امن کی پکار

ہے فضا میں بانگِ امن سنو،
ہر طرف پھیلا سکون سنو،
جنگ کی تاریکی چھٹ جائے،
محبت کا سورج چمک جائے۔

سرسبز تلواروں سے نہیں فصلِ مراد
چمن، خونِ بے گناہوں سے نہیں آباد
راستہ ہے صرف پیار کی گلی،
انتخاب ہے صرف بہار کی کلی،

اے کھیلو پھولوں کی بارات میں
بچوں کی مسکراہٹوں کی بہار میں
ہر دل میں اُترے امن و آشتی کا نور
بخدا یہی تو ہے زندگی کا سرور۔

نفرتیں بھول کر باہم مل بیٹھو
دل کے دروازے ذرا کھول بیٹھو
جان لو جنگ ہے زخم، امن ہے مرہم
اور یہی سبق سکھاتا ہے دینِ حرم

بن کے پرچم اُٹھو امن کا
اور ہو جاؤ علاج ہر زخم کا
دنیا کو سنوارنا ہے تو
پیار ہی کو اپنا ہتھیار بنا

رک جاؤ، جنگ مت چھیڑو
زخمِ دل پر نمک مت چھڑکو
امن کی دھرتی کو سجانا ہے
ہر طرف محبت کا گیت گانا ہے

اے انسان! ہے یہی سب کا مقصدِ حیات
امن ہو، محبت ہو، ختم ہو ظلم و فساد

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے