، بلوچستان کی 3 اور خیبر پختونخوا میں قبائلی اضلاع کے شامل ہونے کے بعد 4سیٹیں شامل ہیں۔الیکشن کمیشن کے ترجمان سہیل خان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں مذہبی اقلیتی خواتین کا آنا یا نہ آنا سیاسی جماعتوں پر منحصر ہے۔ اِس میں الیکشن کمیشن کا کوئی عمل دخل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں کے حوالے سے

ایک لسٹ فراہم کرتی ہیں جس کا صرف ہم نوٹیفکیشن جاری کرتے ہیں صوبے میں خواتین کی سیاسی تربیت اور الیکشن میں حصہ لینے کے حوالے سےتربیتی سیشن کر رہے ہیں 2023 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی6۔ 49.فیصد آ بادی خواتین پر مشتمل ہے

خیبرپختون خوا میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد دسمبر 2021 میں ہوا جس میں خیبر پختونخوا کے 17 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات ہوئے الیکشن کمشن کے اعدادوشمار کے مطابق
خواتین کے لیے 2382 نشستیں مختص تھیں۔ جن میں 1458 خواتین نے باقاعدہ انتخابات میں حصہ لیا۔تاہم جائزہ لیا جائے تو پہلی مرتبہ بلدیاتی انتخابات میں مذہبی اقلیتی خواتین نے باقاعدہ الیکشن لڑا اور جیت ان کا مقدر بنی۔ان میں اقلیتی برادری کی ایک خاتون پشاور سے، 2چارسدہ سے اور ایک کوہاٹ سے شامل ہیں اگرچہ الیکشن لڑنے والی

خواتین کی تعداد صرف 4 تھی تاہم یہ ایک بہترین آ غاز ہے۔دسمبر2021میں نیبرہڈ (این سی) 82 لنڈی ارباب پشاور سے آزاد حیثسیت سے اقلیتی کونسلر کی نشست پر لوکل گورنمنٹ الیکشن میں حصہ لے کر 1338ووٹ لے کر کامیابی حاصل کرنے والی شہلا کامران کا کہنا ہے کہ میں نے آزا د حیثیت سے میں آئندہ حصہ لوں گی الیکشن لڑنا مشکل کام نہیں ہے بس وقت دینا پڑتا ہےبلدیاتی انتخابات کی کامیابی نے مجھ بہت حوصلہ دیا ہے اور میں سمجھتی ہو ں کہ ہمیں دوسروں سے زیادہ محنت بھی کرنی پڑی تو ہمیں اپنا حق حا صل کرنے کےلیے بہت ہمت کرنا ہو گی اور اپنی خواتین کے مسائل حل کرنے ، قانون سازی کرنے کے آگے آ نا ہو گا۔

،الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ووٹرز کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ، 69 لاکھ 80 ہزار ہے۔ان میں خواتین ووٹرز 5 کروڑ 84 لاکھ 72 ہزار 14 ہے، جبکہ مرد ووٹرز 6 کروڑ 85 لاکھ 8 ہزار 258 ہے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی روبینہ میسی جو کہ اینٹی گریٹڈ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ انیشیٹو کی چیئر پرسن کی حیثیت سے بھی فرائض سر انجام دے رہی ہیں ان کا کہنا ہے کہ سیاسی شعور مسیحی، سکھ اور ہندو کمیونٹی کی خواتین میں موجود ہے اور یہ خواتین سیاست میں آنا بھی چاہتی ہیں لیکن انہیں لایا نہیں جاتا سیاسی جماعتیں ان خواتین کو اپنے پولیٹیکل مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں اور ان کو آگے نہیں لایا جاتا بلدیاتی انتخابات میں کامیاب خواتین کو نا تو کوئی فنڈز مل اور نا ہی اختیار ہے یہ اگر سیاست میں آ بھی جائیں کسی اقلیتی یا خواتین کی ونگ کی حیثیت اختیار بھی کر لیں تو تب بھی انہیں بڑے عہدے نہیں دیے جاتے اور نہ ہی انہیں کوئی ایساعہدہ دیا جاتا ہے کہ وہ ملکی سطح پر سیاست میں اپنا نام بنا سکیں اور خدمات سرانجام دے سکیں۔

2017 کی مردم شماری کے مطابق خیبر پختونخوا میں 4973 ہندو رہائش پزیر ہیں۔ اس طرح کل آبادی کی 0.21 فیصد آبادی مسیحی اور 0.03 فیصد آبادی ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہے جبکہ سابقہ فاٹا میں 0.07 فیصد آبادی عیسائی اور 0.03 فیصد آبادی ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہے ضرورت اس امر کی ہےکہ اقلیتی برادری کے ووٹرز اور خاص طور پر خواتین ووٹرز کی سیاسی اورووٹ ڈالنے کے حوالے سے تربیت کی جائے ان میں سیاسی شعور اجاگر کیاجائے۔خواتین کے شناختی کارڈز بنوانے ووٹرز فہرستوں میں ان کے ناموں کااندراج کو یقینی بنایا جانے۔
صوبائی الیکشن کمشنر کے ترجمان محمد سہیل کے مطابق خواتین کو سیاسی شعور اجاگر کرنے کے لیے مختلف ٹریننگز اور تربیتی سیشن منعقد کیے جا رہے ہیں جن میں اقلیتی خواتین کو ترجیح دی جا رہی ہے اور ان میں سیاسی شعور اجاگر کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنے سیاسی حق کو سمجھتے ہوئے اس کے حصول کے لیے کوشش کریں ہر پروگرام میں ۴ کواین اقلیتی برادری س شرکت کری ہیں جو کہ مختلف طبقہ فکر سے ہوتی ہیں۔

جمعیت علماء اسلام کی ومن ونگ کے کنوینر اور سابق رکن قومی اور صوبائی اسمبلی نعیمہ کشور کے مطابق مذہبی اقلیتی برادری کی خواتین میں سیاسی شعور ہے وہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ منسلک ہیں ان کی نوجوان نسل سیاست میں زیادہ دلچسپی لیتی ہے جمعیت علماء اسلام اقلیتی ونگ کو ہمیشہ سے اہمیت دیتی رہی ہے اور ہماری جو اقلیتی ونگ ہے اس میں خواتین بھی ہیں اور مرد بھی ہیںدو خواتین اقلیتی برادری سے ہیں ہم نے عام انتخابات جولائی 2019 میں مسیحی برادری کی ثریا بی بی کو ضلع خیبر کی جنرل سیٹ پرٹکٹ دیا اور ہم ابھی بھی اگر کوئی خاتون اقلیتی برادری سے ہمارے ساتھ شامل ہونا چاہیں تو ہم انہیں خوش آمدید کریں گے اور اپنی مائنورٹی کی یا پھر خواتین کی فہرست میں یامخصوص فہرست میں انہیں شامل
کریں گے

جمعیت علماء اسلام کی اقلیتی ونگ کی رکن بیگم رنجیت سنگھ نے کہا کہ سیاست میں ا قلیتی خواتین کا کوئی مستقبل نہیں اسبلیوں میں چار سیٹیں ہیں جن پر اقلیتی مردوں میں سخت
مقابلہ ہوتا ہے پنجاب اور سندھ کی طرح کا معاشرتی ماحول نہیں ہے پورا صوبہ ہے اور ہمارا تو براہ راست الیکشن بھی نہیں ہوتا دوسروں کی جیت کے لیے کام کرتے رہنا پڑتا ہے اگر براہ راست الیکشن ہوتا اور ہماری محنت کا براہ راست صلہ ملتا تو شائد زیادہ اقلیتی خواتین سیاسی میدان میں نظر آتیں اب تو صرف کونسلر شپ ہی اقلیتی خواتین کے لیے رہ گئی ہےان کا سمبلی رکن بننا تو دیوانے کا خواب ہےجے یو آیی کی شکر گزار ہیں کہ ان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی نوشہرہ کی رہائشی سنیہ عادل نے کہا ہے کہ ہم ہر مرتبہ ووٹ پول کرنے جاتے ہیں اور بہت شوق سے جاتے ہیں ہماراسارا خاندان نہ صرف مرد بلکہ خواتین بھی تمام الیکشنز میں ووٹ پول کرتے ہیں ہمارا پسند کا امیدوار جیتتا ہے یا ہار جاتا ہے لیکن اس عمل میں حصہ لے کر ہمیں خوشی ہوتی ہے ہم اپنا کردار ادا کر لیتے ہیں باقی جو
معاملات ہیں ان پر ہمارا کسی قسم کا اختیار نہیں لیکن اپنا حق ہم ادا کرتے ہیں مذہبی اقلیتی برادری کی خواتین کسی طور بھی کسی سے کم نہیں ہے صرف مواقع ملنے کی کمی ہے۔ انہیں نا تو
ٹکٹ کوئی پارٹی دیتی ہے اور نا ہی مخصوص نشتوں پر نام دیا جاتا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کی ترجمان سابق رکن صوبائی اسمبلی اور انتخابات 2024کی جنرل نشست کے لیے خاتون امیدوار سمن بلور کا کہنا ہے کہ ہمارے یہاں اقلیتی ونگ پر کوئی قدغن نہیں ہے ھماری خواتین ونگ میں کوئی اقلیتی خاتون نہیں ہے لیکن اقلیتی ونگ میں دو خواتین ممبر ہیں خواتین اقلیتی ورکرز بہترین سیاسی شعور رکھتی ہیں اور بحثیت ووٹرز کے

اور سیاسی ورکرز کے وہ اپنا کردار ادا کرتی ہیں لیکن ایک چیز کی کمی ہے اور وہ یہ ہے کہ ان خواتین میں اجتماعی سوچ کی کمی ہے ا اور وہ انفرادی سوچ لے کر سیاست میں آتی ہیں سرکاری نوکریوں کی طلبگار ہوتی ہیں بہت کم خواتین ایسی ہیں کہ جو کہتی ہیں کہ ہمیں منشور دکھایا جائے اور خواتین کے حقوق کی بات کرتی ہیں سیاست میں وہ اس لیے آنا چاہتی ہیں کہ وہ قانون سازی کریں یا پھر اپنی خواتین کی ترجمانی کریں ان کے مسائل کے مجموعی طور پر حل کے لیے کوشاں ہوں لیکن زیادہ تر خواتین کا سیاست میںآنے کا مقصد اپنے گھر والوں کی یا اپنے مردوں کی سرکاری نوکریاں حاصل کرنا یا ذاتی فوائد حاصل کرنا ہے جو کہ ایک اچھا عمل نہیں ہے خواتین کو چاہے وہ اقلیتی خواتین ہیں یا دوسری خواتین ہیں انہیں خواتین کی اجتماعی سوچ کو لے کر سیاست میں آنا چاہیے۔

خیبر پختون میں مذہبی اقلیتی خواتین کئی ایسے مسائل کا شکار ہیں جن کے لیے قانون سازی کا ہو نا ضروری ہےجیسے شادی اور طلاق ، سیا ست خواتین کی شمولیت، ملازمت تعلیمی اداروں کےحوا لے سے قانون سازی کرنا ہو گی جس کے لیےاقلیتی خواتین کا قانون ساز ادروں میں آنا ضروری ہے

مسیحی برادری کی نمانئدگی کرنےوالے ایڈووکیٹ شہزاد بھٹی کا کہنا ہے کہ صوبے کی سیاست میں اقلیتی خواتین نظر نہیں آتیں اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ خواتین کا سیاست میں کوئی مستقبل نہیں ہے اور اقلیتی خواتین تو بالکل ہی بہت پیچھے ہیں ان میں شعور ہے وہ سیاست میں آنا چاہتی ہیں بلدیاتی انتخابات میں کونسلرز کی حیثیت سے اقلیتی مسیحی خواتین نے الیکشن لڑا اور وہ جیت بھی گئیں لیکن عملی طور پر انہیں اپنی مرضی سے کام نہین کرنے دیا جاتااکثر یت اس لیے خواتین کی سیاست میں نہیں آتی کہ نہ ان کی سیاسی ورکرز کی حیثیت سے کوئی عزت ہے کوئی مقام ہے اور نہ ہی انہیںکوئی عہدہ دیا جاتا ہے سال ہاسال تک کام کرنے کےباوجود بھی وہ سیاسی ورکر ہی رہتی ہیں ا اس لیے ان کے گھر کے مرد اکثر ان کو کہتے ہیں کہ ذلیل ہونے اور الزام لگوانے سے بہتر ہے کہ آپ سیاست میں نہ جائیں اور بلکہ ووٹ بھی نہ ڈالیں ۔

الیکشن اور اقلیتی خواتین کے حوالے سے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم دا حوا لور کی چیئر پرسن خورشید بانو کے مطابق الیکشن کمیشن اس حوالے سے اہم کردار ادا کرے اقلیتی برادری کی خواتین کو آگے لانے کے مواقع بڑھائے سیاسی جماعتوں کو پابند کرے کہ وہ ان کو بھی اپنے ساتھ شامل کریں اور مواقع دیں میں شعور اجاگر کرنے کے لیےغیر سرکاری تنظیمیں، الیکشن کمشن سیاسی جماعتیں اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے