پرانے دوست، پرانی شراب مگر بغیر ہینگ اوور کے!

کوئی چھ سال پہلے کی بات ہے، جب ہم چند بگڑیل مگر اب سدھر چکے کالج فیلوز کا واٹس ایپ پر ری یونین ہوا۔ پہلے صرف خیریت دریافت ہوئی، پھر قہقہے، پھر ملاقاتیں، اور پھر ایسی تواتر سے میل جول ہونے لگا جیسے ہم پر کوئی دوستانہ عذاب نازل ہو گیا ہو۔

یہ وبا صرف ہم تک محدود نہ رہی۔ محسوس ہوا کہ گزشتہ پانچ دس برس میں بہت سے لوگوں کو اچانک اپنے اسکول اور کالج کے دوست یاد آ گئے ہیں۔ اور پھر فیس بک اور واٹس ایپ جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے پرانی دوستیوں میں نئی جان ڈال دی۔ چلیے، سوشل میڈیا کا کوئی تو مثبت پہلو سامنے آیا ہے!

پرانے دوستوں سے جب ملاقات ہوتی ہے تو چند لمحوں کے لیے ہم بھول جاتے ہیں کہ ہماری عمر کیا ہے، حالات کیسے ہیں، اور گھر میں بچوں کے اسکول کی فیس کے فارم کب بھرنے ہیں۔ جیسے ہی سب جمع ہوتے ہیں، ایک جادوئی سا جھماکا ہمیں اپنے لڑکپن اور جوانی میں لے جاتا ہے۔ وہی ہنسی، وہی شرارتیں، اور وہی باتیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ اب ہنسی کے ساتھ چند دوستوں کی دردیلی سسکیاں، کچھ جوڑوں کی کھڑکھڑاہٹ، اور کہیں کہیں کولیسٹرول کے ابلنے کی آوازیں بھی سنائی دینے لگتی ہیں۔

ایک بار ہم سب یاسمین گارڈن میں بیٹھے تھے کہ کچھ بچے ہمارے پاس آئے اور پوچھنے لگے، "انکل، کیا آپ سب بچپن کے دوست ہیں؟”
ہم نے فخر سے کہا، "ہاں بیٹا، ہم اسکول اور کالج کے ساتھی ہیں۔”
بچے بولے، "آپ لوگ تو بڑے مزے کی باتیں کر رہے ہیں، اور ہنس ہنس کر پاگل ہو رہے ہیں، ہمیں آپ کے ساتھ سیلفی لینی ہے۔”

پرانے دوست واقعی پرانی شراب سے زیادہ نشیلے اور زیادہ خطرناک ہوتے ہیں—فرق صرف یہ ہے کہ ان کے ساتھ ہینگ اوور نہیں ہوتا، بلکہ ایک نئی تازگی، ایک نئی توانائی، اور ایک عجیب سی خوشی دل میں اترتی ہے۔

پرانے دوست کمبخت آپ کی ایسی ایسی باتوں سے واقف ہوتے ہیں جنہیں آپ خود بھی یاد نہیں رکھنا چاہتے۔ ان کے پاس آپ کے رازوں کی فائلز ہوتی ہیں، اور آپ کے پاس ان کے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے محبت بھی کرتے ہیں اور تھوڑا سا ڈرتے بھی ہیں—جیسے دو ایٹمی طاقتیں امن کے معاہدے پر دستخط کر کے بھی انگلیاں نیوکلیئر بٹن پر رکھے بیٹھی ہوں۔

خیر یہ تو ایک مذاق کی بات ہے اگرچہ سچ ہے ، لیکن حقیقت ہے کہ پرانے دوست آپ کو آئینہ دکھاتے ہیں—وہ آئینہ جس میں آپ کے جوان دنوں کی شبیہ محفوظ ہوتی ہے۔ وہ جب کہتے ہیں، "یار تو تو بالکل نہیں بدلا”، تو اس کو اچھی طرح جاننے کے باوجود وہ پیارا لگنے لگتا ہے۔

کچھ دوست ایسے بھی ہیں جو دنیا کے کسی کونے میں جا بسے ہیں، مگر جیسے ہی فون پر پہلی ہیلو ہوتی ہے، تو نہ فاصلہ باقی رہتا ہے نہ وقت۔ ایک لمحے میں سب بیتے سال گھل کر ایک قہقہے میں ڈھل جاتے ہیں۔

جب میرے پرانے دوست میرے گھر آتے ہیں یا میں ان سے ملتا ہوں، تو دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے پرانی روح کو نیا بدن مل گیا ہو (چاہے بدن ڈینٹنگ پینٹنگ سے ہی مزین کیوں نہ ہو)۔

پرانے دوستوں کی ایک بڑی خاص بات یہ بھی ہے کہ چاہے وہ روز روز ملیں یا برسوں بعد اچانک آ ملیں، وہ نہ کبھی یہ پوچھتے ہیں اور نہ ہی سوچتے ہیں کہ کون آج کل کہاں ہے، کس کا بینک بیلنس زیادہ ہے۔ نہ کوئی اس بارے میں بات کرتا ہے، نہ کسی کے ذہن میں یہ خیال آتا ہے۔ نہ کسی کا وزن، نہ کسی کا لباس، نہ کسی کی گاڑی، نہ کسی کی تنخواہ—ان سب باتوں کی وہاں کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ وہ صرف دوست ہوتے ہیں، وہی پرانے اسکول کالج کے—بےفکری، بےساختگی اور خالص محبت والے۔ اور یہی تو دوستی کی سب سے بڑی خوبی ہے!

پرانے دوست اللہ کی ایک نعمت ہیں۔ دعا ہے کہ سب دوست سلامت رہیں، ملتے رہیں، ہنستے رہیں۔ خاص طور پر جب آپ پچاس کا ہندسہ عبور کر لیں تو یہ دوست صرف دوست نہیں رہتے، ٹانک بن جاتے ہیں۔ اور خدا گواہ ہے، آج کل اصلی ٹانک کتنے مہنگے ہو گئے ہیں کہ خرید سے باہر ہیں—اس لیے ان دوستوں کا ٹانک ہی ٹھیک ہے، فری بھی اور زود اثر بھی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے