راولپنڈی: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف والے لیٹر میں کہیں نہیں لکھا کہ پاکستان کو امداد نہ دیں، صرف صاف شفاف انتخابات کا وعدہ یاد کروایا، آئی ایم ایف دفتر کے باہر مظاہرہ پی ٹی آئی نے آرگنائز نہیں کروایا۔

اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ 190ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت ہے، بند کمرے میں جیل ٹرائل جاری ہے، گواہ پر جرح بھی ہو رہی ہے، بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات ہوئی ہے، بانی چیئرمین سے سینٹ الیکشن اور امیدواروں کے حوالے سے بات ہوئی ہم نے خیبرپختونخوا، پنجاب اور اسلام اباد کے لئےسینٹ میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کے نام فائنل کرلیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  ہم نے چیف جسٹس کے سامنے اس اندیشے کا اظہار کیا تھا کہ اگر بلے کا نشان لے لیا گیا تو ریزروو سیٹ کا ایشو بنے گا، 80 ریزروو سیٹیں ہماری جو زائد گئی ہیں ان کا اہم ایشو ہے امید ہے سپریم کورٹ اس کا ہمارے حق میں فیصلہ کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ہماری خواتین کی ریزروو سیٹوں کی اسکروٹنی نہیں کروائی تھی الیکشن کے بعد مجبوراً ہمیں دوسری سیاسی جماعت کو جوائن کرنا پڑا، پی ٹی آئی نظریاتی کے چیئرمین کو اٹھا کر ڈرایا دھمکایا گیا۔

گوہر علی خان نے کہا کہ ہمیں کسی بھی سیاسی جماعت کو دو مقاصد کے لیے جوائن کرنا تھا، آئین میں واضح ہے کہ کسی سیاسی جماعت کو جیتی ہوئی سیٹوں سے زیادہ ریزروو نشستیں نہیں مل سکتیں، سنی اتحاد کونسل کو جوائن کرنے کا فیصلہ بہترین تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسد قیصر نے کبھی نہیں کہا کہ فلسطین کے حق میں قراداد پیش نہیں ہونے دیں گے، یہ غلط فہمی ہے جو شاید شور شرابے کی وجہ سے ہوئی، وویمن ڈے پر آئی قراداد پر کہا تھا ان خواتین کا بھی ذکر کریں جو ظلم سہ رہی ہیں، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ جمہور پر ایمان مضبوط ہو اور الیکشن پراسس میں پیسہ نہ چلے۔

بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن میں ووٹ کی رازداری رہنی چاہیے چاہتے ہیں کہ اس ووٹ کی تصدیق کا طریقہ کار الیکشن کمیشن کے پاس ہونا چاہیے۔

آئی ایم ایف دفتر کے باہر احتجاج درست تھا مگر فوج مخالف نعروں کا علم نہیں : عمران خان

 راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ بیرون ملک آئی ایم ایف کے دفتر کے باہر احتجاج میں فوج مخالف نعرے بازی کا علم نہیں، 3 کروڑ ووٹ ہماری جماعت کو ملے اور 3 کروڑ ووٹ 17 جماعتوں کو ملے انتخابات کا آڈٹ کروایا جائے۔

کمرۂ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں انہوں ںے کہا کہ بیرون ملک آئی ایم ایف کے دفتر کے سامنے جو احتجاج ہوا وہ درست تھا  تاہم اس میں فوج مخالف نعرے بازی کا علم نہیں۔

وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے پی کی ملاقات پر انہوں ںے کہا کہ علی امین گنڈاپور کو شہباز شریف کے ساتھ تصاویر نہیں بنوانی چاہئیں تھیں، مجھے خدشہ ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کا فنڈ جاری نہیں کریں گے۔

انہوں ںے کہا کہ 3 کروڑ ووٹ ہماری جماعت کو ملے اور 3 کروڑ ووٹ 17 جماعتوں کو ملے، پاکستان میں ہونے والے انتخابات کا فوری طور پر آڈٹ کروایا جائے ہماری اکانومی ڈوب رہی ہے، ملک میں سخت ریفارمز کی ضرورت ہے یہ حکومت چل نہیں سکتی۔

(فوٹو: فائل)

عمران خان کا کہنا تھا کہ کوئی میرے گھر پر ڈاکا مارے اور کہے بھول جاؤں تو یہ کیسا انصاف ہے؟ ووٹ کو عزت دینے والوں نے بوٹ کو عزت دینا شروع کر دی ہے اور شریف خاندان کا بوٹ کے بغیر گزارہ نہیں ہے۔

فلسطین پر انہوں ںے کہا کہ فلسطین کے مسئلے پر او آئی سی کو کھڑا ہونا چاہیے تھا لیکن ساؤتھ افریقا نے اسٹینڈ لیا، فلسطین کے مسئلے پر ہم جنگ نہیں کرسکتے۔

190 ملین پاؤنڈ کیس پر انہوں ںے کہا کہ چوری ہوئی ہی نہیں اور کیس چل رہا ہے، پیسہ سپریم کورٹ سے حکومت کے پاس چلا گیا یہ کیس اس لیے چلایا جارہا ہے کہ مجھے اگر ضمانت ملے تو اس میں پھنسا لیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یوسف رضا گیلانی کا بیٹا سینیٹ الیکشن میں پیسے دیتے ہوئے پکڑا گیا آج تک کیس نہیں چل سکا، آج الیکٹرانک ووٹننگ مشین ہوتی تو دھاندلی کا معاملہ ایک گھنٹے میں حل ہو جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرض لینے سے پہلے ملک میں سیاسی استحکام ضروری ہے  سیاسی استحکام تب ہی ہوگا جب عوام کو اس کا چوری ہونے والا مینڈیٹ واپس کیا جائے گا، 18 ماہ کے دوران ملک پر ریکارڈ قرضہ چڑھایا گیا نگران حکومت کانسپٹ مکمل تباہ کیا گیا، الیکشن کمیشن، مسلم لیگ ن اور باقی ادارے ملے ہوئے تھے تب ان پر اعتماد نہیں صاف شفاف انتخابات کروائیں جو بھی آئے مجھے منظور ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایک قوم بن کر ریفارمز کی ضرورت ہے، جرمنی اور جاپان بھی ایک قوم بنی تھی اٹک جیل میں برے حالات تھے، بہت سختی کی گئی، زمین پر سلایا گیا۔

صحافی نے سوال کیا شیخ رشید پارٹی چھوڑ گئے اس پر کیا کہیں گے تو عمران خان نے جواب دیا کہ شیخ رشید کا شغل مس کریں گے۔