قازقستان میں گزشتہ روز گر کر تباہ ہونے والے آذربائیجان کے مسافر بردار طیارے کا بلیک باکس تلاش کر لیا گیا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ بلیک باکس ملنے کے بعد قازقستان میں گرنے والے آذربائیجان کے طیارے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
پراسیکیوٹر جنرل آذربائیجان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ طیارہ گرنے کی تمام ممکنہ وجوہات کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاہم اس وقت طیارہ گرنے کے تحقیقاتی نتائج ظاہر نہیں کر سکتے۔
آذربائیجان کی تحقیقاتی ٹیم قازقستان میں طیارہ گرنے کی جگہ پر تحقیقات کر رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق قازقستان میں گرنے والے آذربائیجان کے طیارے میں عملے کے افراد سمیت 67 افراد سوار تھے، طیارہ حادثے میں 38 افراد کی موت پر آذربائیجان میں سوگ ہے، طیارے میں سوار 42 افراد کا تعلق آذربائیجان، 16 کا روس، 6 کا قازقستان اور 3 کا کرغزستان سے تھا۔
آذر بائیجان کے تباہ ہونے والے طیارے کے اندر کے آخری لمحات سامنے آگئے۔
آذر بائیجان کا مسافر بردار طیارہ بدھ کو قازقستان ائیرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہوا جس میں 62 مسافر اور عملے کے پانچ افراد سوار تھے جس میں سے 38 افراد ہلاک اور 29 افراد زخمی ہوگئے۔
یہ طیارہ چیچنیا جا رہا تھا کہ قازقستان ائیر پورٹ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا جس کی ویڈیوز اور تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق زندہ بچ جانے والے ایک مسافر نے طیارے کے اندر سے حادثے سے پہلے اور بعد کی ویڈیوز ریکارڈ کیں جو اب وائرل ہورہی ہیں۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارے میں بیٹھا ایک مسافر اطمینان کے ساتھ کلمہ پڑھ رہا ہے اور ساتھ ہی اللہ اکبر کے نعرے بلند کررہا ہے۔ اس کے علاوہ ویڈیو میں مسافروں کی پریشان کن آوازیں بھی سنی جاسکتی ہیں۔
عالمی میڈیا پر سامنے آنے والی فوٹیج میں حادثے سے قبل اور حادثے کے بعد کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔
خبر ایجنسی نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق پرندہ ٹکرانے کے باعث طیارے نے ہنگامی لینڈنگ کی، گروزنی میں دھند کے باعث طیارے کو اپنا رخ بھی موڑنا پڑا۔
بعد ازاں اس قسم کی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ آذربائیجان کے طیارے کو مبینہ طور پر روس یا چیچنیا نے غلطی سے میزائل حملے کا نشانہ بنایا تاہم اس حوالے سے تاحال کسی بھی قسم کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
قازقستان میں گرنے والا آذربائیجان کا مسافر طیارہ مبینہ طورپر میزائل حملے کا نشانہ بنا
آذر بائیجان کا مسافر طیارہ بدھ کو قازقستان ائیرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہوا جس میں 38 افراد ہلاک اور 29 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق آذربائیجان کا مسافر بردار طیارہ باکو سےچیچنیا جا رہا تھا کہ قازقستان ائیر پورٹ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔طیارے میں عملے سمیت 67 افراد موجود تھے۔
مسافروں کا تعلق آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان اور روس سے ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پرندہ ٹکرانے کے بعد طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کے دوران حادثہ ہوا۔
البتہ ذرائع جیو نیوز کے مطابق آذربائیجان کا مسافر طیارہ مبینہ طورپر میزائل حملے کا نشانہ بنا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ روسی یا چیچن فورس نے مبینہ طور پر آذربائیجان کے طیارے کو غلطی سے نشانہ بنایا،طیارہ سطح سے فضا میں مارکرنیوالے میزائل کانشانہ بنا۔
ذرائع کے مطابق میزائل فضا میں پھٹنے سے ٹکڑے مسافر طیارے کے پچھلے حصے پر لگے، پائلٹ نے طیارے کو گروزنی میں دوبار لینڈ کرنے کی ناکام کوشش کی، تیسری بارلینڈنگ کی کوشش کے دوران مسافروں نے دوران پرواز دھماکے کی آواز سنی۔
دوسری جانب آذربائیجان نے مسافر طیارہ تباہ ہونے کی وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات کا اعلان کر دیا۔