رحمت للعالمین و خاتم النببین اتھارٹی نے سیرت کی روشنی میں سماجی تنازعات کے حل کے لیے پہلےمرکز کا افتتاح کر دیا۔

نیشنل رحمت اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی نے سیرت کی تعلیمات کی بنیاد پر سماجی تنازعات کے حل کے لیے اپنے پہلے مرکز کا افتتاح کر دیا۔ یہ مرکز چنیوٹ میں جامعہ محمدی شریف میں واقع ہے جس کا مقصد مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ثالثی کی خدمات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنے گھریلو اور سماجی مسائل کو عدالتوں میں قانونی جنگ لڑے بغیر حل کر سکیں۔

اتھارٹی کے چیئرمین خورشید ندیم نے افتتاحی تقریب کے دوران کہا: "چنیوٹ کا مرکز ایک پائلٹ پروجیکٹ ہے اور یہ ملک بھر میں قائم ہونے والے ایسے ہی مراکز کے لیے ایک ماڈل کے طور پر کام کرے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس مرکز کا مقصد سیرت کی روشنی میں تنازعات کو حل کر کے امن اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے، تاکہ طویل اور مہنگے عدالتی طریقہ کار کے بجائے ایک متبادل پیش کیا جا سکے۔ انہوں نے جامعہ محمدی شریف اور اس کے صدر صاحبزادہ قمر الحق کی جانب سے مرکز کے قیام اوراتھارٹی کی دیگر سرگرمیوں میں فراہم کردہ سہولتوں کی تعریف کی۔

اس سے قبل جامعہ محمدی شریف چنیوٹ میں ایک روزہ قومی سیرت سیمینار بھی منعقد کیا گیا۔ اس تقریب میں بڑی تعداد میں طلبہ، اساتذہ اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ سیمینار کے دوران اتھارٹی کی جانب سے سیرت کی تعلیمات کو معاشرتی بہتری کے لیے فروغ دینے کے لیے تین کتابوں کی تقریب رونمائی بھی ہوئی۔ سیمینار کے مقررین میں ڈاکٹر رشید احمد ڈائریکٹر شیخ زید سینٹر پشاور یونیورسٹی، اسکالر ڈاکٹر ظفر اللہ بیگ، مولانا امجد اقبال ڈائریکٹر جامعہ محمدی شریف اور سہیل بن عزیز ، ڈائریکٹر اتھارٹی شامل تھے۔

اپنے کلیدی خطاب اتھارٹی کے چیئرمین خورشید احمد ندیم نے سیرت کے عملی پہلوؤں کو معاشرتی تطہیر کے لیے پھیلانے کے حوالے سے اتھارٹی کا وژن پیش کیا۔ شکریہ کے کلمات میں جامعہ محمدی شریف کے صدر صاحبزادہ محمد قمر الحق نے دونوں اداروں کے درمیان تعاون کو سراہا اور اس دن کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ دن ہے جب جامعہ محمدی شریف میں پہلا علاقائی مرکز برائے حل تنازعات قائم کیا گیا۔

سیمینار کے دوران اتھارٹی اور جامعہ محمدی شریف کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی ہوئے جس کا مقصد سیرت کی تعلیمات کی روشنی میں سماجی بہتری کے لیے کوششیں کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ ریسرچ، تصانیف اور تربیت کے سلسلے میں تعاون بھی اس مفاہمتی یادداشت کا حصہ ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے