پاکستان اور چین کی دوستی کو دنیا بھر میں ایک مثالی اور پائیدار تعلق کی حیثیت حاصل ہے۔ دونوں کے اس فقید المثال دوستی کا آغاز، دونوں کے قیام کے ماہ و سال سے ہی ہوگیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ مضبوط رشتہ صرف حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ دونوں اطراف عوامی سطح پر بھی اس کو بہت گہرا جذباتی اور مستحکم حیثیت حاصل ہے۔ اس دوستی نے نہ صرف دونوں ممالک کے مفادات کو ہر آن تحفظ دیا ہے بلکہ خطے کی مجموعی سیاست میں بھی اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ آئیے، اس شاندار تعلق کے ماضی، حال اور مستقبل پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔
ماضی: دوستی کی مضبوط بنیادیں
پاکستان اور چین کے تعلقات کا آغاز 1950 کی دہائی میں ہوا، جب دونوں ممالک نے 21 مئی 1951 کو باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ اس وقت پاکستان نے چین کو تسلیم کرنے والے پہلے مسلم ملک کی حیثیت سے ایک اہم قدم اٹھایا۔ 1963 میں سرحدی معاہدے پر دستخط ہوئے، جس نے کشمیر کے تنازعے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا۔ چین اور پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بشمول اقوام متحدہ ایک دوسرے کے مؤقف کی تائید، قومی سلامتی کی حمایت اور عالمی سطح کے اقتصادی مواقع میں دو طرفہ شراکت داری کو پوری استقامت سے جاری رکھی ہے۔ پاکستان نے خارجہ محاذ پر "ون چائنہ” پالیسی کا ساتھ دیا ہے جبکہ چین نے بھی کشمیر کے تنازعے پر ہمیشہ پاکستان کے اصولی موقف کی تائید کی ہے۔
1970 کی دہائی میں جب پاکستان نے چین کے ساتھ اقتصادی اور دفاعی تعاون کو بڑھایا، تو یہ تعلقات ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوئے۔ چین نے پاکستان کی دفاعی ضروریات پوری کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا، جس میں جنگی طیاروں، میزائلوں، ٹینکوں اور دیگر اسلحوں کی فراوانی کے ساتھ فراہمی شامل ہے۔ 1978 میں شاہراہِ قراقرم کا افتتاح اس دوستی کو ایک نئی جغرافیائی، تزویراتی اور معاشی جہت دے گیا۔ چین اور پاکستان کو قدرت نے ایک دوسرے کی ضرورت بنایا ہے۔
حال: اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری
آج پاک چین تعلقات صرف دفاعی تعاون تک محدود نہیں، بلکہ اقتصادی، تجارتی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں بھی ایک نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) اس کا بہترین ثبوت ہے، جو چین کی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کو توانائی، مواصلات اور صنعتی ترقی کے ذریعے خطے میں ایک اہم اقتصادی مرکز بنانے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔ چین اور پاکستان کی دوستی آزمائش کی ہر گھڑی سے بخیر و عافیت نکل کر مزید طاقت اور اعتماد پا لیتی ہے جس کی تازہ ترین مثال دنیا نے چند ہی روز قبل پاک بھارت کشیدگی کے دوران کھلی آنکھوں سے دیکھ لی ہے۔
دفاعی شعبے میں، پاکستان چین کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کر رہا ہے، جبکہ JF-17 تھنڈر جیسے جنگی طیاروں کی تیاری دونوں ممالک کی دفاعی خود انحصاری کی ایک ٹھوس علامت ہے۔ اس کے علاوہ، چین نے کشمیر کے معاملے پر ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے، جبکہ پاکستان نے "ون چائنہ” کی پالیسی کو تسلیم کرتے ہوئے تائیوان اور تبت جیسے معاملات پر چین کا واضح موقف قبول کیا ہے۔
مستقبل: مشترکہ ترقی اور علاقائی استحکام
مستقبل میں پاک چین تعلقات اور بھی گہرے ہونے کی مضبوط توقع ہے۔ CPEC کے دوسرے مرحلے میں زراعت، ٹیکنالوجی اور سمندری تعاون جیسے شعبوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔ چین کی جدید ترین ٹیکنالوجی اور پاکستان کی نوجوان آبادی کا باہمی اشتراک ایک وسیع ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دے سکتا ہے۔ چین دنیا کو ترقی، تجارت، شراکت، مفاہمت، اور ٹیکنالوجی کے ذریعے سے جوڑنے کے راستے پر چل پڑا ہے جبکہ پاکستان اس عمل میں اس کا گرم جوش شریک و حامی ہے۔ چین ہر اس مقام تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں اسے امکان نظر آتا ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ خطے اور ممالک جو چین کو دوستی کا ہاتھ بڑھائے اور ایک نئے دور کے آغاز میں مقدور بھر حصہ دار بنیں۔
علاقائی سطح پر، پاکستان اور چین کا اتحاد افغانستان میں دیرپا استحکام، جنوبی ایشیا میں پائدار امن اور مغربی طاقتوں کے یک طرفہ اثر و رسوخ کو متوازن بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ چین خطے میں بہر صورت امن و استحکام دیکھنے کا متمنی ہے اور کسی بھی طرح کے جارحانہ عزائم کو قبول کرنے سے یکسر انکاری ہے۔ دو روز قبل چین اور پاکستان نے افغانستان کو سی پیک میں شمولیت کے فیصلے پر اصولی اتفاق کیا ہے۔ اس موقع پر افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ بھی موجود رہے۔ یہ فیصلہ خطے کے سیاسی اور معاشی مستقبل کے لیے حد درجہ نیک شگون ہے۔ چین کی معاشی طاقت اور پاکستان کی جغرافیائی اہمیت دونوں مل کر خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کا باعث بن سکتی ہے۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے پروفیسر اور ڈان اخبار کے کالم نگار سر حسن شہزاد کہا کرتے تھے کہ "دنیا میں صرف تین ممالک ایسے ہیں جو حد درجہ کمٹمنٹ سے پاکستان کو محفوظ اور مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ ہیں چین، سعودی عرب اور ترکی”۔
پاک چین دوستی کی عوامی سطح پر افادیت
دونوں ممالک کے عوام کے لیے یہ دوستی روزگار، تعلیم اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ چین میں پاکستانی طلباء کے لیے بڑی تعداد میں اسکالرشپس، روزگار کے بڑھتے مواقع، دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلے کے مختلف پروگراموں کا اجراء، اور سیاحت کے شعبے میں امکانات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ اسی طرح، پاکستانی مصنوعات کو چین کی وسیع ترین منڈی تک رسائی حاصل ہو رہی ہے۔ نوجوانوں کو مشورہ ہے کہ وہ چینی زبان سیکھنے پر توجہ دیں، چینی اسکالرشپس سے فایدہ اٹھائیں، چینی ثقافت اور مزاج سے آگاہی پائیں اور ان مواقع میں حصہ دار بنیں جو چین نے برسانا شروع کیا ہے۔
پاک چین دوستی صرف ایک اسٹریٹجک اتحاد نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا جذباتی رشتہ، تجارتی ذریعہ، علاقائی وسیلہ اور دو طرفہ اثاثہ ہے جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ مستقبل میں، یہ تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے ترقی اور استحکام کا باعث بنیں گے۔ ایک مشہور چینی کہاوت ہے کہ "اگر آپ ایک سال کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تو بیج بوئیں، اگر آپ دس سال کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تو درخت لگائیں، اور اگر آپ سو سال کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تو لوگوں کو تعلیم دیں۔” عین اسی مفہوم اور ڈھانچے کی کہاوت عربی زبان میں بھی ہے۔ پاکستان اور چین کی دوستی ایک بیج نہیں، ایک درخت نہیں، بلکہ ایک جنگل ہے جو آنے والی نسلوں کو ان شاءاللہ ٹھنڈا سایہ اور میٹھا پھل دے گا۔
پاک چین دوستی زندہ باد