پاکستان میں اب تک کتنی سیاسی مذہبی پارٹیوں پر پابندیاں لگی

1947 سے 2024 تک

پاکستان میں سیاسی پارٹیوں پر پابندی کیسے لگائی جا سکتی ہے اور آج تک کتنی سیاسی پارٹیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ پاکستانی آئین کے تحت وفاقی حکومت کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر اس پر پابندی عائد کر سکتی ہے اور حکومت قانونی طریقہ کار کے مطابق وزارت داخلہ کو سمری بھیجے گی، کابینہ کی منظوری کے بعد وزارت داخلہ نوٹیفیکیشن جاری کرے گی۔ ماضی قریب میں تو ایسی کسی سیاسی جماعت پر پابندی عائد نہیں ہوئی جس کی کسی اسمبلی میں نمائندگی موجود ہو

الیکشن کمیشن کا کردار

نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد الیکشن کمیشن پارٹی کو ڈی لسٹ کرتے ہوئے اس کی رجسٹریشن ختم کر دے گا۔ اس اقدام کے نتیجے میں پابندی کی زد میں آنے والی جماعت کی اسمبلی میں نمائندگی ختم ہو جائے گی۔

ارکان اسمبلی کی حیثیت اور قانونی حق

اگر پارٹی پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جاری ہونے سے پہلے ارکان اسمبلی سپیکر کو اپنی پارٹی سے وابستگی ختم کرنے کے بارے میں آگاہ کریں تو ان کی رکنیت برقرار رہتی ہے، ورنہ ختم ہو جاتی ہے اور وہ ضمنی الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے۔
جب کسی سیاسی جماعت پر پابندی لگتی ہے تو اسے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حق ہوتا ہے۔ اگر سپریم کورٹ حکومت کے فیصلے کو درست قرار دے تو پارٹی ختم ہو جاتی ہے اور اس کے دفاتر، اثاثہ جات اور بینک اکاؤنٹس ضبط ہو جاتے ہیں۔

ماضی

1975 ءمیں نیشنل عوامی پارٹی پر ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے پابندی عائد کی گئی تھی، لیکن اس وقت کے ارکان اسمبلی کی رکنیت ختم نہیں ہوئی تھی۔ پاکستان میں نام بدل کر کام کرنے پر کوئی قانون موجود نہیں ہے، اس لیے سیاسی جماعتیں ڈمی ناموں سے کام جاری رکھ سکتی ہیں۔

پاکستان میں پہلی پابندی

پاکستان میں سیاسی جماعتوں پر پابندی کا آغاز 1954 ءمیں ہوا، جب پاکستان کمیونسٹ پارٹی پر پابندی عائد کی گئی۔ بعد میں یہ پارٹی مختلف ناموں سے وجود میں آتی رہی اور 2013 ءمیں دوبارہ رجسٹر ہوئی۔
اس جماعت پر یہ الزام تھا کہ اس نے راولپنڈی سازش کیس میں ملوث ہو کر ملک دُشمنی کی اور اسی بنیاد پر ملک بھر میں جماعت کے ورکرز کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔

ایوب خان کا دور

ایوب خان کے دور میں کسی ایک سیاسی جماعت پر پابندی عائد نہیں ہوئی، لیکن ملک میں تمام سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی جو بعد میں اٹھا لی گئی۔

نیشنل عوامی پارٹی

نیشنل عوامی پارٹی پر پہلے 1971 ء میں یحییٰ خان اور پھر 1975 ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے پابندی عائد کی۔
اس جماعت پر بھی ملک دشمن سرگرمیوں کا الزام عائد کیا گیا ۔ نیپ پر سب سے بڑا الزام اس وقت کے سینئر وزیر صوبہ سرحد(موجودہ خیبر پختونخوا) حیات خان شیر پاؤ کے قتل کا تھا۔ وہ آٹھ فروری 1975 کو پشاور یونیورسٹی میں ایک تقریب کے دوران ہلاک ہوئے تھے اور اس دھماکے کا الزام نیپ پر عائد کیا گیا تھا۔

اس واقعے کے اگلےہی روز وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نےقومی اسمبلی میں دو بلوں کی منظوری حاصل کی جس میں ایک میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کی گرفتاری کا استثنٰی ختم کردیا گیا۔ دوسرے بل میں پولیٹکل پارٹیز ایکٹ میں ترمیم کرکے حکومت کو قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے والی جماعتوں کو خلاف قانون قرار دینے کا اختیار دےد یا گیا۔ اس قانون سازی کے اگلے روز 10 فروری 1975 کو نیشنل عوامی پارٹی پرپابندی عائد کردی گئی۔

2001 ءسے 2015 ء کے دوران پابندیاں

2001 ءسے 2015 ءکے دوران پاکستان نے 60 سے زائد مذہبی سیاسی جماعتوں اور ان کے تحت کام کرنے والی تنظیموں پر پابندی عائد کی۔ ان جماعتوں میں سپاہ صحابہ پاکستان، لشکر جھنگوی، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ، لشکر طیبہ، جیش محمد اور دیگر شامل تھیں۔

نیشنل ایکشن پلان

2015 ءمیں نیشنل ایکشن پلان کے تحت کئی جماعتوں اور تنظیموں کے اثاثہ جات قبضے میں لے کر بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے۔

ملی مسلم لیگ

2018 ءکے انتخابات سے پہلے ملی مسلم لیگ نامی سیاسی جماعت تشکیل دی گئی، لیکن امریکا کی پابندی کے باعث اس کو رجسٹریشن نہیں دی گئی۔ بعد میں اس جماعت کے امیدواروں نے اللہ اکبر تحریک کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیا۔

تحریک لبیک پاکستان کی انتخابی کارکردگی

تحریک لبیک پاکستان نے 2018ء میں پہلی بار انتخابات میں حصہ لیا اور پنجاب کے کئی حلقوں میں تیسرے نمبر پر رہی جبکہ سندھ اسمبلی کی دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔

پاکستان تحریک انصاف

ایک بار پھر پاکستان کی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن یہ فیصلہ سپریم کورٹ کا تحریک انصاف کے حق میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کے فورا بعد کیا گیا اور اس وقت کیا گیا جب ملک کی تمام اسمبلیوں میں تحریک انصاف کے نمائندگی ہونے کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا میں ان کی حکومت بھی ہے جبکہ قومی اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی انہی کی پارٹی کے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے