پاکستان میں غربت کا گھمبیر مسئلہ اور چھوٹے یا درمیانی کاروباروں کے ذریعے اس پر قابو پانے کی حکمت عملی

قومی زندگی کے منظر نامے میں، میری عقل و نظر نے آج تک غربت سے زیادہ کریہہ مصیبت کوئی اور نہیں دیکھی۔ انسانی برادری کے لیے غربت سے بڑھ کر کوئی اور مصیبت ہو ہی نہیں سکتی، انسانی تہذیب و تمدن اور خوشی و مسرت پر غربت ہمیشہ مصیبت بن کر ٹوٹ پڑتی ہے۔ انسانی سماج نے آغاز سے لے کر اب تک غربت سے بڑھ کر کسی مسئلے کا سامنا نہیں کیا۔ انسانی صلاحیتوں پر غربت سے بڑھ کر کسی بوجھ کا تصور ہی ممکن نہیں۔ غربت تمام مصیبتوں کی جڑ، تمام تر پسماندگیوں کی ماں اور 75 فیصد جرائم کے لیے قوت محرکہ کا کام کر رہی ہے۔ سب سے عقلمند انسان اور قوم وہ ہے جو غربت پر قابو پا کر خوشحالی اپنے خاندان یا معاشرے میں لے آئے، گرد و پیش میں سب سے طاقتور لوگ وہ قرار پاتے ہیں جن کے ہاتھوں غربت کو شکست پاش مل جائے اور سب سے بہتر پوزیشن پر وہ لوگ ہیں کہ جتنے زیادہ غربت کی تپش اور اثرات سے دور ہو۔

پاکستان ان ملکوں کی فہرست میں سر فہرست ہے۔ جہاں غربت اور محرومی اہم چیلنجز کے طور پر موجود ہیں، لیکن زیادہ دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک، معاشرے اور افراد نے غربت سے گویا ایک ازلی و ابدی اتحاد کیا ہے اور کسی بھی دائرے کی سوچ اور عزائم میں غربت سے نجات کے لیے کوئی جذبہ یا پروگرام دکھائی نہیں دے رہا۔ کوئی اس کو تقدیر کا لکھا سمجھ رہے ہیں، کوئی اس کو حالات کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، کوئی غربت سے نکلنے کے لیے تصورات کی دنیا میں لامتناہی انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں نتیجتاً قومی یا سماجی زندگی میں خوشحالی کی روشنی آتی ہے نہ ہی غربت کے اندھیروں سے نجات نصیب ہوتی ہے۔ لوگ نسل در نسل غربت میں جی کر قبروں میں پہنچ جاتے ہیں لیکن خوشحالی کے لیے کسی کوشش یا آغاز کا حصہ نہیں بنتے۔ لوگ اگر اپنی سوچ اور اپروچ میں ذرا تبدیلی لا کر انفرادی طور پر ہمت سے کام لیں اور اجتماعی طور پر اپنی مدد آپ کے تحت کاروبار دوست ماحول بنانے میں تگ و دو شروع کر دیں تو یقین کریں غربت کو شکست دے کر ایک خوشحال زندگی کی شروعات زیادہ مشکل نہیں۔ آغاز کے طور پر چھوٹے چھوٹے کاروبار غربت کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

چھوٹے کاروبار معاشی ترقی، روزگار کی فراہمی اور غربت میں کمی کے لیے گویا انجن کے طور پر کام کرتے ہیں۔ غریب مگر باہمت افراد اگر کام کے لیے آمادگی دکھائے، سستی اور کاہلی پر قابو پا لیں اور ان ذہنی، سماجی اور نفسیاتی بندھنوں سے نکلے جو خوشحال طبقوں سے روابط بڑھانے میں رکاوٹ ہے تو یقین کریں یہ تبدیلی کا سنگ میل ہے۔ اس کے علاؤہ ایک خیر خواہانہ مزاج، جدت طرازانہ انداز اور شراکت دارانہ کاروباری ماحول کو فروغ دے کر، پہلے چھوٹے کاروبار آغاز کریں، پھر درمیانی درجے کے کاروباروں کو پیش قدمی کر لیں اور بالآخر بڑے بڑے تجارتی اور صنعتی منصوبوں میں ہاتھ ڈالیں تو یقین کریں ہمارا ملکی، معاشی اور سماجی منظر نامہ یکسر بدل جائے گا اور ہم خوشحالی، امن، سکون اور تہذیب و شائستگی کی نعمتوں سے بہرہ مند ہوں جائیں گے۔ یاد رکھیں چھوٹے مگر پائیدار معاشی یونٹس تشکیل دینے سے ہم دور رس، معاشی ترقی اور سماجی بہبود کو یقینی بناسکتے ہیں۔ اسلامی فقہ میں ایک کاروباری ماڈل کا نقشہ موجود ہے جس کو عام طور پر مضاربت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے معاشی اور معاشرتی منظر نامے میں یہ ایک نہایت کامیاب اور موثر ماڈل ثابت ہو سکتا ہے بس حکومت، صاحب ثروت لوگ اور عام افراد اس کے لیے آمادگی اور خلوص کا مظاہرہ کریں اور بس۔

آئیے پاکستان کے تناظر میں غربت اور پسماندگی کو شکست دینے کے لیے چھوٹے چھوٹے کاروباری ماڈلز پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ان میں کہاں کہاں، کیا کیا امکانات میسر ہیں۔

پاکستان میں چھوٹے چھوٹے کاروباروں کے لیے ایک اہم چیلنج مالیات تک محدود رسائی ہے۔ لوگ چھوٹے کاروباروں کو شروع کرنے کے لیے مناسب سرمایہ حاصل کرنے کے تلاش میں رہتے ہیں۔ حکومتیں، صاحب ثروت افراد اور مالیاتی ادارے اگر چھوٹے کاروباروں کی ضروریات کے مطابق گرانٹس اور قرضے فراہم کرنے کے لیے مل کر کام کریں تو اس سے چھوٹے کاروباری افراد اپنے کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے، نت نئے ملازمتیں پیدا کرنے اور اپنی آمدنی بڑھانے کے قابل ہوں جائیں گے۔ بالعموم چھوٹے کاروبار شروع کرنے والوں کے پاس ایک کامیاب کاروبار چلانے کے لیے ضروری مہارتوں کی کمی ہوتی ہے۔ اگر انہیں حکومت اور دوسرے متعلقہ ادارے کاروباری انتظام، مارکیٹنگ اور مالیاتی منصوبہ بندی جیسے شعبوں میں مختصر تربیتی پروگرامز فراہم کریں تو ایسے کاروباری افراد کو اپنی صلاحیتیں بڑھانے اور اپنے کاروبار کو ترقی دینے میں مدد میسر آئے گی۔

ٹیکنالوجی کو اپنانے سے چھوٹے کاروباروں کو اپنی کارکردگی بڑھانے، اخراجات کم کرنے اور نت نئی منڈیوں تک پہنچنے میں مدد مل سکتی ہے۔ پاکستان میں، جہاں انٹرنیٹ کی رسائی تیزی سے بڑھ رہی ہے، چھوٹے کاروبار اپنے آپریشنز کو ہموار رکھنے، اپنے کسٹمرز کو رسائی بڑھانے اور مارکیٹ میں زیادہ مؤثر طریقے سے کام کرنے کے لیے ڈیجیٹل ٹولز اور پلیٹ فارمز سے موثر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ چھوٹے کاروبار اکثر بڑی مارکیٹوں سے جڑنے اور بڑے خریداروں کے ساتھ معاہدوں کو ممکن بنانے کے لیے مواقع کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ دوسرے کاروباروں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنا، صنعتی یونینز میں شامل ہونا اور باقاعدہ تجارتی نمائشوں میں حصہ لینے جیسے اقدامات چھوٹے کاروباری اداروں کو نئے مواقع تک رسائی اور اپنے کاروبار بڑھانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

سماجی اور فلاحی مقاصد کو اپنے کاروباری ماڈلز میں ضم کر کے، چھوٹے کاروباری ادارے خوش گوار منافع کما کر اہم سماجی مسائل کو بھی حل کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں چھوٹے کاروباری منصوبے اگر تعلیم، صحت، مہمان نوازی اور قابل تجدید توانائی جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کریں تو نہ صرف معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے بلکہ غربت میں خاطر خواہ کمی بھی آ سکی گی۔ چھوٹے کاروباری افراد دوسرے اسٹیک ہولڈرز جیسا کہ سرکاری اداروں، صاحب ثروت افراد، فلاحی تنظیموں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت داری سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ربط و ضبط بڑھانے اور دوسری کاروباری نمائشی سرگرمیاں چھوٹے کاروباری افراد کو بڑے شراکت داروں، سرمایہ کاروں اور صارفین کے ساتھ جڑنے میں مطلوبہ مدد کرنے کے علاؤہ جدت، وسعت اور ترقی کو بھی فروغ دے سکتی ہیں۔

پاکستان کی زرعی معیشت زراعت اور زرعی کاروبار میں چھوٹے کاروباروں کے لیے مواقع اگرچہ فراہم کر رہی ہے لیکن یہ ضرورت کے مطابق نہیں۔ آرگینک فارمنگ اور ڈیری پروڈکشن سے لے کر ویلیو ایڈڈ فوڈ پروسیسنگ اور ایکسپورٹ پر مبنی باغبانی تک، زرعی کاروباری ادارے دیہی علاقوں میں نہ صرف روزگار کے مناسب مواقع پیدا کر سکتے ہیں بلکہ غذائی تحفظ اور معاشی ترقی میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ملک میں ای کامرس کے عروج نے چھوٹے کاروباروں کے لیے ملک بھر اور اس سے باہر کے صارفین تک پہنچنے کے لیے نئے امکانات پیدا کر دئیے ہیں۔ آن لائن بازار، جیسے دراز اور علی بابا، چھوٹے خوردہ فروشوں کو اپنی مصنوعات کی نمائش اور اپنی فروخت کو بڑھانے کے لیے تیز اور وسیع پلیٹ فارمز فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان اپنے متنوع مناظر، بھرپور ثقافتی ورثے اور گرم جوشی کے ساتھ مہمان نوازی کے جذبے سے، سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبوں میں چھوٹے کاروباروں کے لیے بے پناہ امکانات دستیاب ہیں۔ گیسٹ ہاؤسز اور ٹور آپریٹرز سے لے کر دستکاری کی دکانوں اور مقامی گائیڈز تک، چھوٹے چھوٹے کاروباری ادارے ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کو نہ صرف بے شمار خدمات فراہم کر سکتے ہیں بلکہ نت نئے روزگار کے مواقع بھی پیدا کر سکتے ہیں اس کے علاؤہ دور دراز کے علاقوں میں معاشی ترقی کو فروغ دے سکتے ہیں۔ ٹیکسٹائل کی صنعت پاکستان کی معیشت کا سنگ بنیاد ہے، جو لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہے اور برآمدی آمدنی میں نمایاں حصہ دار ہے۔ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی مینوفیکچرنگ کے چھوٹے چھوٹے کاروبار عالمی سپلائی چینز میں شامل ہو کر نہ صرف اعلیٰ معیار کے کپڑے اور ٹیکسٹائل مصنوعات تیار کر سکتے ہیں بلکہ شہری و دیہی علاقوں میں محنت کشوں کے لیے پائیدار معاشی مواقع پیدا بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

پاکستان توانائی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجوں سے نبرد آزما چلا آ رہا ہے، قابل تجدید توانائی کے حل میں چھوٹے کاروبار، توانائی کے ذرائع کی طرف منتقلی میں کلیدی شراکت دار کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ مثلاً سولر پینل سپلائرز اور ونڈ ٹربائن مینوفیکچررز صنعتی اور گھریلو توانائی کی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں۔ توانائی سیکٹر میں چھوٹے بڑے کاروباروں کے لیے لامحدود مواقع موجود ہیں بس عقل اور سرمائے کو حرکت دینے کی دیر ہے بس۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے