"خواب نگر میں سات دن” پر بڑے بڑے لوگوں نے کافی کچھ لکھا ہے اور میں تو ادب کے مبتدی طلبا میں سے ہوں۔ میرے لیے اس پر لکھنا بڑی سعادت ہے۔ ہم اس سفرنامے کو نہ صرف ایک ادبی کتاب کے طور پر دیکھتے ہیں بلکہ یہ ہمارے لیے ایک قیمتی اثاثہ بھی ہے، جس نے ارضِ پاک کے ایک خوبصورت اور تہذیب یافتہ خطے چترال کے بہت سے خدوخال جامع انداز میں محفوظ کیے ہیں۔
یہ سفرنامہ محترم ڈاکٹر سید زبیر شاہ کی تحریر ہے، اور اس پر لکھنا میرے لیے ایک اعزاز ہے۔ مجھے یہ کتاب کئی مرتبہ پڑھنے کا موقع ملا، لیکن اس پر لکھنے کا شوق ہمیشہ دل میں موجود رہا۔ تاہم، چند دن قبل بیماری نے میرے لیے ایک رکاوٹ پیدا کی اور مجھے اسپتال میں داخل ہو کر سرجری کرنی پڑی۔ جب میری سرجری مکمل ہوئی اور میں نے کچھ وقت گزارا، تو مجھے اس پر لکھنے کا موقع ملا، اور آج الحمدللہ میں اس پر لکھنے میں کامیاب ہو چکا ہوں۔
اب اس سفرنامے کی بات کی جائے تو اس کا مرکزی خیال چترال کی حسین وادیوں، وہاں کے لوگوں کی محبت، اخلاق اور ان کی ثقافت کو بیان کرنا ہے۔ ڈاکٹر سید زبیر شاہ نے اس سفرنامے کو ایک منفرد انداز میں پیش کیا ہے، جہاں سنجیدگی اور مزاح کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ اُن کی تحریر نہ صرف سادہ اور دلکش ہے بلکہ اس میں ایک جادوئی کیفیت پائی جاتی ہے جو قاری کو اپنی سحر میں لے لیتی ہے۔ یہ ایسی تحریر ہے جسے پڑھ کر انسان خود کو اس سفر کا حصہ محسوس کرتا ہے۔
چترال کی ثقافت، وہاں کے روایتی مقامات، اور لوگوں کی مہمان نوازی کے بارے میں جو کچھ بھی لکھا گیا ہے، وہ دل کو چھو جانے والا ہے۔ خاص طور پر "سات دن” کی اہمیت اور اس کے فلسفے پر جو روشنی ڈالی گئی ہے، وہ ایک گہرا پیغام فراہم کرتی ہے۔ اس سفرنامے میں "سات” کی عددی اور روحانی اہمیت پر جو بحث کی گئی ہے، وہ بھی ایک الگ ہی جہت کی حامل ہے۔
کتاب کی تحریر میں مصنف نے چترال کے مناظر کو اس طرح بیان کیا ہے کہ قاری ان وادیوں میں کھو جاتا ہے۔ وہ یہ دکھاتے ہیں کہ چترال صرف ایک جغرافیائی اہمیت کی حامل جگہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسا خطہ ہے جہاں کا ہر پتھر، دریا، اور پہاڑ اپنے اندر ایک کہانی رکھتا ہے۔
اس سفرنامے میں چترال کے مختلف حسین مقامات کا ذکر کیا گیا ہے جنہیں مصنف نے اپنے سفر کے دوران دیکھا۔ ان میں سب سے پہلے "اپر دیر” کا ذکر آتا ہے، جو اپنی قدرتی خوبصورتی اور تاریخی اہمیت کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کے بعد "ٹنل پار” اور "جوغور پل” جیسے مقامات ہیں، جہاں کے قدرتی مناظر اور معمار نے مصنف کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ "شندور ویلی” کی بات کی جائے تو وہاں کے بلند و بالا پہاڑ اور دنیا بھر میں مشہور شندور پولو فیسٹیول کی گونج بھی اس سفر کا حصہ ہے۔
"بھونی” کی سرسبز وادی، جہاں مصنف نے مقامی لوگوں سے ملاقات کی اور ان کی ثقافت کا قریب سے مشاہدہ کیا، ایک اور یادگار مقام ہے۔ پھر آتا ہے "کیلاش”، جہاں کی منفرد ثقافت اور زندگی کے رنگ ہر کسی کو مسحور کر لیتے ہیں۔ ان مقامات کے ذریعے ڈاکٹر سید زبیر شاہ نے ہمیں چترال کی حقیقی تصویر دکھائی ہے۔
"خواب نگر میں سات دن” کا یہ سفرنامہ صرف تاریخ یا جغرافیہ کا بیان نہیں، بلکہ اس میں انسانیت، ثقافت، اور روحانیت کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔ ڈاکٹر سید زبیر شاہ نے اس کتاب کے ذریعے چترال کی تہذیب اور وہاں کے لوگوں کے جذبات و احساسات کو بہت خوبصورتی سے منتقل کیا ہے۔
یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے جو چترال کی ثقافت، تاریخ، اور لوگوں کے بارے میں جاننا چاہتا ہے۔ اس کتاب میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو اس کے ہر صفحے سے نیا علم اور نیا تجربہ ملے گا۔
الغرض "خواب نگر میں سات دن” ایک ایسی کتاب ہے جو صرف ایک سفر کی کہانی نہیں بلکہ ایک مکمل سفرنامہ ہے، جس میں انسانیت کے جذبات اور روحانیت کی گہری لہریں چھپی ہوئی ہیں۔ یہ کتاب ہمارے لیے ایک ایسا خزانہ ہے جسے ہم ہمیشہ یاد رکھیں گے۔
اور ہاں، اس سفر میں بہت کچھ سیکھا، خاص طور پر یہ کہ اگر ڈاکٹر صاحب کے ساتھ گاڑی کی اگلی سیٹ پر بیٹھنے کا موقع ملے تو یہ تجربہ بہت ہی دلچسپ ہو سکتا ہے! کئی بار اگلی سیٹ پر بیٹھ کر منظر کا لطف اٹھایا، مگر اگلی بار احتیاط ضرور کرنی ہے کیونکہ جب اُستاد محترم کا موڈ خراب ہو، تو اگلی سیٹ پر بیٹھنے والے کی شامت آنا لازمی ہوتا ہے۔ ایک تو منظر انجوائے کرنا، پھر اُستاد محترم کی ڈانٹ بھی کھانا، یہ ایک الگ تجربہ ہوگا! تو اگلی مرتبہ اگر گاڑی میں اگلی سیٹ پر بیٹھنے کا ارادہ ہو، تو ساتھ ہی "ڈانٹ برداشت کرنے” کی تیاری بھی کرلیں۔