خدا کی اِس سرزمین پر انبیائے کرامؑ سے بڑھ کر کوئی صبر کرنے والا کائنات نے نہیں دیکھا۔ مگر جب اِنہیں صابر ہستیوں میں سے حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام لاپتہ ہو گئے، تو اُن کے باپ، جو صبر کا پہاڑ تھے، نے بھی اپنی بے چینی اور اضطراب کا اظہار خدا کے سامنے کیا۔
اِس کا اندازہ قرآنِ حکیم کی اُن آیات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جن میں اللہ نے خود حضرت یعقوب علیہ السلام کی بے قراری کو بیان کیا ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی یہ بے چینی اُن تمام والدین کی ترجمانی کرنے کے لیے کافی ہے جن کے بچوں کو برسوں سے لاپتہ کیا گیا ہو۔ حتیٰ کہ ایک نبی کی بے چینی و اضطراب کا یہ عالم ہے کہ خُود خُداوندِ کریم نے اُسے اپنے عظیم کلام میں جگہ دی، جو اُس غم کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔
قرآنِ مجید میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے اپنے بیٹے یوسف علیہ السلام کے فراق میں تڑپتے دل کی یوں تصویر کشی کی گئی ہے:
سورۃ یوسف (آیات 84، 85، 86):
وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ (84) قَالُوا تَاللَّهِ تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينَ (85) قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ (86)
ترجمہ:
"(84) اور وہ اُن سے منہ پھیر کر رو پڑے اور کہنے لگے: ‘ہائے میرا یوسف!’ اور غم کے مارے اُن کی آنکھیں سفید ہوگئیں، اور وہ گھٹنے لگے۔ (85) (اُن کے بیٹوں نے) کہا: ‘خدا کی قسم! آپ یوسف ہی کا ذکر کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ بیمار پڑ جائیں گے یا جان سے ہی چلے جائیں گے۔’ (86) اُنہوں نے جواب دیا: ‘میں اپنی پریشانی اور غم صرف اللہ ہی سے بیان کرتا ہوں، اور میں اُس کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے” ۔