بھارت کا تازہ بیانیہ یہ ہے کہ پاکستان نے میزائلوں سے سکھوں کے گولڈن ٹمپل پر حملہ کیا جسے بھارت کے ائیر ڈیفنس سسٹم نے روک لیا ۔ یہ دعوی سنا تو کرسٹن سی فیئر یاد آ گئیں۔کرن تھاپر نے ایک سوال میں جب ان کے سامنے بھارت کا موقف رکھا تو بے ساختہ انہوں نے جواب دیا: بکواس۔تو جناب ، بھارت کی اس تازہ بکواس کے محرکات اور حقیقت دونوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
حقیقت کا معاملہ تو بڑا سادہ ہے۔ اگر پاکستان نے حملہ کیا ہوتا توبھارت کا ایئر ڈیفنس سسٹم اسے روک ہی نہیں سکتا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لاہور اور امرتسر میں فاصلہ ہی کتنا ہے۔ میزائل فائر ہونے اور اپنے ٹارگٹ تک پہنچنے میں وقت ہی کتنا لگتا ہے کہ بھارت کا ایئر ڈیفنس سسٹم حرکت میں آتا؟
پاکستان سے اگر شارٹ رینج بیلسٹک میزائل فائر کیا جائے تو اسے امرتسر پہنچنے میں 20 سیکنڈ لگتے ہیں۔ رام راج کے سیوم سیوکوں کے تماشے دیکھیے کہ بیس سیکنڈ میں انہیں معلوم بھی ہو گیا کہ میزائل آ رہا ہے ، یہ بجرنگ بلی پکارتے میدان میں بھی آ گئے اور انہوں نے ایئر ڈیفنس سسٹم کے مدد سے میزائل روک بھی لیے۔
پاکستان کا میزائل حملہ نہ ہوا ، جہنم کے منتظر جاوید اختر کے واہیات ڈائیلاگزپر مشتمل کوئی تیسرے درجے کی بھارتی فلم ہو گئی۔
یہ بھارتی ایئر ڈیفنس سسٹم اگر اتنا ہی موثر ہوتا تو وہ جو پاکستان نے 10 مئی کو بھارت کو اندر تک ادھیڑ کر رکھ دیا تھا اس وقت کسی پاکستانی میزائل کو روک لیاہوتا۔ جب پاکستان کے میزائل بھارت کے عسکری ٹارگٹ ہٹ کر رہے تھے اس وقت بھارت کا ایئر ڈیفنس سسٹم کیا گنگا اشنان کرنے گیا ہوا تھا؟تب تو میزائلوں کا سفر بھی زیادہ تھا ، دورانیہ بھی کافی تھا ، ایئرڈیفنس سسٹم کی ہنر کاری کے پاس وافروقت تھا کہ اشنان کر کے سندور لگا کر میدان میں آ جاتی۔ یہ اس دن کہاں رہ گئی؟
یہ کیسا ایئر ڈیفنس سسٹم ہے جو اپنی فوجی تنصیبات تو نہ بچا سکا۔ اپنا اسلحے کا ڈپو برباد کروا لیا ، اپنے جنگی ایئر فیلڈ تباہ کروا لیے ، مارنے والوں نے گھس کر مارا اور تسلی سے مارا لیکن یہ ایئر ڈیفنس سسٹم ستی ساوتری کی طرح شرموں مارا کہیں چھپ کر بیٹھا رہا ۔ اس میں اتنی اہلیت ہوتی تو اپنے کسی فوجی ٹارگٹ کو بھی بچا لیتا۔پاکستانی سرحد سے چار چار سو کلومیٹر دور اپنے فوجی ٹارگٹ برباد کروا لیے ا ور یہ ایئر ڈیفنس سسٹم کچھ نہ کر سکا توسرحد سے چند کلومیٹر دور گولڈن ٹمپل کو اس نے کیسے بچا لیا؟
اس ’ بکواس ‘ کے محرکات کیا ہیں؟بہت واضح۔ سکھوں میں پاکستان کے بارے میں نفرت۔ پاکستان کی سرحد کے ساتھ بھارتی پنجاب ہے۔ وہاں سکھ آباد ہیں۔ سکھ بھارت کی فالٹ لائن ہیں۔ خالصتان تحریک اب بھی قائم دائم ہے جو اس بات کا اعلان ہے کہ یہ فالٹ لائن بڑھ رہی ہے۔ بھارت نے ہمیشہ سکھوں کا استحصال کیا۔ ( اس کی تفصیل گذشتہ کالموں میں بیان کی جا چکی ہے) ۔ اب بھارت یہ چاہتا ہے کہ سکھوں کو استعمال کیا جائے اور اس ظلم کے باوجود جو بھارت نے سکھوں پر کیا اور کر رہا ہے ، انہیں فرنٹ لائن پر رکھ کر استعمال کرے۔ یہ مارشل ریس ہے اسے آگے کر کے ان کے پیچھے مودی کا سنگھ پریوار مزے کرتا پھرے۔
اندرا گاندھی کے دور میں گولڈن ٹمپل کے ساتھ جو کچھ ہوا، جس طرح اس کی بے حرمتی کی گئی اور سکھوں کا قتل عام ہوا، یہ چیز سکھوں کے حافظے سے محو نہیں ہو سکتی۔ بھارت اس فالٹ لائن کو کچلنے کے لیے کینیڈا اور امریکہ تک سکھوں کی ٹارگٹ کلنگ میں مصروف رہا۔ کینیڈا حکومت نے تو اس پر باقاعدہ تحقیقات کر کے اس کے نتائج دنیا کے سامنے رکھ دیے۔سنگھ پریوا ر سکھوں کے خلاف ایک نئی واردات کے ساتھ سامنے آ یا ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ سکھ رہنما اس بات کو سمجھ رہے ہیں کہ بھارت کیا گندا کھیل رہا ہے۔
پاکستان سکھوں کی عبادت گاہ پر کیوں میزائل مارے گا؟ پاکستان نے تو اپنی جوابی کارروائی میں بھارت میں کسی ہندو مندر تک کو نشانہ نہیں بنایا۔پاکستان کا جوابی حملہ بھارت کی فوجی تنصیبات پر تھا ۔ یہ بھارت تھا جس نے پاکستان میں مسجد کو نشانہ بنایا۔ پاکستان نے مگر جواب میں کسی ہندو مندر کو نشانہ نہیں بنایا۔ تو پاکستان گولڈن ٹمپل کو کیوں نشانہ بناتا؟پاکستان نے تو جنگ کے دوران بھی کرتار پور راہ داری بند نہیں کی۔ سکھ بغیر ویزے کے کرتارپور آتے ہیں ۔ اصل میں بھارت اپنے چہرے کی وہ کالک اتارنا چاہتا ہے جو گولڈن ٹمپل پر اندرا گاندھی کی بربریت سے اس کے منہ پر لگی۔لیکن ہندو فاشزم میں چونکہ اتنا ظرف تو ہے نہیں کہ سکھوں سے معافی مانگے اس لیے سکھوں کی ہمدردی بٹورنے کے لیے ایک فالس فلیگ کارروائی ڈالی گئی اور خود کو سکھوں کا مسیحا بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ایک جھوٹی اور فرضی کہانی کی بنیاد سکھوں کو استعمال کرنے کی کوشش ہے۔
بھارت کی گہری واردات دیکھیے۔ ایک جانب پہلگام میں کشمیریوں کی معیشت پر حملہ کیا ، الزام پاکستان پر لگا دیا۔ نقصان بھی مسلمانوں کا ، الزام بھی مسلمانوں پر ۔کشمیریوں کو یہ باور کرانے کی کوشش بھی کی گئی کہ دیکھیے گرمیوں کے موسم میں پاکستان نے آپ کے سیاحتی امکانات پر حملہ کیا ہے ۔ بالکل اسی طرح گولڈن ٹمپل کے حوالے سے سکھوں کو باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ بھارت سکھوں کا بڑا خیر خواہ ہے ا ور پاکستان تو دشمن ہے۔
چانکیہ کا تصور سیاست ہمہ جہت ہلاکت خیزی کے ساتھ بروئے کار آ رہا ہے۔
اس سارے عمل کا خلاصہ وہی ہے جو کرسٹن سی فیئر نے کہہ دی ہے کہ : بکواس۔ہندتوا راج کی تازہ بکواس سے پریم چند یاد آگئے۔ انہوں نے لکھا تھا کہ: آئی ہولی آئی ہولی، ہم نے اپنی دھوتی کھولی۔ہندتوا کی ڈائن سندور لگا کر دھوتی کھول کر بیٹھی ہے اور بقول پریم چند اسے صرف بکنا آتا ہے تو بکے جا رہی ہے۔
ورنہ سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ کسی جمع تفریق میں بھی گولڈن ٹمپل پاکستان کا نشانہ نہیں ہو سکتا۔ ہاں بھارت کے ہندو شائوونزم کا نشانہ ضرور ہو سکتا ہے کیونکہ بھارت کے آئین میں تو سکھوں کو ایک الگ مذہب تسلیم کرنے سے بھی انکار کیا گیا ہے اور انہیں بھی ہندو ہی قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان نے اگر مذہبی عبادت گاہوں پر حملہ کرنا تھا تو گولڈن ٹمپل پر کیوں کرتا؟ایسے سینکڑوں ہندو مندر موجود تھے ۔