عبادت میں وسوسے اور معاملات میں غفلت — دین کے جزوی تصور کا نتیجہ

اکثر لوگ علماء سے یہ سوال کرتے ہیں:

"میں وضو بھی کرتا ہوں، دکان بھی بند کرتا ہوں، نماز کا طریقہ سیکھ لیا ہے، کپڑے پاک رکھتا ہوں، وقت پر نماز کے لیے کھڑا ہو جاتا ہوں، اذکار اور سورتیں بھی یاد کر لی ہیں، امام کے پیچھے نیت بھی باندھ لیتا ہوں—یعنی اللہ کے حکم پر عمل کرنے کے لیے جو کچھ میرے بس میں ہے، وہ سب کچھ کرتا ہوں۔لیکن اس کے باوجود مجھے وسوسے آتے ہیں۔ براہِ کرم! ان کا کوئی علاج بتائیں۔”

لیکن کیا ہم نے کبھی اس پہلو پر غور کیا ہے کہ کسی نے کبھی کسی عالم سے یہ سوال نہیں کیا:
"فلاں شخص کے ساتھ میری زمین کا تنازع تھا۔ میں نے جا کر سرکاری ریکارڈ سے تصدیق کی، گاؤں کے بزرگوں سے مشورہ کیا، اور شریعت کے احکام سیکھ کر معاملے کو ان کے مطابق جانچا۔ ان تمام مراحل کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ زمین دراصل میری نہیں، بلکہ اس شخص کی ہے جس کے ساتھ میرا تنازع تھا۔

جب مجھے یہ معلوم ہو گیا کہ اللہ کا حکم یہی ہے، تو میں نے اس پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ سب کے سامنے اعلان کیا کہ یہ زمین میری نہیں ہے، اور میں اسے اصل مالک کو واپس کرتا ہوں۔
اس کے بعد میں اس شخص کے پاس گیا اور خوش دلی سے زمین اس کے حوالے کر دی۔ جو سامان میرا وہاں تھا، وہ بھی اٹھا لایا۔
یعنی اللہ کے حکم کے مطابق جو تقاضا تھا، اور جو کچھ میرے بس میں تھا، وہ میں نے پوری احتیاط کے ساتھ انجام دے دیا۔

لیکن اس سب کے باوجود شیطان میرے دل میں وسوسے ڈالتا رہا کہ "یہ زمین تمہارے ہاتھ سے نکل گئی”، "پیداوار میں کمی ہو جائے گی”، "ضروریات پوری نہیں ہوں گی”۔
یہ وسوسے مجھے مسلسل تنگ کرتے رہے۔
سوال یہ ہے کہ میں اللہ کے حکم پر عمل کرنے کے باوجود مطمئن کیوں نہیں؟ براہِ کرم، ان وسوسوں کا کوئی روحانی علاج بتائیے۔

"کیا کبھی کسی نے کسی عالم سے یہ سوال کیا ہے کہ:میں اپنی کمائی کے دوران پوری احتیاط برتتا ہوں کہ کہیں حرام میں مبتلا نہ ہو جاؤں، کسی کا مال ناجائز طریقے سے حاصل نہ کر لوں۔ لیکن اس کے باوجود میرے دل میں یہ وسوسے آتے ہیں کہ کہیں جس مال کو میں نے حرام سے بچتے ہوئے کمایا ہے، اس میں کوئی ناجائز چیز تو شامل نہیں؟

غور کیجیے! ایک جانب ہم اللہ کے ایک حکم کو پوری احتیاط کے ساتھ ادا کرتے ہیں، لیکن شیطانی وساوس کی وجہ سے پھر بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہم اس کا حق ادا نہ کر سکے(اور یہ احساس ہونا بھی چائیے) جبکہ دوسری جانب ایک اور حکمِ خداوندی کے معاملے میں ہماری بےحسی اور غفلت کا یہ عالم ہے کہ اس کی کھلی نافرمانی کے باوجود بھی ہمیں کوئی احساس تک نہیں ہوتا!

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نماز کو تو کسی حد تک اللہ کا حکم سمجھتے ہیں، لیکن معاملات، معیشت اور لین دین کو دین سے جدا تصور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان معاملات میں ہمارے اندر وہ حساسیت پیدا نہیں ہو پاتی جو عبادات کے حوالے سے پائی جاتی ہے۔

علماء سے گزارش ہے کہ اسلام کے تمام احکام کو قرآن و سنت کی دی گئی اہمیت کے ساتھ بیان کریں۔

اپنی تقریروں اور تحریروں میں عوام کو دین کا مکمل، جامع اور متوازن تصور دیں، تاکہ ہمارے کلام یا قلم سے یہ تاثر نہ ملے کہ دین صرف نماز، روزے یا چند مخصوص احکام تک محدود ہے۔

میں پورے یقین اور اعتماد سے کہتا ہوں کہ جس طرح ہم نے نماز اور دیگر عبادات کے حوالے سے لوگوں کو یہ باور کرا دیا ہے کہ یہ اللہ کے واضح احکام ہیں، اور ہمیں ان پر عمل بھی ہوتا نظر آتا ہے.

اسی طرح اگر علماء دین کے دیگر احکام—جیسے عدل، دیانت، لین دین، وراثت، صلح، حقوق العباد وغیرہ—کو بھی قرآن و سنت کی روشنی میں اسی اہمیت کے ساتھ بیان کریں گے، تو لوگ نہ صرف انہیں سمجھیں گے بلکہ ان پر عمل کے اثرات بھی معاشرے میں نمایاں ہوں گے۔

نوٹ: اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بنیادی عبادات جیسے نماز کو نظرانداز کر دیا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہی عبادات بحیثیتِ مسلمان ہماری زندگی کی بنیاد ہیں، اور ان کی اہمیت کو کم سمجھنا سراسر گمراہی ہے۔

یہاں مقصود یہ ہے کہ جس طرح ہم ان عبادات کو اہمیت دیتے ہیں، اُسی طرح اللہ کے دیگر احکام کو بھی اسی درجہ میں اہمیت دیں، تاکہ ہم "آدھا تیتر آدھا بٹیر” جیسے مسلمان بننے کے بجائے قرآن و سنت کی روشنی میں ایک مکمل "مومن” معاشرہ تشکیل دے سکیں۔

آصف اقبال
AsifIqbal-yu7sj
iqbalasif2324@gmail.com

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے