دین فلاح ہے، مگر کیا کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ یہ فلاح کیوں ہے؟
یہ فلاح اس لیے ہے کہ فلاح کے لیے درکار تمام لوازمات دین میں نہایت عمدگی سے اور انسانی نفسیات کے عین مطابق بیان کیے گئے ہیں۔
ہم پہلے انسانوں کے بنیادی تصور فلاح کا ذکر کرتے ہیں پھر آخر میں اسی بنیادی انسانی تصور فلاح کو قرآن حکیم کے روشنی میں دیکھتے ہیں۔
ہمارا روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ کسی شعبے میں قدم رکھنے سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس شعبے کی طرف قدم اٹھانے والے کے پاس متعلقہ شعبے کے کام کے لیے مطلوبہ صلاحیت ہے بھی یا نہیں۔
اگر مطلوبہ صلاحیت معدوم ہو تو ماحول میں بعض لوگ رضاکارانہ طور پر کوشش کرتے ہیں کہ نا اہل افراد شعبوں میں داخل نہ ہو سکے۔اور بعض لوگ بحیثیت اتھارٹی عدم صلاحیت کی بنا پر کسی شعبے میں افراد کے داخلے کو روکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ انسان کو اکثر خود بھی اپنی صلاحیت محسوس ہوتی ہے کہ میرے پاس کس کام کی صلاحیت ہے اور کس کی نہیں ہے۔
بالفرض اگر کسی شعبے کو نا اہل افراد کے داخلے سے بچانے کے لیے مزکورہ بالا تمام اسباب عملا ناکام ہو جاۓ اور کسی شعبے میں کام کرنے کے متعلقہ درکار صلاحیت سے عاری افراد کارکن بن جاۓ تو ایسے نا اہل افراد اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو جاتے ہیں،خود بھی ذلیل ہو جاتے ہیں اور شعبے سے وابستہ افراد کے لیے بھی درد سر بن جاتے ہیں۔عدم صلاحیت کی بنیاد پر لوگ اداروں کا کیا کباڑہ کرتے ہیں اور ان کے معاشرے پر ناقابل برداشت حد تک کیا منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔یہ اتنے واضح ہیں کہ محتاج بیان نہیں۔الغرض ایسے شخص کا متعلقہ شعبے میں کامیاب ہونا تو درکنار ،الٹا وہی شعبہ اس کے بدنامی اور رسوائی کا ذریعہ بنتا ہے۔مزید یہ کہ یہ بدنامی اور رسوائی اس کے ذات تک محدود نہیں رہتی بلکہ متعلقہ شعبے کو بھی بھرپور طور پر اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔لھذا یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ کسی بھی کامیابی کے حصول کا بنیادی دارمدار اس حوالے سے درکار مطلوبہ صلاحیت پر ہوتی ہے مگر یہ کل نہیں بلکہ کامیابی کے پورے منصوبے کا بنیادی ناگزیر جز ہے۔
کامیابی کے لیے انسانی عقل کے مطابق اسی درکار بنیادی ناگزیر ضرورت کو جب ہم قرآن حکیم کے تناظر میں دیکھتے ہیں تو اس سلسلے میں خدا کا یہ کلام قطعی طور پر انسان کو اجنبی محسوس نہیں ہوتا بلکہ فلاح کے حوالے سے عقل کے منصوبے میں جس طرح فلاح کے لیے صلاحیت و استعداد کو مرکزی اہمیت حاصل ہے قرآن بھی اسی صلاحیت کو فلاح کے حصول کے لیے مرکزی حیثیت سے بیان کرتا ہے۔قرآن نہ صرف اسے بنیاد کہتا ہے بلکہ اس کی تفہیم،وضاحت اور اہمیت کو اپنے مرکزی اور اصولی تعلیمات میں شامل بھی کرتا ہے ۔قرآن حکیم فلاح کے لیے متعلقہ صلاحیت کو بنیاد کیسے مانتا ہے،اسے کتنا اہم سمجھتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن جس شے کو انسان کا واحد صلاحیت بتاتا ہے اسے انسان کے دل و دماغ میں بسانے کے لیے ایسا طریقہ تفہیم اختیار کرتا ہے جو انسان کو کسی چیز کے سمجھنے کے لیے درکار تمام تر لوازمات کا احاطہ کرتا ہے؛مثلا اسے شعوری طور پر سمجھانا اور اس شعوری تفہیم کے لیے اس کے تحت الشعور میں انتظام کرنا۔انسانی عقل تو فلاح کے لیے متعلقہ صلاحیت کی محض نشاندہی کرتا ہے مگر قرآن کا انداز تفہیم اس حوالے سے ایسا ہے کہ وہ محض نشاندہی نہیں کرتا بلکہ اسے شعوری طور پر سمجھانے،یاد کرانے اور دلوں میں بسانے کے لیے اپنے منفرد معجزاتی منصوبہ بندی کو بھی انسان کے سامنے پیش کرتا ہے جس کا مقصد یہی ہے کہ انسان اپنے آپ کو پہچان سکے کہ میرے پاس کیا صلاحیت ہے تاکہ وہ اسی کے مطابق عملی زندگی میں رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کر سکے اور عملی زندگی میں متعلقہ منطقی رویے کے انتخاب میں فکری،نفسیاتی اور عقلی خطا سے بچ سکے۔
قرآن حکیم نے انسانوں سے خطاب فرمایا ہے :
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِۚ وَاللّٰهُ هُوَ الۡغَنِىُّ الۡحَمِيۡدُ ۞(سورۃ فاطر آیت نمبر 15)
"تم سب خدا کے محتاج ہو اور خدا بے پراہ منزہ اور حمد و ثنا والا ہے۔”
یہ خطاب تمام انسانوں سے ہے تاکہ سب کو معلوم ہو جاۓ کہ ہم سب محتاج ہیں۔پھر الفقراء کی تعبیر سے انسانوں کو یہی سمجھایا گیا کہ تم ہر لحاظ سے فقیر ہو؛تمہارا فقر پوری زندگی پر محیط ہے،تم میں سے کوئی مانے یا نہ مانے مگر فقیری تمہاری فطرت ہے۔یہ فقیری تمہاری شخصیت،ضرورت ،احساس،جسم اور ماحول پر پوری طرح چھائی ہوئی ہے۔تم اپنے فقر کا انکار بھی کرو تو تمہارے اس انکار کو خود تمہارا اپنا وجود ہی مسترد کر دیں کیونکہ تم تو خود اس وجود کے تخلیق میں بھی خدا کے محتاج تھے،خود اس کے پیدا کرنے پر قادر نہیں تھے۔آج بھی تمہیں یہ دعوی زیب نہیں دیتا کہ تم اسے اپنا کہہ دو بلکہ یہ خدا کی عطا ہے۔جب آپ کا اپنا وجود تمہارا نہیں ہے تو تمہارے پاس اپنا اور ہو کیا سکتا ہے؟تمہارا یہی وجود جو تمہیں بے انتہا عزیز اور محبوب ہے تمہارے آنکھوں کے سامنے مٹی میں ملنے روانہ ہو جاتا ہے مگر تم اپنے اس محبوب کا بے بسی کے عالم میں محض تماشہ ہی دیکھتے رہ جاتے ہو۔تمہارے بارے میں تمہارے وجود،ضروریات،تمہارے احساسات اور تمہارے ماحول سب کی یہی مشترکہ گواہی ہے کہ تم واقعی فقیر ہو،تمہارے پاس اس فقیری اور محتاجی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
تمہارے پاس اگر عملی زندگی میں رویہ اختیار کرنے کے لیے کوئی بنیاد ہے تو وہ تمہاری یہی صلاحیت "فقیری” ہے اور چونکہ تمہارے فقر کے اس صلاحیت نے تمہارے پورے زندگی کا احاطہ کیا ہوا ہے اس لیے تم اپنی پوری زندگی کو اسی کے اظہار کا مصداق بناؤں۔(اسی اظہار کو قرآن نے عبادت کے جامع اصطلاح سے تعبیر کیا ہے جس کو اسی مضمون میں آگے جا کے ہم بیان کریں گے)۔اس کے علاوہ اپنے زندگی میں کسی دوسرے رویے کا اظہار کرو گے تو تم بے وقوف اور جاہل کہلاۓ جاؤں گے کیونکہ فقر کے علاوہ تمہارے پاس کوئی صلاحیت ہے ہی نہیں جس کا تم اظہار کر سکوں جبکہ یہ تو انسان کے اپنے ہی عقل کا فیصلہ ہے کہ ہر وہ عملی رویہ جس کے پشت پر متعلقہ صلاحیت نہ ہو وہ یا تو اپنے حامل کی جہالت کا پتہ دیتی ہے اور یا اس کے بے باک جھوٹا ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم انسان کو یہ ہدایت و راہنمائی دیتا ہے کہ تمہیں اپنے آپ کو جہالت اور جھوٹ سے بچانے کے لیے اپنی عملی رویے میں فقط اسی صلاحیت (فقر) کا اظہار کرنا چائیے جس کی گواہی تمہارے وجدان اور فطرت میں موجود ہے۔اگر تم نے اپنی عملی زندگی میں اپنی استعداد اور صلاحیت کو نظر انداز کر کے کوئی رویہ اور کردار اپنایا تو اس صورت میں تم کیا بنو گے وہ میں تم کو صاف صاف بتاتا ہوں:”إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنسَانُ ۖ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا” (72)
ترجمہ:”ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اُسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے۔”
یہ انسان ظلوم اور جھول اس لیے کہ اس نے خدا کے ساتھ اطاعت کا وعدہ کیا اور اسے وعدے کی تکمیل کے لیے اسے صلاحیت دی گئی اور اس کے اس صلاحیت پر اس کے وجود کو خود گواہ بھی بنایا مگر ان سب حقائق کے باوجود اس کی فکر،سوچ اور کردار کی بنیاد یہ حقائق نہیں بلکہ کچھ اور ہے۔اس سے بڑا جاہل کون ہو سکتا ہے کہ جب اسے اپنی ضمیر اس کا تعارف کراۓ اور جواب میں وہ اس کی آواز پر غور کرنے کی بجاۓ اسے اپنی جہالت کا نشانہ بناۓ۔یہ جہالت اس لیے ہے کیونکہ جہالت کہتے ہی اسے ہیں”حق بات کو بدتمیزی اور بے باکی سے مسترد کرنا”۔مگر یہ جہالت کوئی معمولی جہالت نہیں بلکہ یہ جہالت خدا سے غداری پر مبنی ہے اور خدا سے غداری کرنے کے انجام سے اپنے آپ کو بے خبر رکھنا ہے۔انسان کا یہی رویہ اپنے ذات کے ساتھ بھی زیادتی ہے اور ماحول کے ساتھ بھی ظلم ہے۔اس سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ جب انسان اپنی استعداد کو اپنی ہی نفس کے گواہی کے مقابلے میں مسترد کر دیتا ہے اور اس تردید کی بنا پر اپنے لیے کسی اور کردار کا انتخاب کرتا ہے تو اس کی ذات تمام جہالتوں اور زیادتیوں کو مجموعہ بن جاتا ہے۔
"الفقراء” کے بعد جو بات ذہین نشین کی جا رہی ہے اس میں ذرا غور کر کے خدا کے کلام کی حقانیت اور اس کے حسن کا نظارہ کیجیے۔حقانیت اور حسن اس معنی میں کہ انسان جب کسی اصطلاح کا نام سنتا ہے تو اس اصطلاح کے حوالے سے اس کا عموما ابتدائی تصور وہی ہوتا ہے جو اس کے تجربے اور براہ راست مشاہدے میں ہو۔اصطلاحات کے مفاہیم کے حوالے سے انسان کی یہ فطری کمزوری ممکنہ طور پر شیطان کے دراندازی کا ذریعہ بنتی سکتی ہے۔چونکہ انسان ایک طرف سے اپنے تجربے اور براہ راست مشاہدے کے زیر اثر ہوتا ہے اور دوسری طرف سے شیطان اسے وسوسوں میں بھی مبتلا کرنے کی کوشش کرتا ہے اس لیے ممکنہ طور پر وہ اصطلاحات کے فہم میں فکری خطا کا شکار ہو سکتا ہے۔اسی فکری خطا کی وجہ سے وہ بات کو اس کے اصل سیاق و سباق میں سمجھنے سے قاصر ہو سکتا ہے۔
انسانوں میں محتاجی کا معروف تصور یہ ہے کہ محتاجی عزت نفس کو مجروح کرتی ہے،لوگوں میں بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو انسان کے محتاجی کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔لھذا محتاج اور فقیر ہونا بہت بڑی مصیبت اور ذلالت ہے۔قرآن حکیم نے محتاجی کے حوالے سے انسان کے ان نفسیاتی کیفیات کو مد نظر رکھتے ہوۓ "فقر” کے مفہوم کے سمجھنے میں اسے فکری خطا سے بچانے کے لیے "الفقراء” کے بعد متصلا یہ فرمایا کہ تم فقیر ہو مگر تمہاری یہ فقیری تذلیل نہیں ہے بلکہ عین عزت داری ہے جو جتنا اس فقیری کا اظہار کرے گا وہ اتنا ہی معزز و مکرم بنے گا:
” اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ”(الحجرات)
ترجمہ:”خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔”
اس کی بندگی میں عزت اس وجہ سے ہے کیونکہ وہ سبحان ہے،بے نیاز ہے، وہ ان تمام عیوب،ضروریات اور زیادتیوں سے پاک و منزہ ہے جن کی بنیاد پر محتاجوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔ اس کے در کے فقیر بن کے تم بالکل مطمئن رہو کیونکہ یہ فقیری تمہاری عزت اور بلندی ہے۔تمہیں کبھی یہ وسوسہ بھی نہ رہے کہ تمہیں جس کی فقیری اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اسے تم سے کچھ چائیے،نہیں، بلکہ وہ کلی طور پر بے نیاز ہے،وہ اپنی بے نیازی کے اس صفت میں یکتا ہے اور احد ہے۔تم جس در کے فقیر ہو وہاں تمہارے ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نہ ختم ہونے والے خزانے ہیں۔وہ ان ان گنت خزانوں کا مالک صرف مالک ہی نہیں بلکہ داتا بھی ہے،صرف داتا نہیں بلکہ فضل،کرم اور رحم والا بھی ہے جو تمہیں تمہارے اوقات سے بھی زیادہ عطا کرنے والا ہے،صرف عطا کرنے والا نہیں بلکہ اپنے ظرف کے وسعتوں میں بھی یکتا ہے تمہیں عطا کر کے وہ اپنی ہی عطا کو تمہارا کمال کہنے والا ہے۔
اس بات کا تمہیں کوئی اندیشہ نہ رہے کہ تمہاری یہ فقیری زمین پر تمہارے لیے کسی استحصال کا باعث بنی گی،نہیں؛کیونکہ تم جس کے در کے فقیر ہو وہ صاحب اقتدار بھی ہے،ہر چیز پر قادر بھی ہے،عزیز جو اپنا فیصلہ منوانے میں پورا پورا مختار ہے،اس کے مرضی کے بغیر اس پورے کائنات میں ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔اس ذات کے ہوتے ہوۓ کسی کی جرأت بھی نہیں ہو سکتی کہ تمہاری اس فقیری کو تمہاری کمزوری سمجھ کر تمہارا استحصال کر سکے۔ جس طرح تم اس کے محتاج ہو اسی طرح ہر مخلوق اسی ہی کی محتاج ہے۔کائنات کے ظاہر و باطن میں نہ کوئی شے اس کے علم سے باہر ہے اور نہ ہی اس کے اقتدار سے،سب اسی کے محتاج ہیں٪+۔الغرض تمہیں جس کی فقیری اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور جس کے تم واقعی فقیر ہو بھی، اس کی فقیری کا انداز ہی نرالہ اور الگ ہے۔اس کی فقیری اختیار کر کے تمہیں اپنی ذات بادشاہی کا حامل نظر آنے لگے۔فقیری کا یہ نام تمہارے ہاں تو استحصال اور تذلیل کا نام ہوگا مگر اس کے ہاں بادشاہی اور سربلندی کا دوسرا نام فقیری ہے۔
یہ بات پہلے ہو چکی کہ صلاحیت کردار کی بنیاد ہوتی ہے اس لیے اس کردار کا کما حقہ پہچاننا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ صلاحیت کو عملی زندگی میں مناسب کردار کے قالب میں ڈالا جاۓ۔اس حوالے سے قرآن حکیم کے تعلیمات ہمیں کیا بتاتے ہیں اس کا تذکرہ کرتے ضروری ہے۔ہمیں انسان کے استعداد اور صلاحیت کے بارے میں قرآن بتایا کہ وہ محتاجی ہے جبکہ محتاج یعنی ضرورت مند کو اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے یا تو قیمت ادا کرنی پڑتی ہے یا اگر قیمت دینے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو جس کے پاس اس کے ضرورت پورا کرنے کے اسباب ہو اسے اس کی اطاعت کرنی پڑتی ہے،نوکری کرنی پڑتی ہے،بشرط کہ اس کے پاس اسباب کے مالک کے اطاعت کے لیے متعلقہ صلاحیت ہو اور وہ اپنی اس صلاحیت کو عملا اسباب کے مالک کے اطاعت میں استعمال کرنے پر قادر بھی ہو،اس کے سوا روۓ زمین پر اپنی ضرورت پورا کرنے کی کوئی اور صورت نہیں ہے ۔مگر خدا کا معاملہ اپنے محتاجوں کے ساتھ ان کے ضروریات پورا کرنے کے حوالے سے بالکل الگ نوعیت کا ہے،اس میں رحم ہے،کرم ہے،احسان ہے،ظرف ہے،عدل ہے،حلم ہے،عفو ہے،درگزر ہے،کامل علم اور فضل ہے۔خدا انسان سے وہی مطالبہ کرتا ہے جو اس کے پاس موجود صلاحیت کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہو۔اس میں اگر کسی مطالبے کو پورا کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو خدا اس سے ہرگز بھی وہ مطالبہ نہیں کرتے۔اسی بات کو قرآن حکیم نے یوں بیان فرمایا ہے:”
"لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا”
سورۃ البقرہ (2:286)
"اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔”
اس بات کی مزید وضاحت کہ خدا اپنے بندوں کو اس کے صلاحیتوں سے زیادہ مکلف نہیں بناتے، ہمیں اس مطالبہ میں ملتی ہے جو خدا نے انسان سے کیا ہے”
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
(سورۃ الذاریات 51:56)
ترجمہ:
"اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔”
عبادت کا عمومی مفہوم اطاعت ہے یعنی خدا نے انسان سے اطاعت کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ اطاعت محتاجوں کا شیوہ ہے۔اس کی شدت اور وسعت اس وقت پوری زندگی کا احاطہ کر لیتی ہے جب انسان کے پاس محتاجی کے علاوہ کچھ بھی نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ انسان سے اگر اس کے زندگی میں کوئی مطالبہ کیا گیا ہے تو وہ یہی عبادت، اطاعت اور ،محتاجی کا اظہار ہے۔
انسان سے خدا کا اپنی اطاعت کا مطالبہ بالکل اسی کے فقر کے صلاحیت کے عین مطابق ہے۔ چونکہ انسان اپنی پوری زندگی میں محتاج ہے اس لیے عقل کا بھی یہی تقاضا ہے کہ اسے اپنی پوری زندگی میں اسی صلاحیت کا اظہار (اطاعت ،عبادت) کرتے رہنا چائیے۔ضمنی طور اس سے ان لوگوں کی بھی تردید ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ اطاعت جزوی شے ہے اور محض انفرادی معاملہ ہے۔یہ بات معمولی جہالت نہیں بلکہ جہالت مرکبہ ہے کیونکہ ان لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ہم جو بات کرتے ہیں اس کے لیے تو سرے سے اسلام میں گنجائش ہی نہیں ہے۔یہ سیکولر،لبرل اور کیمونسٹ حضرات اگر صرف عبادت کے بنیاد یعنی انسانی فقر کے لفظ کو بھی دیکھتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ "الفقراء” کا مطلب جزوی فقیری نہیں ،جزوی محتاجی نہیں بلکہ "ال” کے داخل ہونے سے اس میں کلی فقر اور محتاجی کا معنی پایا جاتا ہے یعنی انسان اپنے وجود میں ،خوراک میں ،انفرادی و اجتماعی زندگی کے لیے ہدایات و راہنمائی میں،الغرض ہر شے میں محتاج ہے۔
اور یہ محتاجی جس شے کا محرک ہے یعنی بندگی،اطاعت اور عبادت تو بدیہی طور پر اسے بھی جزوی نہیں ہونا چائیے بلکہ جس طرح اس کا محرک کلی ہے اسی طرح اس کا اظہار (عبادت،بندگی) بھی کلی ہونا چائیے۔وہ لوگ بہت ظلم کرتے ہیں کہ علمی لحاظ سے تو انہیں "الفقراء” کا مفہوم ہی معلوم نہیں ،اطاعت اور عبادت کے بنیاد کا بھی پتہ نہیں مگر پھر بھی عبادت اور اطاعت کو اجتماعی معاملات سے خارج کر کے اسے انفرادی معاملہ قرار دیتے ہیں۔انہیں خدا کے عبادت اور اطاعت کے محرک کا کوئی علم نہیں ہوتا اس لیے وہ عبادت اور اطاعت کے مفہوم کو وسیع تناظر میں سمجھنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں۔بہرحال یہ تو عبادت کے کلی اور جزوی تصور کے بارے میں ایک ضمنی بات تھی جس سے اشاراتا ذکر کرنا یہاں ضروری محسوس کیا گیا۔
بات انسان سے خدا کے اس مطالبے کی ہو رہی تھی جو اس نے انسان سے اس کے عین صلاحیت کے مطابق کیا ہے۔یہ مطالبہ قرآن جس ذات کی طرف سے انسان کے سامنے رکھتا ہے وہ بے نیاز ہے اور حمید ہے اس لیے اگر انسان اس کے اس مطالبے کو پورا کرنے سے عملا کبھی عاجز آتا ہے تو وہ اس سے اپنی عطا کو روکتا نہیں بلکہ اسے یہی کہتا ہے کہ محض دل میں میرے اس مطالبے کو محفوظ رکھو، یہی کافی ہے۔انسان کے ساتھ اطاعت پر عدم قدرت کے وقت خدا کی لطف و کرم، اور عفو و درگزر کا یہ معاملہ دراصل خدا کے ان صفات کاملہ کا اظہار ہے جو ہمیں قرآن مجید کریم،رحیم،غفار،علیم بذات الصدور جیسے اسماء الحسنی کے ذریعے سمجھاتی ہے اور مزکورہ بالا صورت حال میں ان صفات کا انسان کو عملی مشاہدہ کرایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے رب کے ان صفات کو کما حقہ سمجھ سکے اور اس کے نتیجے میں اطاعت کو اسی کے لیے خالص کرے اور اس کی اطاعت و بندگی کو ہر قسم کی آمیزش سے پاک رکھے۔
خدا کا اپنے بندوں کے ساتھ اطاعت سے عملا عاجز آنے کی صورت میں عفو و درگزر کا معاملہ ہمارے دل و دماغ میں اس حقیقیت کے پیوست کرنے کے لیے کافی ہے کہ بلا چوں و چراں اطاعت کے لائق صرف وہ ذات ہو سکتی ہے جسے ظاہری اعمال کے دلی محرکات کا کامل علم حاصل ہو،جو یہ کامل طور پر جانتا ہو کہ فلاں بندہ جو عملا میرے مطالبے کو پورا نہیں کر پا رہا اس کی وجہ بغاوت ہے یا اضطرار اور ناگزیر مجبوری ہے۔حقیقی الہ وہ ہو سکتا ہے جو انسان کے ہر رویے کے پشت پر اس کے دلی محرکات سے پوری پوری واقفیت رکھتا ہو۔وہ یہ جانتا ہو کہ انسان کا اختیار کردہ یہ رویہ بغاوت کے زمرے میں آتا ہے یا مجبوری و اضطرار ہے۔اسے نہ صرف بغاوت اور اضطرار کے تمام تر لوازمات میں فرق کرنے کا علم ہو بلکہ وہ ان لوازمات کا خود خالق بھی ہو۔علم کی اسی کاملیت کی بنا پر وہ اضطرار کے وقت اپنے بندوں کو رخصت دیتے ہیں اور عدم اطاعت کی صورت میں بغاوت کے محرکات سے بھی بھر پور واقفیت رکھتے ہیں۔
قرآن مجید نے فقر کے عملی اظہار یعنی اطاعت اور بندگی پر عدم قدرت کی صورت میں، اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت اور غفاری کا ذکر یوں فرمایا ہے۔
فَمَنِ اضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَيۡهِؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ
ترجمہ:”پھر جو کوئی بےاختیار ہوجائے نہ تو نافرمانی کرے اور نہ زیادتی تو اس پر کچھ گناہ نہیں بیشک اللہ ہے بڑا بخشنے والا نہایت مہربان۔”
(سورہ بقرہ آیت#173)
اس سے یہ بات خود بخود مترشح ہوتی ہے کہ عقل جس شے، یعنی صلاحیت کو، فلاح کے لیے کسی بھی شعبے میں بنیادی لازمہ کی حیثیت سے پیش کرتی ہے، قرآن حکیم بھی اسی صلاحیت کو انسان کے سامنے فلاح کی بنیاد کے طور پر پیش کرتی ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ انسانی عقل نے فلاح کے لیے مطلوبہ درکار صلاحیت کو محض خام مال کے طور پر جانا تھا، جبکہ قرآن نے اسے اس کے تمام متعلقات اور لوازمات کے ساتھ اس قدر کاملیت کے ساتھ بیان کیا کہ اس کے علاوہ اسے بیان کرنے اور سمجھانے کا کوئی اور طریقہ ممکن ہی نہیں ہو سکتا۔
یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن حکیم ہمارے سامنے کھولتی ہے کہ تمہارے سامنے میں جس شے کو بھی پیش کرتا ہوں وہ تمہارے لیے اجنبی نہیں ہے بلکہ میرے تعلیمات آپ کے فطرت ہی کا حصہ ہیں:
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (سورہ الروم 30:30)
ترجمہ:
"پس یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف کرلو جو بالکل سیدھا ہے۔ یہی فطرتِ الٰہی ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ یہی سیدھا دین ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔”
فطرت جبلت،استعداد،صلاحیت اور شعور کو کہا جاتا ہے،فطرت کا مطلب ہے کہ خدا کی معرفت کا استعداد اور صلاحیت انسان کے شعور میں موجود ہے۔فطرت انسانی(شعور،خلقت،صلاحیت،عقل سلیم)
اور دین ایک ہی صانع کی تخلیق ہے اس لیے ان دونوں میں ہم آہنگی ہے،یہ ایک دوسرے کی موافقت کرتے ہیں مخالفت نہیں بشرط کہ عقل،عقل سلیم رہے، اس پر جہالتوں کے غلافوں کو نہ چڑھایا جاۓ۔
عقل اور قرآن کے مابین یہی ہم آہنگی ہمیں فلاح کے حوالے ان دونوں کے یکساں مؤقف میں نظر آتی ہے۔اس ضمن میں دونوں کا مشترکہ موقف یہی ہے کہ فلاح کا حصول تب ممکن ہے جب عملی رویوں(کردار) اور صلاحیتوں میں مناسبت ہو۔اس حوالے سے قرآن حکیم اور عقل کا مشترکہ مؤقف ہمیں فلاح کے لیے درکار محض اثباتی پہلو سے آگاہ نہیں کرتے بلکہ اس خاص معاملے کا سلبی پہلو بھی ہمارے سامنے اس طرح رکھتے ہیں کہ صلاحیت اور عملی رویوں میں ربط اور ہم آہنگی جس طرح فلاح و کامرانی کی بنیاد ہیں اسی طرح ان میں عدم ربط بدنامی،ناکامی اور رسوائی کا باعث بھی ہے۔
قرآن حکیم اس حوالے سے ہمیں یہ راہنمائی بھی فراہم کرتی ہے کہ جس طرح تمہارے خدا نے تمہیں ایک ہی وصف یعنی”فقر” سے متصف فرمایا ہے اور تمہاری اسی وصف کو تمہارا واحد سرمایہ حیات بنایا ہے۔اسی طرح تمہارے اس وصف منفردہ کا بدیہی تقاضا بھی یہی بنتا ہے کہ تمہیں جس کے سامنے اس کا اظہار کرنا چائیے اسے بھی منفرد اور یکتا ہی ہونا چائیے۔صرف وہی ہستی اس لائق ہے کہ تم اسی کے سامنے اپنی محتاجی اور فقر کا اظہار اطاعت کی شکل میں کرتے رہو،اس کے علاوہ کسی اور کے سامنے اپنی اس فقیری و محتاجی کا اظہار نہ کرو کیونکہ اس کے سوا جو بھی ہیں وہ مخلوق ہی ہیں وہ بھی تمہاری ہی طرح فقیر و محتاج ہیں جبکہ محتاجوں اور فقیروں کے سامنے عجز و فقیری کا اظہار شرمندگی اور رسوائی ہے۔جس طرح تمہارے پاس اپنی فطرت ( محتاجی) کی بنا پر کسی کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہے اسی طرح خالق کائنات کے ماسوا کے پاس تمہیں دینے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے۔لھذا خالق حقیقی کو چھوڑ کر تمہارے لیے کسی اور کی اطاعت کرنا لغو،فضول اور بے بنیاد بات ہے اگر ایسا کروں گے تو تمہاری پوری زندگی لغو اوع فضول بنی گی۔اسی حقیقت کو قرآن حکیم نے ہمارے سامنے مختلف طریقوں سے پیش فرمایا ہے:
اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَؕ(سورہ ھود ایت 26)
ترجمہ:”کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔”
اس تفصیل سے ثابت ہوتا ہے کہ فرقان حمید نے انسان کو اس کی صلاحیت سے بھی کماحقہ خبردار فرمایا ہے اور ساتھ ساتھ اس کے سامنے اس کردار کو بھی پورے تفصیل سے بیان فرمایا ہے جو اس کے صلاحیت کے سے مکمل مطابقت رکھتا ہو۔اس غرض کے لیے قرآن حکیم نے اپنی تفہیم میں اس بات کا پورا پورا خیال رکھا ہے کہ انسان اپنی صلاحیت اور اس کی بنیاد پر متعلقہ عملی کردار کے سمجھنے میں ہر قسم کے فکری خطا سے محفوظ رہے۔صلاحیت اور عملی کردار کے باہمی ارتباط کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے قرآن حکیم کے منفرد اندازِ تفہیم کو ہی کافی دلیل سمجھا جا سکتا ہے۔
قرآن حکیم کا یہ منفرد انداز تفہیم ہی ہمیں بتاتا ہے کہ فلاح کے حصول کے لیے عقل نے جس شے(صلاحیت اور کردار کے ساتھ اس کا ربط) کو محض خام مال کے طور پر بنیاد مانا تھا اسی شے کو قرآن حکیم نے انسان کے سامنے اس کے متعلقہ تمام لوازمات کے ساتھ ایسے واضح اور متوازن انداز سے پیش کیا کہ قرآن حکیم کے پیش کرنے کا یہ منصوبہ بذات خود ایک معجزہ نظر آتا ہے،معجزہ اس طور پر کہ انسانی عقل کسی شے کے ایسے جامع،مانع اور متوازن وضاحت کر ہی نہیں سکتی۔
ہمارے فقر اور محتاجی کا عملی اظہار خدا کی اطاعت اور بندگی ہے۔ مگر غور کیا جائے تو خدا کی اطاعت دراصل اسلام کا انسان کے سامنے پیش کردہ وہ معقول اور مدلل منصوبۂ عمل ہے جس میں خود انسان کی ہی بھلائی ہے۔ جیسے نشہ، قتل، فساد، بے حیائی وغیرہ سے بچنا خود انسان کے لیے ہی ضروری ہے۔ یہ خدا کا اپنے بندوں پر سراسر رحمت و کرم ہے کہ اس نے انسان کی بھلائی کو اپنی اطاعت کے نام سے منسوب کیا اور اسے انسان کے لیے باعث اجر بنایا۔بالفاظِ دیگر، خدا نے انسان کے لیے اپنی اطاعت کو خود کو فائدہ پہنچانے اور نقصان سے بچانے کا ذریعہ بنایا ہے۔
اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ
ترجمہ:بے شک میرا رب مہربان محبت والا ہے”۔
سورہ ھود ایت 90
………….
iqbalasif2324@gmail.com
AsifIqbal-yu7sj
جاری ہے………..