عبادت: ایک فطری و عقلی تجزیہ

جب ہم کسی سے اپنی بات ماننے کا مطالبہ کرتے ہیں، تو وہ مطالبہ ہماری کسی نہ کسی ضرورت کے تحت ہوتا ہے۔ مثلاً میں اپنے ادارے کے چلانے کے لیے حساب کتاب کی غرض سے کسی بندے کو تنخواہ پر رکھتا ہوں اور اسے ابتداءً یہ کہتا ہوں کہ میں آپ کو رکھ رہا ہوں، مگر شرط یہ ہے کہ آپ میری بات مانیں گے اور میری اطاعت و فرمانبرداری میں قصداً کوئی کوتاہی نہیں کریں گے۔ دیکھا جائے تو یہاں جو اطاعت کا مطالبہ ہو رہا ہے، اس کے پیچھے ایک ضرورت کارفرما ہے۔ اسی مثال پر انسان کے دیگر اطاعت کے مطالبات کو بھی قیاس کیا جا سکتا ہے۔

مگر جب ہم سوچتے ہیں کہ اطاعت، بات ماننے، عبادت کا مطالبہ تو خدا نے بھی ہم سے کیا ہے، اور خدا کو تو کسی شے کی حاجت ہی نہیں — وہ تو سبحان ہے، ہر ضرورت اور کمزوری سے پاک — تو پھر اس کے مطالبے کا مفہوم کیا ہو سکتا ہے؟ انسان کے مطالبے کا محرک تو ضرورت تھی، خدا کے مطالبے کا مطلب کیا ہے؟

خدا کی اطاعت (بندگی، عبادت) کے مطالبے کو جب قرآن و سنت کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ انسان نے دنیا میں رہتے ہوئے، دنیا ہی کے کاموں کو کرتے ہوئے، اس راستے کا انتخاب کرنا ہے جو خدا اور اس کے رسول نے ان کاموں کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ جیسے مال کمانے کے مختلف طریقے ہیں، مگر ان تمام طریقوں میں سے ایک ہی طریقہ خدا نے اختیار کرنے کا ہم سے مطالبہ کیا ہے۔ اور وہ طریقہ یہی ہے کہ حلال راستے سے کمائی کرو۔

خدا کا بتایا ہوا یہ راستہ محض ایک راستہ نہیں بلکہ یہی ایک راستہ المستقیم ہے۔ باقی تمام راستے ٹیڑھے اور غلط ہیں کیونکہ ان میں مال کی کمائی کے ساتھ ساتھ زمین پر فساد بھی رونما ہوتا ہے۔

دراصل انسان جب اس دنیا میں آیا تو خدا نے اس کے ساتھ ضروریات — جیسے خوراک، پانی، اور گھر وغیرہ — کو وابستہ کیا، تو ان ضروریات کے پورا کرنے کے لیے اپنی ہی دنیا میں اسباب و وسائل کو بھی پیدا فرمایا۔ اب انسان، دنیا میں موجود ان وسائل کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کیسے حاصل کرے؟ تو اس ضمن میں انسان جب اپنے پاس موجود کمائی کے طریقوں کو اپنانے کے لیے اپنی شخصیت کے اندر جن اوزاروں کو محسوس کرتا ہے — اور جو واقعتاً موجود بھی ہیں — وہ بنیادی طور پر دو ہی ہیں: جذبات اور دماغ۔

انسان جب خود اپنے لیے کمائی کا راستہ اختیار کرے گا، تو وہ یا تو جذبات کے تحت ہوگا یا عقل کی بنیاد پر۔ مگر ان دونوں — یعنی جذبات اور عقل — کی حقیقتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ علی الاطلاق کمائی کے راستے کے تعین کے لیے یہ دونوں کافی نہیں ہیں، کیونکہ یہ دونوں ماحول سے اثر لیتے ہیں، اور اثر کی بنیاد پر ہی انتخاب کرتے ہیں۔ جبکہ ماحول کے اثرات منفی اور مثبت دونوں ہو سکتے ہیں۔

بالفرض اگر انسان ماحول کے منفی اثرات سے متاثر ہو کر کمائی کا راستہ اختیار کرتا ہے، تو وہ راستہ بھی منفی ہوگا، اور منفی راستوں سے کمائی کرنا انسانوں کے مابین نفرت، حسد، اور انجام کار جنگوں کو جنم دیتا ہے، یعنی اس سے زمین پر فساد پھیلتا ہے۔

مثلاً ایک شخص کسی اور کے بچوں کو دیکھتا ہے کہ وہ گاڑیوں میں گھومتے ہیں اور میرے بچے کرایے کی بسوں میں ذلیل ہوتے ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ میرے پاس اتنا مال نہیں کہ ان کی یہ ضرورت پوری کر سکوں، تو وہ دل میں سوچتا ہے کہ کون سا طریقہ اختیار کروں؟ سوچتے سوچتے اسے ایک مالدار شخص کا خیال آتا ہے کہ وہ رات کو گھر پر نہیں ہوتا۔ وہ سوچتا ہے کہ اس کے گھر سے چوری کرتا ہوں، تاکہ اپنے بچوں کے لیے گاڑی خرید لوں۔ پھر جا کر چوری کرتا ہے۔

اس طریقے میں بچوں سے محبت کے جذبات اور عقل دونوں کارفرما ہیں۔ مگر اگر غور کیا جائے تو یہ کام متعلقہ بندے کے قتل کا سبب بھی بن سکتا ہے، کیونکہ اگر مالک آ جائے تو ممکن ہے کہ وہ چور کو یا چور اُسے قتل کر دے۔

اسی طرح، اگر اس فعل میں موقع پر قتل و غارت نہ بھی ہو، تب بھی یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کسی کے مال کو اس سے بغیر حق کے لینا نفرت کا باعث بنتا ہے، اور یہ نفرت افراد سے خاندانوں تک منتقل ہو جاتی ہے، اور نفرتیں انسان کو غصہ دلاتی ہیں، جو لڑائی و جھگڑوں کا محرک بنتی ہیں۔ اور جہاں لڑائیاں ہوں، وہاں فساد ہوتا ہے۔ اور جہاں فساد ہو، وہاں امن نہیں ہوتا۔ اور جہاں امن نہ ہو، وہاں انسان کا رہنا ایک سزا بن جاتا ہے۔

اس فساد کی بنیادی وجہ انسانی جذبات اور عقل بنے، جنہیں بنیاد بنا کر انسان نے کمائی کا طریقہ متعین کیا تھا۔
چونکہ یہ زمین اور انسان دونوں خدا کی تخلیق ہیں، اور خدا یہ نہیں چاہتا کہ اس کی مخلوق فساد میں مبتلا ہو، اس لیے وہ فساد کی جڑ کو یہ کہہ کر کاٹ دیتا ہے کہ
تم کمائی کے لیے وہی راستہ اختیار کرو جو میں نے مقرر کیا ہے، تاکہ تم زمین پر امن سے رہ سکو۔

خدا نے انسان کو یہ بھی بتایا کہ مال کمانے کا جو طریقہ تمہاری ہی بھلائی کے لیے میں تمہیں بتاؤں، اسے اپنانا ہی میری بندگی ہے، اطاعت ہے، عبادت ہے۔

یہاں سے خدا کے بے پناہ رحم کا تصور بھی انسان پر کھلتا ہے کہ خدا نے انسان کو نہ صرف بہترین طریقہ بتایا بلکہ اسے اپنی عبادت و اطاعت بھی قرار دیا، اور اس پر اجر عظیم کا وعدہ بھی فرمایا، کہ اس کے بدلے میں یہ بھی بتایا کہ میں تمہیں جنت عطا کروں گا، اپنی رضا اور لازوال نعمتوں سے نواز دوں گا۔

یہی خدا کے اطاعت، عبادت اور بندگی کے مطالبے کا مفہوم ہے، جو ہمارے اطاعت کے مطالبے کے مفہوم سے بالکل منفرد نوعیت کا ہے، کیونکہ ہمارے مطالبے کے پیچھے ہماری ضرورت ہوتی ہے، اور خدا کے مطالبے کے پیچھے انسان کی اپنی بھلائی ہوتی ہے، نہ کہ خدا کی کوئی ضرورت، کیونکہ وہ تو خود سبحان ہے، شہنشاہ ہے۔
اس سے دو اور دو چار کی طرح یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خدا کی بندگی دنیا کو چھوڑنے اور نظر انداز کرنے کا نام نہیں، بلکہ خدا کی بندگی کا مفہوم یہی بنتا ہے کہ انسان دنیا میں رہتے ہوئے دنیا ہی کے کام کرتا رہے، مگر ان کاموں کے کرنے کے لیے خدا ہی کے طریقوں کی پیروی کرے۔

اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ خدا کی بندگی، دنیاوی کاموں کو خدا کے طریقوں پر کرنے کا نام ہے، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث کافی ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن بندے سے سوال کیا جائے گا کہ مال کیسے کمایا، اور کیسے خرچ کیا۔ غور کریں، یہ نہیں فرمایا کہ مال کیوں کمایا یا کیوں خرچ کیا، حالانکہ مال کمانے اور خرچ کرنے کا تعلق دنیاوی امور سے ہے۔

بلکہ پوچھا گیا طریقے کے بارے میں۔ یعنی دنیا میں رہتے ہوئے دنیا ہی کے کام کرتے رہنا، مگر طریقہ خدا کا اپنانا۔
اسی طرح عقلی طور پر بھی دیکھا جائے تو خدا کی اطاعت کے مطالبے کا یہی مفہوم سمجھ میں آتا ہے۔ غور کریں، ہم جب کسی جگہ جاتے ہیں تو اسی جگہ کے مطابق کام کرتے ہیں۔ مثلاً: کچن جا کر کچن ہی کے کام کرتے ہیں یعنی کھانا، پینا، پکانا، برتن دھونا، صاف کرنا وغیرہ۔ کالج جا کر کالج ہی کے کام کرتے ہیں، یعنی پڑھنا اور پڑھانا۔ واش روم جا کر وہاں والا کام ہی کرتے ہیں، وہاں کھانا تو نہیں کھاتے۔ اسی طرح جب ہم دنیا میں آئے ہیں تو دنیا ہی کے کام کریں گے، کیونکہ یہ دنیا ہے۔ اور ان کاموں کو کرتے ہوئے خدا کے طریقوں کا خیال رکھنا ہے۔ یعنی خدا کی بندگی اور دنیاوی کام الگ الگ چیزوں کے نام نہیں بلکہ یہ دونوں ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔ اگر ان میں سے ایک نہ رہے تو منطقی لحاظ سے ہم بندگی سے قاصر ہو جائیں گے۔

کوئی یہ اشکال کر سکتا ہے کہ نماز، روزہ، ذکر، تلاوت وغیرہ تو ایسے افعال نہیں ہیں جن کے ذریعے ہم اپنی کوئی دنیاوی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ دراصل، ان کی نوعیت دوسری عبادات سے الگ ہے، اس لیے عمومی طور پر یہ تاثر قائم ہوا کہ عبادت اور خدا کی بندگی صرف انہی چند چیزوں کا نام ہے۔ حالانکہ اگرچہ یہ عبادات ہمیں کسی عمارت کی بنیاد کی طرح نظر نہیں آتیں، مگر انہی پر عبادات کی پوری عمارت کھڑی ہے۔

یہ عبادات محضہ ہیں، یعنی انہیں کرتے وقت ہماری دنیاوی کوئی ضرورت — جیسے خوراک، پانی، مکان بنانا وغیرہ — پیش نظر نہیں ہوتی، بلکہ یہ افعال ہم صرف اس واسطے کرتے ہیں کہ ان کے کرنے کا حکم ہمیں خدا نے دیا ہے۔ یہ نفسیاتی طور پر انسان کی تربیت کرتے ہیں، اور پھر فکری و عملی زندگی میں اس تربیت کے اثرات محسوس ہوتے ہیں۔

مثلاً ہم جب نماز پڑھتے ہیں تو اس دوران نہ اپنی کوئی دنیاوی ضرورت پوری کر رہے ہوتے ہیں، نہ اپنی خواہش پر کوئی سرگرمی کر رہے ہوتے ہیں۔ بلکہ اسے ادا کرتے ہوئے جو طریقہ کار اپناتے ہیں، وہ بھی خدا نے اپنے پیغمبر کے ذریعے بتایا ہے۔ جو کام ہم اپنی مرضی سے نہ کرتے ہوں، اور ان کا کرنا ضروری بھی ہو، تو ان میں ہمارے لیے کوئی دل لگی یا تفریح نہیں ہوتی۔ کیونکہ دل لگی اور انٹرٹینمنٹ تو انسان اپنی مرضی سے کرتا ہے۔

یہاں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اصل چیز خدا کی اطاعت ہے — ہماری مرضی ہو یا نہ ہو، ہمارا کوئی کام براہ راست خدا کے حکم سے متعلق ہو یا نہ ہو — مگر جب خدا کسی کام کا حکم دے تو ہم اس کے کرنے کے پابند ہیں۔

اس سے ہمیں جو نفسیاتی تربیت ملتی ہے وہ یہ ہے کہ ہماری ضروریات کو بھی اس وقت عبادت کہا گیا ہے جب ہم انہیں خدا کے طریقے پر پورا کریں۔ مگر یہ خیال نہ ہو کہ ہماری ضروریات ہی زندگی کا اصل مقصد ہیں۔ بلکہ زندگی کا اصل مقصد صرف خدا کی بندگی ہے، ضروریات اصل مقصد نہیں۔

اسی طرح روزے میں ہمیں کہا جاتا ہے کہ تم اپنی بنیادی ضروریات کو کچھ وقت کے لیے مؤخر کر دو خدا کی رضا کی خاطر، تاکہ تمہیں احساس رہے کہ ضروریات اصل نہیں، بلکہ مجبوری ہیں۔ اور جب زندگی سے مجبوری کا پہلو نکال دیا جائے تو اس وقت جو بھی کام خدا ہمیں کرنے کا کہے، اس کا مقصد خالصتاً خدا کی بندگی ہی ہوتا ہے۔ روزوں میں بنیادی ضروریات کو مؤخر کیا جاتا ہے، معطل نہیں، کیونکہ ان کے بغیر زندہ نہیں رہا جا سکتا۔

ان بنیادی عبادات کے فلسفے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں یہ تربیت اور یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ کہیں ہم ضروریاتِ زندگی کو ہی اصل نہ سمجھ بیٹھیں — کہ بس ایک پیٹ ہے اور ایک ہوس۔

ان عبادات کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ایک اور زاویے سے دیکھتے ہیں۔ چونکہ خدا نے ہمیں اپنی بات ماننے کا حکم دیا ہے، جبکہ کسی بات کو ماننے کے لیے دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے: ایک یہ کہ بات سمجھی جائے، اور دوسرا یہ کہ یاد رکھی جائے۔

مثلاً ایک شخص بازار جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھ رہا تھا۔ اس دوران اس کے دوست نے جلدی میں آواز دے کر کہا: “فلاں دوا لیتے آنا۔” چونکہ بات اچانک اور جلدی میں کہی گئی تھی، اس لیے وہ دوا کا نام یا تو صحیح سن نہ سکا، یا پوری طرح سمجھ نہ پایا۔ جب وہ بازار پہنچا تو اسے یاد نہ رہا کہ کیا کہا گیا تھا۔ واپسی پر دوست نے پوچھا تو اس نے کہا: مجھے تو سمجھ ہی نہیں آئی تھی۔

ایک اور موقع پر ایک شخص بازار جا رہا تھا، اس کے دوست نے کہا: “فلاں دوا لیتے آنا۔” اس بار اس نے بات تو صحیح سنی اور سمجھ بھی لی، لیکن بازار جا کر بھول گیا۔
واپسی پر دوست نے پوچھا تو بولا: یاد ہی نہیں رہا۔

دوست نے کہا: گر کوئی پرچی دے دیتے یا نشانی بتا دیتے، تو یاد رہتا۔

یہ دونوں مثالیں واضح کرتی ہیں کہ کسی کی بات پر عمل کرنے کے لیے اسے صحیح طور پر سننا، سمجھنا، اور یاد رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر یہ تینوں چیزیں نہ ہوں تو عمل ممکن نہیں ہوتا۔

اسی طرح ان بنیادی عبادات کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہمیں جس بات کے کرنے کا حکم دیتا ہے، وہ سمجھاتا بھی ہے اور یاد دہانی بھی کراتا ہے تاکہ ہمارے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔ ان عبادات کی روح ہی یہ ہے کہ وہ ہمیں سمجھاتی ہیں اور یاد دلاتی ہیں — اس انداز میں کہ انسان کے پاس انکار کا کوئی جواز باقی نہ رہے۔

مثلاً نماز کو لیجیے — یہ پانچوں وقت فرض ہے، اور اس سے پہلے اذان دی جاتی ہے۔ کیا اس سٹرکچر کے ہوتے ہوئے نماز بھولنا ممکن ہے؟

اسی طرح، ہم نے عرض کیا تھا کہ اطاعت دراصل خدا اور اس کے رسول کی بات ماننا ہے، اور ان کی باتیں قرآن و سنت میں ہیں۔ چونکہ ہمیں انہی پر عمل کرنے کا حکم ہے، اس لیے ہمیں انہیں ہی سمجھنا ہے۔ نماز ان دونوں چیزوں — یعنی قرآن و سنت — کو سمجھانے کا ذریعہ ہے۔ کیونکہ نماز میں ہم یا تو قرآن کی تلاوت کرتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اذکار اور حرکات دہراتے ہیں۔ غالباً اسی لیے فقہاء نے فرمایا کہ نماز میں کوئی دعا ایسی نہ پڑھی جائے جو احادیث میں وارد نہ ہو، کیونکہ نماز کے ذریعے ہمیں خدا کی بندگی سکھائی جاتی ہے، اور بندگی قرآن و سنت سے وابستہ ہے۔

اس سے نماز، زکوٰۃ وغیرہ جیسی بنیادی عبادات کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کی اہمیت اتنی ہے کہ اگر یہ نہ کی جائیں تو عملی زندگی میں خدا کی اطاعت ممکن ہی نہیں، کیونکہ یہ عبادات ہمیں سمجھاتی ہیں اور یاد دلاتی ہیں۔

جب یہ نہ کی جائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بندے کو خدا اور رسول کی بات کی نہ سمجھ ہے، نہ یاد۔ اور جب کسی بات کی نہ سمجھ ہو اور نہ یاد ہو تو اس پر عمل ممکن نہیں ہوتا۔

لہٰذا نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، کمائی، خرچ کرنا، معاملات، معاشرت، معیشت اور اخلاق — یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح مربوط اور جُڑے ہوئے ہیں کہ انہیں جدا نہیں کیا جا سکتا۔ ان میں سے کسی ایک کو بھی جدا کرنا، پوری زندگی کو خدا کی بندگی سے آزاد کر دینے کے مترادف ہے۔

اسی بات کو قرآن مجید میں فرمایا گیا:
"ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً” — "اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔”

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے