اسلام آباد، (جمعہ، 11 اپریل 2025) پاکستان کے نظامِ انصاف میں موجود چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر احتساب، بہتر وسائل کی فراہمی اور باہمی تعاون پر زور دیتے ہوئے، دو روزہ قومی کانفرنس "وعدے سے عمل تک: انصاف اور اصلاحات کے لیے ایس ڈی جی 16 کو آگے بڑھانا” کا اختتام اسلام آباد میں ہوا۔یہ کانفرنس قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ( این سی ایچ آر )نے یورپی یونین اور یونائٹڈ نیشن ڈیولپمنٹ پروگرام ( یو این ڈی پی ) کے اشتراک سے منعقد کی۔
اس تقریب میں اعلیٰ سرکاری حکام، انسانی حقوق کے ماہرین، عدلیہ کے ارکان اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی تاکہ پاکستان کے فوجداری انصاف کے نظام کو درپیش چیلنجز پر غور کیا جا سکے اور ایک جامع، جوابدہ اور حقوق پر مبنی اصلاحاتی راہیں تلاش کی جا سکیں۔
اس مکالمے کا مقصد پاکستان کے فوجداری انصاف کے اصلاحاتی ایجنڈے کو پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs)، خصوصاً ہدف نمبر 16، اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں و معاہدات — جیسے GSP+ اسکیم سے ہم آہنگ کرنا تھا۔کانفرنس میں بحث کا مرکز انصاف کے نظام کے تین بنیادی ستون قانون نافذ کرنے والے ادارے (LEAs)، عدالتی نظام، اور تعزیری نظام ان سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریاں رہیں۔
مقررین نے ایسے مسائل کی نشاندہی کی جو انصاف کے نظام میں مؤثر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ ہیں، جن میں سماجی تعصبات، امتیازی قانون نافذ کرنے کے طریقۂ کار، عدالتی تاخیر، وسائل کی کمی، اور پسماندہ طبقات کے لیے انصاف تک محدود رسائی شامل ہیں ۔اس موقع پر مقررین نے حکومت کو پولیسنگ میں تکنیکی جدتوں کے نفاذ، شہری مراکز میں سیف سٹی منصوبوں، جرائم کی روک تھام کے لیے ڈیجیٹل ٹولز کے انضمام، فرانزک سائنسز میں سرمایہ کاری، اور آزاد شکایتی اتھارٹیز کے قیام جیسے اقدامات پر سراہا۔
مقررین نے پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جامع قانونی اصلاحات کی سفارش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سازی کا جائزہ لے کر اسے ہم آہنگ بنانا اور ایک ایسا نظام تشکیل دینا جو انسانی حقوق پر مبنی اور یکساں ہو، اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
اس ضمن میں انہوں نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 (ایف آئی آر کے اندراج) اور دفعہ 173 (تحقیقات کی رپورٹ جمع کروانا) میں ترامیم کی تجویز دی تاکہ فرانزک اور ڈیجیٹل شواہد کو مناسب اہمیت دی جا سکے۔خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے مقررین نے دفعہ 506 تعزیراتِ پاکستان کے مؤثر نفاذ، انسدادِ زیادتی ایکٹ 2021ء پر مکمل عملدرآمد، اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 496 کے تحت آمدنی پر مبنی ضمانت کی اصلاحات کی تجویز دی۔اس کے ساتھ ساتھ معمولی نوعیت کے جرائم جیسے آوارہ گردی اور بھیک مانگنے کو جرم کے زمرے سے نکالنے اور ان کے لیے قانونی چارہ جوئی اختیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
شرکاء نے عدالتی نظام کے موجود ڈھانچے اور عملے سے متعلق چیلنجز پر قابو پانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ پنجاب میں خدمت مراکز، خیبر پختونخوا میں خواتین و نو عمر افراد کی معاونت کے مراکز، اور جڑانوالہ واقعے کے بعد قائم کیے گئے میثاق مراکز جیسے اقدامات کو مزید وسعت دی جائے۔ اس کے علاوہ ان اضلاع سے باہر بھی جنس پر مبنی تشدد کے خلاف خصوصی عدالتوں کو پھیلانے کی سفارش کی گئی۔
شرکاء نے عدالتی نظام میں بالخصوص خواتین کی نمائندگی بڑھانے کو ایک اہم ترجیح قرار دیا۔ ساتھ ہی پولیس تفتیش کاروں اور سرکاری وکلاء کے درمیان مؤثر روابط اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
شرکاء نے احتساب کو یقینی بنانے اور عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کی اہمیت کو دہرایا، اور پولیس آرڈر 2002 کے تحت لازمی پبلک سیفٹی کمیشنز اور شکایات کے ازالے کے اداروں کے مؤثر طور پر فعال ہونے کو فوری ضرورت قرار دیا۔کمیونٹی کی شمولیت کو مضبوط بنانے کے لیے خیبر پختونخوا میں قائم تنازعات کے حل کی کونسلوں جیسے ماڈلز کو مؤثر قرار دیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ سروائیور فیڈبیک مکینزم کو واضح بنایا جائے اور قوانین جیسے اینٹی ریپ ایکٹ 2021، پیکا 2016، اور خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ دینے والا ایکٹ 2010 سے متعلق آگاہی مہمات پورے ملک میں چلائی جائیں تاکہ شفافیت، قانونی شعور، اور عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد بہتر ہو سکے۔
شرکاء نے متفقہ طور پر قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو احتساب یقینی بنانے اور نظامی اصلاحات کو فروغ دینے کا ایک کلیدی ادارہ تسلیم کیا۔ انہوں نے سفارش کی کہ نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق نمایاں مقدمات کی نگرانی میں قیادی کردار ادا کرے، جیسا کہ جڑانوالہ کیس میں کیا گیا۔شرکاء نے کمیشن پر زور دیا کہ وہ امتیازی رویوں کے خاتمے کے لیے سرگرم کردار ادا کرے، جیسا کہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ٹو فنگر ٹیسٹ پر پابندی کا نفاذ، اور ایسے جدید قانونی فریم ورک کے نفاذ کو یقینی بنائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ادارہ جاتی احتساب کو فروغ دینے کے لیے عوامی رپورٹنگ، متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے روابط، اور دیگر نگران اداروں کے ساتھ شراکت داری کو بھی وسعت دے۔
اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قانون، انصاف اور انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی فوجداری اصلاحات کا ایک جامع پیکج پیش کیا ہے جس میں فوجداری ضابطہ کے 108 عوام دوست ترامیم شامل ہیں۔ یہ ترامیم اس وقت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں زیر بحث ہیں اور ایک بار منظور ہونے کے بعد یہ ترامیم پاکستان کے سینیٹ میں حتمی منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے اس بات کا یقین دلایا کہ کانفرنس کی تجاویز کو مجوزہ اصلاحات میں شامل کیا جائے گا اور حکومت معاشرتی طور پر سب سے زیادہ کمزور طبقے تک پہنچنے کے لیے پر عزم ہے۔ یہ وزیر اعظم شہباز شریف کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔
اپنے کلیدی خطاب میں سپریم کورٹ کی جج عائشہ ملک نے خواتین کو انصاف تک رسائی میں درپیش چیلنجز کا جامع تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے قابل اعتماد سائنسی ڈیٹا پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آگاہی اور تربیت اہم ہیں، مگر جب تک یہ اقدامات بہتر خدمت کی فراہمی میں تبدیل نہ ہوں، ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج پالیسیوں اور عدالتی فیصلوں کو نافذ کرنا ہے۔
جج عائشہ ملک کا یہ بھی کہنا تھا کہ خواتین کو بااختیار بنانا صرف اعداد و شمار کو بہتر بنانے یا قوانین میں اصلاحات کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ہر عورت کی زندگی کو بدلنے کے بارے میں ہے۔ یہ تفریق کو ختم کرنے کا عمل ہے۔ یہ خاموشی سے برداشت کرنے والی تکالیف کو آواز دینے کا معاملہ ہے اور یہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہر عورت، چاہے وہ شہر میں رہتی ہو یا گاؤں میں، ہر دن صبح اس وعدے کے ساتھ اٹھے کہ اسے مواقع، تحفظ اور عزت ملے گی ۔
پاکستان میں اقوام متحدہ کے رہائشی کوآرڈینیٹر محمدیحیی نے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کو کانفرنس کے انعقاد کو سراہا ۔ انہوں نے کہا کہ انصاف ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ قانون کی عملداری، اداروں کی صلاحیت اور اصلاحات میں درپیش چیلنجز کو مشترکہ وژن اور کاوشوں کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ انصاف کی فراہمی کسی بھی جمہوری نظام کا دل ہے۔ انہوں نے صنفی بنیاد پر تشدد کو خاموش وبا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا صرف 5 فیصد سزا کی شرح اور 64 فیصد بریت کی شرح ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جب کوئی عورت رپورٹ کرنے کا حوصلہ کرتی ہے، تو وہ کئی سرخ لکیریں عبور کر رہی ہوتی ہے۔
اپنے اختتامی کلمات میں چیئرپرسن این سی ایچ آر رابعہ جویری آغا نے تمام اسٹیک ہولڈرز کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد واضح تھا وہ رکاوٹیں ختم کرنا جو سب سے زیادہ کمزور افراد کو انصاف تک رسائی سے روکتی ہیں۔ انہوں نے حکومت کی حمایت کی تعریف کی۔ این سی ایچ آر کی رپورٹ کی بنیاد پر حکومت نے امتیازی اشتہارات پر پابندی عائد کی؛ ہماری تحقیق کے جواب میں حکومت نے ذہنی صحت ہیلپ لائن قائم کی اور اس پر قانون سازی کر رہی ہے اور این سی ایچ آر کی وکالت کے جواب میں 650 بھارتی ماہی گیروں کو گزشتہ سال ان کے ملک واپس بھیجا گیا اور 200 مزید کو پچھلے مہینے رہا کیا گیا۔
یو این ڈی پی کے رہائشی نمائندے سیموئل رزک نے کہا کہ کانفرنس میں بحث کا مرکزی نقطہ شراکت داری اور تعاون کو فروغ دینا تھا تاکہ انصاف تک رسائی میں بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے این سی ایچ آر کو مبارکباد دی اور آئندہ اقدامات کے لیے یو این ڈی پی کی حمایت کا یقین دلایا۔
کانفرنس کا اختتام اس اتفاق رائے پر ہوا کہ قانونی وعدوں کو عملی اصلاحات میں تبدیل کرنے کے لیے سیاسی ارادے کی مسلسل ضرورت ہے، بین ادارہ جاتی ہم آہنگی، مناسب وسائل کی تقسیم، اور مؤثر سول سوسائٹی کی شرکت ضروری ہے۔ اس کے ذریعے پاکستان کے عدلیہ کے نظام کو SDG 16 کے اصولوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے عہدوں کے قریب لایا جا سکے گا۔