میرا تعلیمی و تدریسی سفر

میرا نام لبنیٰ حقانی ہے اور میں ایک EF ٹیچر ہوں۔ میری تعیناتی 7 اکتوبر کو ہوئی۔ آج میں آپ سب کے ساتھ اپنا تعلیمی و تدریسی سفر کی کہانی بلا کم و کاست شیئر کرنا چاہتی ہوں۔

میرے والدین اکثر فخر سے بتاتے ہیں کہ میں بچپن سے ہی پڑھنے کی شوقین تھی۔ میں ضد کرتی کہ مجھے اسکول بھیجا جائے۔ اسی شوق نے مجھے اپنے بھائی کے ساتھ اسکول پہنچایا۔ میرا تعلیمی سفر کا آغاز سرسید اسکول گلگت سے ہوا، جہاں میں نے دوسری جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ تیسری جماعت میں میرا داخلہ پبلک اسکول اینڈ کالجز، جٹیال گلگت میں کروایا گیا۔ میں نہایت شرمیلی اور خاموش طبع بچی تھی، مگر اندرونی طور پر تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال تھی۔ مجھے ڈرائنگ اور شاعری کا شوق تھا، مگر والد صاحب جو خود ایک معلم اور اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے، تعلیم کے معاملے میں نہایت حساس تھے، اس لیے یہ شوق ادھورے رہ گئے۔

مجھے کمپیوٹر سائنس میں دلچسپی تھی، لیکن والد صاحب نے فرمایا کہ بایولوجی کا زیادہ اسکوپ ہے، اور لڑکیوں کے لیے سب سے باعزت پیشہ تدریس ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ جیسے ہر ڈاکٹر چاہتا ہے کہ اس کی اولاد بھی ڈاکٹر بنے، ویسے ہی وہ بھی چاہتے تھے کہ میں استانی بنوں۔

ہمارے گھر کا ماحول تعلیمی تھا۔ ہم پانچ بہنیں ہیں، جن میں سے چار تدریس سے وابستہ ہیں، اور ایک بہن KIU میں بطور لائبریرین کام کر رہی ہیں۔ میں نے میٹرک پبلک اسکول جٹیال سے، اور ایف اے فاطمہ جناح کالج سے پاس کیا، علمِ نفسیات میرا خصوصی مضمون تھا۔ ابتدا میں یہ مضمون تھوڑا بورنگ محسوس ہوا، لیکن جلد ہی اس میں میری دلچسپی بڑھ گئی۔

میں نے ایجوکیشن کالج میں داخلہ لیا، ادھر چھٹیاں ہوئیں تو گھومنے اسلام آباد گئے اور پھر اسلام آباد ہی منتقل ہونا پڑا، واپسی کے لیے گھر والے نہیں مانے۔ میرا دل بہت اداس ہوا، مگر حوصلے سے کام لیا۔ چونکہ میرے بہن بھائی سب گلگت میں تھے تو اسلام آباد میں میرا دل نہیں لگا اور میں نے اپنے امتحانات گلگت سے ہی دیے اور اپنی تعلیم مکمل کی اور اسی طرح میرا بی اے کا تعلیمی سلسلہ مکمل ہوا۔ پھر والد صاحب کی خواہش پر میں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ میں داخلہ لیا۔

اسی دوران میرے والد کی مرضی سے میری شادی محترم پروفیسر امیر جان حقانی سے طے پائی، جو ایک عالم اور مفتی بھی ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ جب شوہر عالم ہو، تو بیوی کا عالمہ ہونا دینی ہم آہنگی کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس سوچ کے تحت میں نے مدرسے میں داخلہ لیا اور دینی تعلیم کی تکمیل کی سند حاصل کی۔

ستمبر میں میری بہن نے مجھے آغا خان یونیورسٹی میں ایک تدریسی پوسٹ کے بارے میں بتایا۔ میں نے فوراً آن لائن درخواست دی۔ سوچا بہت محنت کروں گی، محنت کا پھل اللہ ہمیشہ دیتا ہے۔ کچھ دن بعد انٹرویو کی ای میل آئی۔ خوشی کی انتہا نہ رہی۔ میں انٹرویو دینے گئی۔ اُن کا نظام، اندازِ تربیت اور تعلیمی ماحول دیکھ کر بے حد متاثر ہوئی۔

میں انٹرویو دے کر آگئی یہ سوچتے ہوئے کہ اللہ جو کرتا ہے بہتری کے لیے کرتا ہے۔
بالآخر اکتوبر میں میرا تعیناتی نامہ آیا۔ جیسے ہی میں نے اپنا نام دیکھا، میری خوشی کی کوئی حد نہ رہی۔ میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اُس نے مجھے اتنے عظیم ادارے کا حصہ بنایا۔

پی ڈی سی این میں ہمیں جو تدریسی تربیت دی گئی، واقعی عالمی معیار کی تھی۔ جدید تدریسی طریقے، طلبہ کی نفسیات کو سمجھنے کا ہنر، اور اساتذہ کے اخلاقی فرائض، یہ سب کچھ ہمیں PDCN کے ذریعے مفت فراہم کیا گیا، جس کی قدر و قیمت کا اندازہ صرف وہی لگا سکتا ہے جو اسے لاکھوں روپے میں بھی حاصل نہ کر سکے۔ ہم نے اس ٹریننگ سے جدید طریقِ تدریس سیکھے اور اپنی کلاس رومز میں سپلائی کیا، اور اس ٹریننگ کا ہمیں اور طالبات کو بھی خوب فائدہ ہو رہا ہے۔

اور آج میں خود کو اس قابل سمجھتی ہوں کہ اپنا تعلیمی و تدریسی نقطۂ نظر دوسروں کے ساتھ شیئر کر سکوں۔

میں ڈاکٹر مولاداد صاحب، PDCN کے تمام عملے، اور ان تمام محترم اساتذہ کی تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے ہمیں اپنے قیمتی وقت سے نوازا، سکھایا، اور ہماری رہنمائی کی۔
اللہ تعالیٰ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے