مغربی اقوام کے انسانیت پر احسانات: ایک حقیقت پسندانہ اعتراف

میرا برسوں سے یہ معمول رہا ہے کہ جب روز صبح نماز فجر آدا کرتا ہوں تو اس کے فوراً بعد، بجانب مغرب تو ویسے ہی کھڑا ہوتا ہوں، اپنے پورے انسانی جوش و جذبے سے مغربی اقوام کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں۔ یہ میں اس لیے کر رہا ہوں کہ مغربی اقوام کئی اعتبارات سے انسانیت کے بہت بڑے محسن ہیں۔ انہوں نے تعلیم و تحقیق، سائنس و ٹیکنالوجی، آزادی و خودمختاری، تحفظ و جوابدہی، ترقی و خوشحالی، نظم و ضبط، قومی اور ادارہ جاتی شیرازہ بندی کے تناظر میں نہایت، وقیع، اعلی اور بہترین خدمات انجام دیں ہیں۔ محنت، ہمت اور استقامت میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ وہاں پہ لاتعداد انسانوں نے اپنے دماغ، اپنی زندگیاں، اپنی صلاحیتیں، اپنے اوقات، محنتیں، مشقتیں اور صبح و شام بلکہ پورے پورے زمانے اس مقصد کے لیے کھپائیں ہیں کہ علم میں موجود امکانات اور زمین میں دفن خزانے و وسائل انسانیت کے دسترس میں لے آئیں۔

میں اکثر و بیشتر اپنی محفلوں میں یہ خیال اجاگر کرتا رہتا ہوں کہ ترقی اور خوشحالی کی جس سطح پر آج کا انسان موجود ہے اس کی پشت پر دراصل اقوام مغرب کی محنت اور ہمت کام کر رہی ہے۔ ہم اگر اپنے انداز اور رفتار سے ترقی و خوشحالی کے راستے پر آگے بڑھتے تو بیس پچیس ہزار سال کے بعد موجودہ دور میں پہنچتے اس سے پہلے بالکل نہیں۔ میں یہ بھی صائب رائے رکھتا ہوں کہ ہمیں بعض شعبہ ہائے حیات میں مغربی اقوام کی شاگردی اختیار کرنی چاہیے۔ ہم اپنے وسائل، مسائل، اوقات اور مواقع کے حوالے سے بے انتہا غفلتوں، تکلیف دہ لاپرواہیوں اور ناقابلِ برداشت رویوں کے مرتکب ٹھہریں ہیں۔ ہمیں خود اپنے آپ کا ہوش نہیں، ہمیں اپنی دنیا اور اس کے گرد و پیش کا ادراک نہیں۔ مغربی اقوام کے ساتھ درست اشتراک کار سے ہمارے حال احوال اور کردار و خدمات پر دور رس اثرات اور ثمرات مرتب ہو جائیں گے۔ ہم بے شمار معاملات میں خام حالت کے اندر بری طرح گرفتار ہیں اور ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ زندگی اور اس سے جڑے مسائل حل اور معاملات کو درست کیسے کر دیں۔

بطورِ ایک مسلمان ملت ہمارے اذہان، ہمارے اوقات، ہماری ترجیحات اور رجحانات ثمر بار نہیں۔ ہم دو ارب سے اوپر جانے کے بعد بھی دنیا کے لیے اہم نہیں اور زمین میں 25 سے 30 فیصد حصے کے مالک ہونے کے باوجود ایک معتبر شراکت دار نہیں۔ ہمارے ہاں علم نہیں، سنجیدگی نہیں، کمٹمنٹ نہیں، اتحاد نہیں، اعتماد نہیں، اشتراک نہیں، یک جہتی، مفاہمت نہیں اور یہ کہ ضروری وحدت بھی نہیں۔ ہم دنیا کے لیے صرف اور صرف صارف ہیں باقی کچھ نہیں۔ آپس میں خود لڑنے کو ہم کافی ہیں جبکہ مروانے کے لیے بھی ہر جگہ پیش پیش رہتے ہیں۔ ہم دنیا میں بنانے والے نہیں، ہم دنیا کو راہ دکھانے والے نہیں، ہم مسائل حل کرنے والے نہیں اور ہم دنیا کے امن، خوشحالی اور خیر میں اضافہ کرنے والے بھی نہیں۔ ہم گزشتہ ڈیڑھ سال سے مشرق وسطی کے نمایاں ترین مسئلے پر رو رہے ہیں اور دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے لیکن مسئلہ حل ہو رہا ہے، اور ہمارا رونا ختم ہونے پہ آتا ہے اور نہ ہی دنیا ٹھوس انداز میں ساتھ دے رہی ہے۔

ہمارے ہاں اقوام اور افراد دونوں نے ہر سطح پر ایک دوسرے کا نشانہ لیا ہوا ہے۔ ہمیں اللہ نے انسانیت کے خاطر منتخب کیا ہے کہ ہم حق اور حق کے معیارات سے دنیا کو روشناس کرائیں لیکن ہمارا دامن خدمت، محبت اور محنت سے خالی ہے۔ بے شمار ذہنی اور عملی تضادات میں مبتلا ایسے الجھے ہوئے معاشروں میں بدل گئے ہیں کہ جہاں زبان سے اچھی باتوں کا شور تو ہر طرف برپا ہے لیکن رویوں میں انصاف ہے نہ معاملات میں شفافیت، دلوں میں احساس ہے نہ ذہن میں ادراک، باہمی تعامل میں اخلاق کا مظاہرہ ہے نہ ہی اپنے امور ٹھیک طرح نمٹانے کی صلاحیت۔ ہم پر کب وہ وقت آئے گا کہ جس میں ہم اپنا انسانی اور نظریاتی کردار نبھانے اٹھیں گے؟ ہم کب تک صرف "اچھی” باتوں سے دل بہلائیں گے؟ ہم کب ایمان داری اور دیانت داری میں رول ماڈل بنیں گے ؟ اور ہم کب دنیا کے باوقار قوموں میں شامل ہونے کا کمال دکھائیں گے؟ ہمیں اپنے اس نقطہ نظر میں اب کچھ تبدیلی لانی چاہیے کہ جس میں ہم مغربی اقوام کو صرف ظالم اور بے حیا قرار دے کر ان کی خوبیوں اور اقدار سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ ہمیں مان لینا چاہیے کہ صفحہ ہستی میں مغربی اقوام کا، خدا کے نزدیک ایک واضح کردار ہے۔ تخلیقات عالم میں اگر ایک ذرہ تک عبث نہیں تو یقین کریں دنیا کا بہت بڑا اور اہم حصہ قطعی بے مقصد نہیں۔

مغربی اقوام نے گزشتہ چار پانچ صدیوں میں انسانی تاریخ کے دھارے کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ جدید دنیا کی بیشتر ترقیاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خواہ وہ سائنسی ایجادات ہوں، جمہوری اقدار ہوں، یا پھر معاشی و سماجی اداروں کی تشکیل نو یہ سب دراصل تاریخ کے موجودہ حصے میں مغربی اقوام کی مرہونِ منت ہیں۔ ان اقوام نے علم، ترقی اور خوشحالی صرف اپنی حد تک ہی محدود نہیں رکھی، بلکہ انہوں نے اپنی صلاحیتوں، وسائل اور محنت کے ذریعے پوری انسانیت کو ایک نئے دور میں داخل کیا، جہاں علم، انصاف، اور آزادی کی بنیاد پر معاشروں کی شیرازہ بندی کر دی گئی ہے۔ ہم مغربی اقوام کے انہی احسانات کا جائزہ لیں گے کہ جو تعلیم و تحقیق، سائنس و ٹیکنالوجی، نظم و ضبط، اور معاشی و ادارہ جاتی ارتقاء کی صورت میں پوری دنیا کے سامنے نمایاں ہے۔

1. جدید تعلیم و تحقیق اور جامعات کا فروغ

مغرب نے جدید تعلیمی اور تحقیقی نظام کی بنیاد رکھی، جس نے علم کو صرف مخصوص طبقات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عوامی اور بین الاقوامی سطح پر عام کیا۔ یورپ میں قرونِ وسطیٰ کے بعد جامعات (جیسا کہ بولونیا، آکسفورڈ، پیرس وغیرہ) نے علم کے فروغ میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ بعد ازاں، صنعتی انقلاب اور روشن خیالی (Enlightenment) کے دور میں تعلیم و تحقیق کے عمل کو جدید سائنسی اصولوں پر استوار کیا گیا۔ آج دنیا کی سب سے معتبر یونیورسٹیاں (جیسا کہ ہارورڈ، ایم آئی ٹی، کیمبرج وغیرہ) مغربی ممالک میں موجود ہیں، جو کہ نہ صرف عالمی سطح کے تعلیم و تحقیق کے مراکز ہیں بلکہ پوری دنیا میں علم کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔

2. سائنسی انقلاب اور ایجادات

مغربی اقوام کی سب سے بڑی دین سائنسی انقلاب ہے، جس نے انسانیت کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لا کھڑا کیا۔ گلیلیو، نیوٹن، آئن سٹائن، میڈم کیوری، اور اسٹیفن ہاکنگ جیسے سائنسدانوں نے فزکس، کیمسٹری، حیاتیات اور طب کے میدان میں انقلابی دریافتیں کیں۔ آج کائنات کے دامن میں موجود قوتیں اور وسائل انسانوں کے کام آنا شروع ہو گئے ہیں۔ تحیر خیز انکشافات اور ایجادات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ انسانوں کے سامنے دراز ہے۔ جتنا کچھ انسان تصور کر سکتا ہے وہ سب کچھ اس کے سامنے ہاتھ اٹھائے با ادب کھڑے ہیں۔ طب کے شعبے میں ویکسین (ایڈورڈ جینر)، اینٹی بایوٹکس (الیکزنڈر فلیمنگ)، اور جدید سرجری نے لاکھوں زندگیاں بچائیں ہیں۔ اس طرح ٹیکنالوجی کے میدان میں بجلی (تھامس ایڈیسن)، کمپیوٹر (ایلن ٹورنگ)، اور انٹرنیٹ (ٹم برنرز لی) نے دنیا کو ایک گلوبل ویلیج بنا دیا، اس طرح خلائی تحقیق (ناسا، اسپیس ایکس) نے انسان کو چاند تک پہنچایا اور کائنات کے رازوں کو سمجھنے میں مدد دی۔ یہ تمام تر ترقیاں مغربی سائنسدانوں کی انتھک محنت اور تجرباتی سائنس پر ان کے یقین کا ایک ٹھوس نتیجہ ہیں۔

3. جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی

مغرب نے دنیا کو جمہوریت، انسانی حقوق، اور قانون کی بالادستی جیسے تصورات دیے۔ میگنا کارٹا (1215) سے لے کر امریکی انقلاب (1776) اور فرانسیسی انقلاب (1789) تک، مغربی مفکرین (جون لاک، مونٹیسکیو، روسو) نے یہ نظریہ دیا کہ حکومت عوام کی خادم ہونی چاہیے، نہ کہ آقا۔ اس طرح انسانی حقوق کا عالمی منشور (1948) اقوامِ متحدہ کے تحت تشکیل دیا گیا، جو کہ آج بھی پوری دنیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے ایک پیمانے کے طور پر تسلیم شدہ ہے۔ اس طرح خواتین کے حقوق اور غلامی کے خاتمے کی تحریکیں بھی مغرب میں ہی شروع ہوئیں، جنہوں نے آگے چل کر دنیا بھر میں انسانی مساوات کی تحریکوں کو جنم دیا۔

4. معاشی ترقی اور سرمایہ دارانہ نظام کا اجراء

مغربی معاشی نظام (سرمایہ داری) نے دنیا کو صنعتی ترقی، عالمی تجارت، اور معاشی استحکام دیا۔ جدید بینکنگ، اسٹاک مارکیٹ، اور کارپوریٹ اداروں کی تشکیل و تعمیر نے دنیا بھر کی معیشتوں کو بے انتہا استحکام بخشا۔ آدم سمتھ جیسے معیشت دانوں نے آزاد منڈی کے اصول متعارف کرائے، جس نے غربت کو کم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔

5. نظم و ضبط اور ادارہ جاتی نظام کا آغاز

مغرب نے پولیس، عدالتی نظام، بیوروکریسی، اور فلاحی اداروں کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ یہاں تک کہ جدید میڈیکل ایمرجنسی سروسز، فائر بریگیڈ، اور پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بھی مغربی ممالک کی دین ہے۔ اداروں کی مضبوطی ہی وہ بنیاد ہے جس پر آج کا ترقی یافتہ معاشرہ پوری طرح آن و شان کے ساتھ کھڑا ہے۔

6. ثقافتی و فنی ترقی

مغرب نے ادب، موسیقی، آرٹ، اور سنیما کے ذریعے بھی انسانیت کو خوب مالا مال کیا۔ شیکسپیئر، موزارٹ، ونگوگ، اور اسٹیون اسپیلبرگ جیسے فنکاروں نے ثقافتی ورثے کو ایسی بلندیوں تک پہنچایا جو آج بھی پوری دنیا کو متاثر کر رہا ہے۔ ادب میں فطرت نمایاں ہے، ڈرامے میں معاشرہ گویا ہے، موسیقی میں جذبات و احساسات رقصاں ہیں، فلم میں تاریخ خود کو دہرا رہی ہے اور تصویروں میں مختلف ادوار اور سماج انگڑائی لے رہے ہیں۔ اس جہت میں بھی مغرب نے انسانیت کے ذہنی افق کو کافی وسعت بخشی ہے۔

مغربی اقوام کے احسانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اقوام علم، سائنس، جمہوریت، اور انسانی حقوق کے علمبردار رہی ہیں۔ البتہ، ہر تہذیب کی طرح اس میں بھی خامیاں موجود ہیں، لیکن اس کے مثبت پہلوؤں سے استفادہ کرنا ہی عقلمندی کا تقاضا ہے۔ آج کی ترقی یافتہ دنیا میں ہم جو بھی سہولیات اور حقوق استعمال کر رہے ہیں، ان میں سے اکثر و بیشتر کا سہرا مغربی اقوام کے سر جاتا ہے۔ لہٰذا، ان کے کارناموں کو سراہنا اور ان سے سیکھنا ہی انسانیت کے بہترین مفاد میں ہے اور ایسا کرنا اس کے صحت مند مزاج اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ تمام دوسری اقوام اور افراد کی طرح مغربی اقوام میں بھی کافی علتیں پائی جاتی ہیں اور مجھے تھوڑا بہت ان کے حوالے سے بھی ادراک ہے۔ ان شاءاللہ ایک نشست میں ان پر قلم کو حرکت دے دیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے